🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب ما جاء في العبد يكون بين الرجلين فيعتق أحدهما نصيبه
باب: دو آدمیوں کے درمیان مشترک غلام کا بیان جس میں سے ایک اپنے حصہ کو آزاد کر دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1348
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ , أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا , أَوْ قَالَ شِقْصًا فِي مَمْلُوكٍ , فَخَلَاصُهُ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ , فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ , قُوِّمَ قِيمَةَ عَدْلٍ , ثُمَّ يُسْتَسْعَى فِي نَصِيبِ الَّذِي لَمْ يُعْتَقْ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ نَحْوَهُ , وَقَالَ: شَقِيصًا , قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَهَكَذَا رَوَى أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ قَتَادَةَ مِثْلَ رِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ , وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ , عَنْ قَتَادَةَ , وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ أَمْرَ السِّعَايَةِ , وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي السِّعَايَةِ , فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ السِّعَايَةَ فِي هَذَا , وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , وَأَهْلِ الْكُوفَةِ , وَبِهِ يَقُولُ إِسْحَاق , وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِذَا كَانَ الْعَبْدُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ , فَإِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ غَرِمَ نَصِيبَ صَاحِبِهِ , وَعَتَقَ الْعَبْدُ مِنْ مَالِهِ , وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ , عَتَقَ مِنَ الْعَبْدِ مَا عَتَقَ , وَلَا يُسْتَسْعَى , وَقَالُوا بِمَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهَذَا قَوْلُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ , وَبِهِ يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , وَالشَّافِعِيُّ , وَأَحْمَدُ , وَإِسْحَاق.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا تو باقی حصے کی آزادی بھی اسی کے مال سے ہو گی اگر اس کے پاس مال ہے، اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو اس غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی، پھر غلام کو پریشانی میں ڈالے بغیر اسے موقع دیا جائے گا کہ وہ کمائی کر کے اس شخص کا حصہ ادا کر دے جس نے اپنا حصہ آزاد نہیں کیا ہے۔ محمد بن بشار سے بھی ایسے ہی روایت ہے اور اس میں «شقصاً» کے بجائے «شقیصا» ۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اور اسی طرح ابان بن یزید نے قتادہ سے سعید بن ابی عروبہ کی حدیث کے مثل روایت کی ہے،
۳- اور شعبہ نے بھی اس حدیث کو قتادہ سے روایت کیا ہے اور اس میں انہوں نے اس سے آزادی کے لیے کمائی کرانے کا ذکر نہیں کیا ہے،
۴- سعایہ (کمائی کرانے) کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض اہل علم نے اس بارے میں سعایہ کو جائز کہا ہے۔ اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے، اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں،
۵- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے،
۶- اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ جب غلام دو آدمیوں میں مشترک ہو اور ان میں سے ایک اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر اس کے پاس مال ہو تو وہ اپنے ساجھی دار کے حصے کا تاوان ادا کرے گا اور غلام اسی کے مال سے آزاد ہو جائے گا، اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو غلام کو جتنا آزاد کیا گیا ہے اتنا آزاد ہو گا، اور باقی حصہ کی آزادی کے لیے اس سے کمائی نہیں کرائی جائے گی۔ اور ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کی رو سے یہ بات کہی ہے، اور یہی اہل مدینہ کا بھی قول ہے۔ اور مالک بن انس، شافعی اور احمد بھی اسی کے قائل ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1348]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشرکة 5 (2492)، 14 (2504)، والعتق 5 (2527)، صحیح مسلم/العتق 1 (1503)، سنن ابی داود/ العتق 4 (3934)، و5 (3937)، سنن ابن ماجہ/العتق 7 (2527)، (تحفة الأشراف: 12211)، و مسند احمد (2/426، 472) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2527)
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطابثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥أبان بن يزيد العطار، أبو يزيد
Newأبان بن يزيد العطار ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← أبان بن يزيد العطار
ثقة حافظ
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
👤←👥أبو هريرة الدوسي
Newأبو هريرة الدوسي ← محمد بن بشار العبدي
صحابي
👤←👥بشير بن نهيك السدوسي، أبو الشعثاء
Newبشير بن نهيك السدوسي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥النضر بن أنس الأنصاري، أبو مالك
Newالنضر بن أنس الأنصاري ← بشير بن نهيك السدوسي
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← النضر بن أنس الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ
👤←👥عيسى بن يونس السبيعي، أبو محمد، أبو عمرو
Newعيسى بن يونس السبيعي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة مأمون
👤←👥علي بن خشرم المروزي، أبو الحسن
Newعلي بن خشرم المروزي ← عيسى بن يونس السبيعي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2504
من أعتق شقصا له في عبد أعتق كله إن كان له مال إلا يستسعي غر مشقوق عليه
صحيح البخاري
2492
من أعتق شقيصا من مملوكه عليه خلاصه في ماله فإن لم يكن له مال قوم المملوك قيمة عدل استسعي غير مشقوق عليه
صحيح البخاري
2527
من أعتق نصيبا أو شقيصا في مملوك فخلاصه عليه في ماله إن كان له مال وإلا قوم عليه استسعي به غير مشقوق عليه
صحيح مسلم
3772
في المملوك بين الرجلين فيعتق أحدهما
صحيح مسلم
3773
من أعتق شقصا له في عبد خلاصه في ماله إن كان له مال لم يكن له مال استسعي العبد غير مشقوق عليه
صحيح مسلم
4333
من أعتق شقيصا له في عبد خلاصه في ماله إن كان له مال لم يكن له مال استسعي العبد غير مشقوق عليه
صحيح مسلم
4331
المملوك بين الرجلين فيعتق أحدهما
جامع الترمذي
1348
من أعتق نصيبا أو قال شقصا في مملوك فخلاصه في ماله كان له مال فإن لم يكن له مال قوم قيمة عدل يستسعى في نصيب الذي لم يعتق غير مشقوق عليه
سنن أبي داود
3937
من أعتق شقيصا في مملوكه فعليه أن يعتقه كله إن كان له مال استسعي العبد غير مشقوق عليه
سنن أبي داود
3938
من أعتق شقصا له أو شقيصا له في مملوك خلاصه عليه في ماله إن كان له مال إن لم يكن له مال قوم العبد قيمة عدل ثم استسعي لصاحبه في قيمته غير مشقوق عليه
سنن ابن ماجه
2527
من أعتق نصيبا له في مملوك أو شقصا عليه خلاصه من ماله إن كان له مال إن لم يكن له مال استسعي العبد في قيمته غير مشقوق عليه
Sunan at-Tirmidhi Hadith 1348 in Urdu