🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب من ملك من العرب رقيقا فوهب وباع وجامع وفدى وسبى الذرية:
باب: اگر عربوں پر جہاد ہو اور کوئی ان کو غلام بنائے پھر ہبہ کرے یا عربی لونڈی سے جماع کرے یا فدیہ لے یہ سب باتیں درست ہیں یا بچوں کو قید کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2541
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ فَكَتَبَ إِلَيَّ،" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَغَارَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ، وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَى عَلَى الْمَاءِ، فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ وَسَبَى ذَرَارِيَّهُمْ وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَةَ". حَدَّثَنِي بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ.
ہم سے علی بن حسن نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو ابن عون نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نافع رحمہ اللہ کو لکھا تو انہوں نے مجھے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق پر جب حملہ کیا تو وہ بالکل غافل تھے اور ان کے مویشی پانی پی رہے تھے۔ ان کے لڑنے والوں کو قتل کیا گیا، عورتوں بچوں کو قید کر لیا گیا۔ انہیں قیدیوں میں جویریہ رضی اللہ عنہا (ام المؤمنین) بھی تھیں۔ (نافع رحمہ اللہ نے لکھا تھا کہ) یہ حدیث مجھ سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کی تھی، وہ خود بھی اسلامی فوج کے ہمراہ تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب العتق/حدیث: 2541]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عبد الله بن عون المزني، أبو عون
Newعبد الله بن عون المزني ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← عبد الله بن عون المزني
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥علي بن الحسن العبدي، أبو عبد الرحمن
Newعلي بن الحسن العبدي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2541
أغار على بني المصطلق وهم غارون وأنعامهم تسقى على الماء فقتل مقاتلتهم وسبى ذراريهم وأصاب يومئذ جويرية
صحيح مسلم
4519
الدعاء قبل القتال قال فكتب إلي إنما كان ذلك في أول الإسلام قد أغار رسول الله على بني المصطلق وهم غارون وأنعامهم تسقى على الماء فقتل مقاتلتهم وسبى سبيهم وأصاب يومئذ
بلوغ المرام
1088
بني المصطلق وهم غارون فقتل مقاتلتهم وسبى ذراريهم
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2541 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2541
حدیث حاشیہ:
حضرت جویریہ ؓ حارث بن ابی ضرار کی بیٹی تھیں۔
ان کا باپ بنی مصطلق کا سردار تھا۔
کہتے ہیں پہلے یہ ثابت بن قیس کے حصے میں آئیں۔
انہوں نے ان کو مکاتب کردیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کتابت ادا کرکے ان سے نکاح کرلیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کرلینے کی وجہ سے لوگوں نے بنی مصطلق کے کل قیدیوں کو آزاد کردیا، اس خیال سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار ہوگئے۔
(وحیدی)
بنومصطلق عرب قبیلہ تھا جسے غلام بنایاگیا تھا۔
اسی سے باب کی مطابقت ثابت ہوئی کہ عربوں کو بھی لونڈی غلام بنایا جاسکتا ہے۔
اگر وہ کافر ہوں اور اسلامی حکومت کے مقابلہ پر لڑنے کو آئیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2541]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2541
حدیث حاشیہ:
(1)
بنو مصطلق ایک عرب قبیلہ ہے جسے غلام بنایا گیا۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ عربوں کو بھی لونڈی غلام بنایا جا سکتا ہے جبکہ وہ کافر ہوں اور اسلامی حکومت کے مقابلے میں لڑنے کے لیے آئیں اور یہی بات راجح ہے، تاہم بعض اہل علم کا موقف ہے کہ عربوں کی شرافت کے پیش نظر انہیں لونڈی غلام نہ بنایا جائے۔
(2)
اس حدیث سے عربوں کی اولاد کو قیدی بنانا ثابت ہوا۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جویریہ ؓ سے نکاح کر لیا تو صحابۂ کرام ؓ نے بنو مصطلق کے تمام قیدیوں کو آزاد کر دیا کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرالی رشتے میں منسلک ہو چکے تھے۔
رضي الله عنهم أجمعين
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2541]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1088
(جہاد کے متعلق احادیث)
سیدنا نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق پر شب خون مارا تو اس وقت یہ لوگ بےخبر و غافل تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لڑائی کرنے والوں کو قتل کیا اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لیا۔ یہ مجھ سے عبداللہ بن عمر نے بیان کیا۔ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1088»
تخریج:
«أخرجه البخاري، العتق، باب من ملك من العرب رقيقا فوهب وباع...، حديث:2541، ومسلم، الجهاد والسير، باب جواز الإغارة علي الكفار...، حديث:1730.»
تشریح:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع موصول ہوئی کہ یہ لوگ آپ سے جنگ کرنا چاہتے ہیں تو آپ نے انھیں راتوں رات جا لیا اور ایسا شب خون مارا کہ ان کے دس آدمی قتل کر دیے اور باقی سب مردوں اور عورتوں کو قید کر لیا‘ ان میں سے کوئی ایک بھی پیچھے نہ چھوڑا۔
اس لڑائی میں مسلمانوں کا صرف ایک آدمی شہید ہوا۔
اسی معرکہ میں حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا قید ہوئیں۔
یہ دراصل حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئی تھیں۔
حضرت ثابت رضی اللہ عنہ نے ان سے مکاتبت کر لی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جویریہ کی مکاتبت خود ادا فرما کر ان سے شادی کر لی۔
جب لوگوں نے سنا کہ آپ نے جویریہ کو اپنے حرم میں داخل فرما لیا ہے تو لوگوں نے ان کے قیدیوں کو آزاد کر دیا۔
ان کی شادی کی وجہ سے ان کے اہل خانہ کے سو افراد آزاد ہوئے کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرال بن گئے تھے۔
چنانچہ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا اپنی قوم کے لیے بہت بابرکت ثابت ہوئیں۔
یہی وہ غزوہ ہے جس میں واقعۂ افک رونما ہوا۔
اس واقعے کی کچھ تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1088]