🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب تقويم الأشياء بين الشركاء بقيمة عدل:
باب: مشترک چیزوں کی انصاف کے ساتھ ٹھیک قیمت لگا کر اسی شریکوں میں بانٹنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2492
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَعْتَقَ شَقِيصًا مِنْ مَمْلُوكِهِ فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ فِي مَالِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ قُوِّمَ الْمَمْلُوكُ قِيمَةَ عَدْلٍ، ثُمَّ اسْتُسْعِيَ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ".
ہم سے بشیر بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو سعید بن ابی عروبہ نے خبر دی، انہیں قتادہ نے، انہیں نضر بن انس نے، انہیں بشیر بن نہیک نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنے مال سے غلام کو پوری آزادی دلا دے۔ لیکن اگر اس کے پاس اتنا مال نہیں ہے تو انصاف کے ساتھ غلام کی قیمت لگائی جائے۔ پھر غلام سے کہا جائے کہ (اپنی آزادی کی) کوشش میں وہ باقی حصہ کی قیمت خود کما کر ادا کر لے۔ لیکن غلام پر اس کے لیے کوئی دباو نہ ڈالا جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الشركة/حدیث: 2492]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥بشير بن نهيك السدوسي، أبو الشعثاء
Newبشير بن نهيك السدوسي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥النضر بن أنس الأنصاري، أبو مالك
Newالنضر بن أنس الأنصاري ← بشير بن نهيك السدوسي
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← النضر بن أنس الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥بشر بن محمد السختياني، أبو محمد
Newبشر بن محمد السختياني ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
صدوق رمي بالإرجاء
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2504
من أعتق شقصا له في عبد أعتق كله إن كان له مال إلا يستسعي غر مشقوق عليه
صحيح البخاري
2492
من أعتق شقيصا من مملوكه عليه خلاصه في ماله فإن لم يكن له مال قوم المملوك قيمة عدل استسعي غير مشقوق عليه
صحيح البخاري
2527
من أعتق نصيبا أو شقيصا في مملوك فخلاصه عليه في ماله إن كان له مال وإلا قوم عليه استسعي به غير مشقوق عليه
صحيح مسلم
3772
في المملوك بين الرجلين فيعتق أحدهما
صحيح مسلم
3773
من أعتق شقصا له في عبد خلاصه في ماله إن كان له مال لم يكن له مال استسعي العبد غير مشقوق عليه
صحيح مسلم
4333
من أعتق شقيصا له في عبد خلاصه في ماله إن كان له مال لم يكن له مال استسعي العبد غير مشقوق عليه
صحيح مسلم
4331
المملوك بين الرجلين فيعتق أحدهما
جامع الترمذي
1348
من أعتق نصيبا أو قال شقصا في مملوك فخلاصه في ماله كان له مال فإن لم يكن له مال قوم قيمة عدل يستسعى في نصيب الذي لم يعتق غير مشقوق عليه
سنن أبي داود
3937
من أعتق شقيصا في مملوكه فعليه أن يعتقه كله إن كان له مال استسعي العبد غير مشقوق عليه
سنن أبي داود
3938
من أعتق شقصا له أو شقيصا له في مملوك خلاصه عليه في ماله إن كان له مال إن لم يكن له مال قوم العبد قيمة عدل ثم استسعي لصاحبه في قيمته غير مشقوق عليه
سنن ابن ماجه
2527
من أعتق نصيبا له في مملوك أو شقصا عليه خلاصه من ماله إن كان له مال إن لم يكن له مال استسعي العبد في قيمته غير مشقوق عليه
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2492 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2492
حدیث حاشیہ:
یعنی ایسی تکلیف نہ دیں جس کا وہ تحمل نہ کرسکے جب وہ باقی حصوں کی قیمت ادا کردے گا تو آزاد ہوجائے گا۔
ابن بطال ؒنے کہا شرکاءمیں تقسیم کرتے وقت ان کی قطع نزاع کے لیے قرعہ ڈالنا سنت ہے اور تمام فقہاءاس کے قائل ہیں۔
صرف کوفہ کے بعض فقہاءنے اس سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ قرعہ ازلام کی طرح ہے جس کی ممانعت قرآن میں وارد ہے۔
حضرت امام ابوحنیفہ ؒ نے بھی اس کو جائز رکھا ہے۔
دوسری صحیح حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں جاتے وقت اپنی بیویوں کے لیے قرعہ ڈالتے، جس کے نام نکلتا اس کو ساتھ لے جاتے۔
آج کل تو قرعہ اس قدر عام ہے کہ سفر حج کے لیے بھی حاجیوں کے نام قرعہ اندازی سے چھانٹے جاتے ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2492]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2492
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒ کا مقصود غلام کی آزادی سے متعلق مسائل و احکام بیان کرنا نہیں بلکہ اس مقام پر یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اگر کوئی چیز دو یا زیادہ آدمیوں کے درمیان مشترک ہے اور ان میں سے کوئی اپنی کسی مجبوری کے پیش نظر الگ ہونا چاہتا ہے تو اس کی مجبوری سے ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جائے بلکہ عدل و انصاف کے مطابق اس چیز کی قیمت لگا کر اس کا حصہ الگ کر دیا جائے جیسا کہ ان احادیث میں مشترکہ غلام کی عدل و انصاف کے مطابق قیمت لگانے کی تلقین کی گئی ہے۔
(2)
ان احادیث کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو ضروری ہے کہ وہ اپنے مال سے غلام کو پورا آزاد کرائے۔
اگر اس کے پاس اتنا مال نہیں ہے تو غلام خود اس بات کی کوشش کرے کہ وہ باقی حصہ ادا کرنے میں اس کا مددگار بنے، لیکن اس سلسلے میں غلام پر تشدد نہ کیا جائے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2492]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3938
جس شخص کے نزدیک آزاد کرنے والا مفلس ہو تو غلام سے محنت کرائی جائے اس کی دلیل کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو اگر وہ مالدار ہے تو اس پر اس کی مکمل خلاصی لازم ہو گی اور اگر وہ مالدار نہیں ہے تو غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی پھر اس قیمت میں دوسرے شریک کے حصہ کے بقدر اس سے اس طرح محنت کرائی جائے گی کہ وہ مشقت میں نہ پڑے (یہ علی کے الفاظ ہیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3938]
فوائد ومسائل:
اس حدیث میں ترغیب ہے کہ اپنا حصہ آزاد کر نے والا باقی بھی آزاد کر کے مکمل فضیلت حاصل کرے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3938]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2527
ساجھے کا غلام ہو اور ساجھی دار اپنا حصہ آزاد کر دے تو ایسے غلام کا حکم۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی کسی (مشترک) غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دے، تو اس کی ذمہ داری ہے کہ اگر اس کے پاس مال ہو تو اپنے مال سے اس کو مکمل آزاد کرائے، اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غلام سے باقی ماندہ قیمت کی ادائیگی کے لیے مزدوری کرائے، لیکن اس پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2527]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ایک غلام ایک سے زیادہ افرد کا مملوک ہوسکتا ہے مثلاً:
ایک شخص کے پاس ایک غلام تھا وہ فوت ہوا تو اس کے دو بیٹے اس وارث ہوگئے یہ ونوں اس کی ملکیت میں برابر شریک ہیں۔
یا چند افراد نے رقم ملا کرخرید لیا تو یہ ان کی مشترکہ ملکیت ہو گا۔

