🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب من استعاذ من الدين:
باب: قرض سے اللہ کی پناہ مانگنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2397
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ. ح وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ، وَيَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنَ الْمَغْرَمِ؟ قَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ، فَكَذَبَ، وَوَعَدَ، فَأَخْلَفَ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی، وہ زہری سے روایت کرتے ہیں (دوسری سند) ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے محمد بن ابی عتیق نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عروہ نے بیان کیا، اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دعا کرتے تو یہ بھی کہتے اے اللہ! میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ قرض سے اتنی پناہ مانگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ جب آدمی مقروض ہوتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کر کے اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستقراض/حدیث: 2397]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥محمد بن عبد الله التيمي
Newمحمد بن عبد الله التيمي ← محمد بن شهاب الزهري
مقبول
👤←👥سليمان بن بلال القرشي، أبو محمد، أبو أيوب
Newسليمان بن بلال القرشي ← محمد بن عبد الله التيمي
ثقة
👤←👥عبد الحميد بن أبي أويس الأصبحي، أبو بكر
Newعبد الحميد بن أبي أويس الأصبحي ← سليمان بن بلال القرشي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي أويس الأصبحي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي أويس الأصبحي ← عبد الحميد بن أبي أويس الأصبحي
صدوق يخطئ
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← إسماعيل بن أبي أويس الأصبحي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر
Newشعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ متقن
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان
Newالحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2397
الرجل إذا غرم حدث فكذب ووعد فأخلف
سنن النسائى الصغرى
5456
من غرم حدث فكذب ووعد فأخلف
سنن النسائى الصغرى
5474
إذا غرم حدث فكذب ووعد فأخلف
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2397 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2397
حدیث حاشیہ:
(1)
تاوان میں پڑنے کی کئی صورتیں ہیں:
مثلاً:
مقروض ہو گیا، محتاج ہو گیا یا کسی مالی مشکل میں پھنس گیا۔
جب آدمی اس طرح کی صورتِ حال سے دوچار ہو جائے تو قرض خواہ سے کہتا ہے آپ فکر نہ کریں، انتظام ہو گیا ہے، اتنے دنوں تک آپ کی رقم ادا کر دی جائے گی، لیکن اسے پورا نہیں کر پاتا بلکہ وعدہ خلافی اس کا معمول بن جاتی ہے، ایسے انسان کی امانت و دیانت اور صداقت وغیرہ مجروح ہو جاتی ہے۔
(2)
حضرت مہلب فرماتے ہیں:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ان ذرائع سے بھی پناہ مانگنی چاہیے جو انسان کے لیے گناہ اور وعدہ خلافی کا باعث بنیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض سے اس لیے پناہ مانگی ہے کہ یہ جھوٹ اور وعدہ خلافی کا ذریعہ ہے، دوسرا اس سے ذلت و رسوائی اور قرض خواہ کی طرف سے ڈانٹ ڈپٹ ہوتی ہے۔
(فتح الباري: 77/5)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2397]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5456
قرض اور معصیت (گناہ) سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرض اور معصیت (گناہ) سے پناہ مانگتے تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ قرض سے بہت پناہ مانگتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو قرض دار ہو گا وہ بولے گا تو جھوٹ بولے گا اور وعدہ کرے گا تو وعدہ خلافی کرے گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5456]
اردو حاشہ:
خلاف ورزی کرتا ہے کیونکہ یہ اس کی مجبوری ہوتی ہے اس کے پاس ادائیگی کے لیے کچھ نہیں ہوتا مگر جان چھڑانے کے لیے اسے جان بوجھ کر جھوٹ بولنا پڑتا ہے اور ممکن وعدہ کرنا پڑتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہاں قرض سے مطلق یا معمولی قرض مراد نہیں بلکہ وہ بھاری قرض ہے جس کی ادائیگی اس کے لیے نا ممکن بن جائے۔ اس روایت میں گناہ سے مراد بھی وہ گناہ ہے جو انسان جان بوجھ کر دھڑلے سے کرے‘ یا اس سے مراد وہ گناہ ہے جو قرض کے نتیجے میں مقروض کو کرنا پڑتا ہے جیسا کہ ابھی گزرا۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5456]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5474
قرض سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرض اور معصیت (گناہ) سے کثرت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے، آپ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ قرض اور معصیت (گناہ) سے کثرت سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: آدمی جب مقروض ہوتا ہے تو جب باتیں کرتا ہے جھوٹ بولتا ہے، اور جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5474]
اردو حاشہ:
دیکھیے، روایت: 5456۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5474]