(2)
مشترکہ غلام کا ایک مالک اپنا حصہ آزاد کردے تو باقی حصہ خود بخود آزاد نہیں ہوگا۔

(3)
اس صورت میں آزاد کرنے والے کو چاہیے کہ غلام کی جائز قیمت میں سے اس کے شریکو ں کا جو حصہ ہے انھیں ادا کرکے غلام کا باقی حصہ بھی خرید کر آزادکردے تاکہ غلام کی آزادی مکمل کی ہوجائے۔

(4)
دوسری صورت یہ ہے کہ اس آدھے غلام کو موقع دیا جائے کہ وہ کما کراپنی آدھی قیمت اپنے مالک کو ادا کردے جس نے اپنے حصے کا غلام آزاد نہیں کیا۔

(5)
اس غلام پر جلد آدائیگی کے لیے ناجائز سختی کرنا منع ہے بلکہ جس طرح مقروض کو مہلت دی جاتی ہے اسے بھی مناسب مہلت دی جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2527]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3773
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دیا، تو اس کو آزاد اس کے مال سے کیا جائے گا اگر وہ مال دار ہے اگر اس کے پاس مال نہیں ہے، تو غلام سے محنت و مزدوری (کمائی) کرائی جائے گی لیکن اس کو مشقت میں نہیں ڈالا جائے گا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3773]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
شِقْصٌ:
حصہ،
اس کو شقیص بھی کہتے ہیں۔
(2)
اُسْتُسْعِي:
اس سے محنت ومزدوری کروائی جائے گی،
تاکہ دوسرے حصہ دار کے حصہ کی رقم اس کو ادا کر دی جائے۔
(3)
غَيْرِ مَشْقُوقٌ عَلَيه:
بغیر اس کے کہ اس کو مشقت اور کلفت میں ڈالا جائے،
آسانی اور سہولت سے وہ کما کردےدے۔
فوائد ومسائل:
اگر ایک غلام میں ایک سے زائد حصہ دار ہیں اور ان میں سے ایک اپنا حصہ آزاد کر دیتا ہے تو باقی حصہ کے بارے میں کیا ہوگا،
اس کے بارے میں مشہور اقوال تین ہیں۔

امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اگر مشترک غلام میں اپنا حصہ آزاد کرنے والا مال دار ہے تو اس کا حصہ آزاد ہو گیا۔
اور اس کے شریک کو اختیار ہے،
چاہے تو اپنا حصہ آزاد کر دے،
یا غلام سے محنت و مزدوری کروا کر اپنے حصہ کو منصفانہ قیمت وصول کر لے اور غلام مکاتب کے حکم میں ہو گا اور ان دونوں صورتوں میں ولاء (نسبت)
حصہ داروں میں مشترک ہو گی،
یا آزاد کرنے والے کو باقی حصہ کا ضامن ٹھہرایا جائے گا،
اور اس سے عادلانہ قیمت وصول کر لی جائے گی۔
اور ولاء صرف آزاد کرنے والے کے لیے ہوگی۔
اگر آزاد کرنے والا مال دار نہیں ہے تو مذکورہ پانچ صورتوں پر عمل ہوگا۔
امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کےنزدیک اگر آزاد کرنے والا مال دار ہے تو پورا غلام آزاد ہو جائے گا۔
اور وہ دوسرے حصہ دار کو عادلانہ قیمت ادا کرنے کا ذمہ دار ہو گا۔
اور اگر وہ غریب ہے تو رقم غلام سے محنت و مزدوری کروا کر ادا کرے گا۔
اور دونوں صورتوں میں ولاء کا حق دار وہی ہو گا۔

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ،
کےنزدیک اگر اپنا حصہ آزاد کرنے والا مال دار ہے تو غلام پورا آزاد ہو جائے گا،
اور وہ اپنے شریک کو اس کے حصہ کی منصفانہ قیمت دے گا۔
اور اگر غریب ہے تو غلام کا اتنا حصہ آزاد ہو گا۔
جتنا اس نے آزاد کیا ہے،
باقی حصہ غلام ہے اور شریک اس سے اپنے حصہ کے بقدر خدمت اور کام لے سکے گا۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا موقف بھی یہی ہے صرف اتنا فرق ہے کہ ان کے نزدیک مال دار ہونے کی صورت میں جب وہ اپنے حصہ دار کو رقم ادا کردے گا،
تو اس کے بعد غلام مکمل آزاد ہوگا،
محض ضمانت پر آزاد نہیں ہو گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3773]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2504
2504. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جس نے کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کردیا تو وہ کُل کا کُل آزاد ہوجائے گا بشرط یہ کہ آزاد کرنے والے کے پاس اور مال ہو، بصورت دیگر غلام سے کہا جائے گا کہ تم محنت کرو لیکن اس سلسلے میں اسے مشقت میں نہ ڈالا جائے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2504]
حدیث حاشیہ:
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ غلام میں شراکت کر سکتی ہے کیونکہ اپنے حصے کے مطابق غلام آزاد کرنا صحت ملک پر مبنی ہے، اگر اس کا مالک نہ ہو تو آزاد نہیں کر سکتا۔
اپنے حصے کو آزاد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں اور بھی شرکاء ہوں گے۔
دیگر مسائل عتق آئندہ بیان ہوں گے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2504]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2527
2527. حضرت ابوہریرہ ؓ ہی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے مشترک غلام کااپنا حصہ آزاد کردیا تو غلام کی آزادی اس کے مال سے ہوگی بشرط یہ کہ وہ صاحب حیثیت ہو، بصورت دیگر غلام کی قیمت تجویز کی جائے گی، پھر غلام کومشقت میں ڈالے بغیر اس سے مزدوری کرائی جائے (تاکہ شرکاء کو ان کاحصہ دیاجائے)۔ حجاج بن حجاج، ابان اور موسیٰ بن خلف نے قتادہ سے روایت کرنے میں سعید کی متابعت کی ہے، نیز شعبہ نے اس حدیث کو اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2527]
حدیث حاشیہ:
اس عنوان کا مقصد یہ ہے کہ غلام پر خواہ مخواہ جبر نہ کیا جائے۔
اگر اس سے محنت مزدوری نہ ہو سکے تو جتنا حصہ آزاد ہوا اتنا آزاد رہے گا، باقی حصے میں بدستور غلامی رہے گی۔
دراصل امام بخاری ؒ اس باب کی دو مختلف روایات میں تطبیق دینا چاہتے ہیں۔
متعارض روایات حسب ذیل ہیں:
٭ اگر آزاد کرنے والا مال دار نہیں ہے تو غلام جتنا آزاد ہوا اتنا ہی آزاد رہے گا۔
٭ اگر آزاد کرنے والا صاحب حیثیت نہیں تو غلام سے مزدوری کرائی جائے لیکن اسے مشقت میں نہ ڈالا جائے۔
تطبیق کی صورت یہ ہے کہ جب غلام محنت و مزدوری کے قابل نہ ہو اور آزاد کرنے والا بھی نادار ہو تو غلام کو جس قدر آزادی ملی ہے، اتنی ہی رہے گی اور جب آزاد کنندہ صاحب حیثیت نہ ہو اور غلام محنت و مزدوری کے قابل ہو تو اس سے مزدوری لے کر باقی شرکاء کو ان کے حصے کے مطابق قیمت ادا کی جائے گی۔
چونکہ غلامی کا تعلق ہماری عملی زندگی سے نہیں ہے، اس لیے ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2527]