صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب العبد إذا أحسن عبادة ربه ونصح سيده:
باب: جب غلام اپنے رب کی عبادت بھی اچھی طرح کرے اور اپنے آقا کی خیر خواہی بھی تو اس کے ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 2546
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"الْعَبْدُ إِذَا نَصَحَ سَيِّدَهُ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ، كَانَ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے امام مالک سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”غلام جو اپنے آقا کا خیرخواہ بھی ہو اور اپنے رب کی عبادت بھی اچھی طرح کرتا ہو تو اسے دوگنا ثواب ملتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب العتق/حدیث: 2546]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← نافع مولى ابن عمر | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥عبد الله بن مسلمة الحارثي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن مسلمة الحارثي ← مالك بن أنس الأصبحي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2550
| إذا نصح العبد سيده وأحسن عبادة ربه كان له أجره مرتين |
صحيح البخاري |
2546
| العبد إذا نصح سيده وأحسن عبادة ربه كان له أجره مرتين |
صحيح مسلم |
4318
| العبد إذا نصح لسيده وأحسن عبادة الله فله أجره مرتين |
سنن أبي داود |
5169
| العبد إذا نصح لسيده وأحسن عبادة الله فله أجره مرتين |
موطا امام مالك رواية ابن القاسم |
479
| إن العبد إذا نصح لسيده واحسن عبادة ربع فله اجره مرتين |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2546 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2546
حدیث حاشیہ:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں مالکوں کو اپنے لونڈی غلاموں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی ہدایت فرمائی وہاں لونڈی غلاموں کو بھی احسن طریق پر سمجھایا کہ وہ اسلامی فرائض کی ادائیگی کے بعد اپنا اہم فریضہ اپنے مالکوں کی خیرخواہی ان کو نفع رسانی سمجھیں۔
مالک اور آقا کے بھی حقوق ہیں۔
ان کے ساتھ وفاداری کے ساتھ زندگی گزاریں۔
ان کے لیے ضرر رسانی کا کبھی تصور بھی نہ کریں۔
وہ ایسا کریں گے تو ان کو دوگنا ثواب ملے گا۔
فرائض اسلامی کی ادائیگی کا ثواب اور اپنے مالک کی خدمت کا ثواب، اسی دوگنے ثواب کا تصور تھا جس پر حضرت ابوہریرہ ؓ نے وہ تمنا ظاہر فرمائی جو اگلی روایت میں مذکورہ ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں مالکوں کو اپنے لونڈی غلاموں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی ہدایت فرمائی وہاں لونڈی غلاموں کو بھی احسن طریق پر سمجھایا کہ وہ اسلامی فرائض کی ادائیگی کے بعد اپنا اہم فریضہ اپنے مالکوں کی خیرخواہی ان کو نفع رسانی سمجھیں۔
مالک اور آقا کے بھی حقوق ہیں۔
ان کے ساتھ وفاداری کے ساتھ زندگی گزاریں۔
ان کے لیے ضرر رسانی کا کبھی تصور بھی نہ کریں۔
وہ ایسا کریں گے تو ان کو دوگنا ثواب ملے گا۔
فرائض اسلامی کی ادائیگی کا ثواب اور اپنے مالک کی خدمت کا ثواب، اسی دوگنے ثواب کا تصور تھا جس پر حضرت ابوہریرہ ؓ نے وہ تمنا ظاہر فرمائی جو اگلی روایت میں مذکورہ ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2546]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2546
حدیث حاشیہ:
مذکورہ غلام کو دوہرا ثواب اس لیے دیا جاتا ہے کہ وہ دو حق ادا کرتا ہے۔
اس پر اشکال وارد ہوتا ہے کہ اس اعتبار سے سادات کا اجر کم اور ممالیک کا زیادہ ہو گا؟ اس کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
یہ بھی ممکن ہے کہ غلاموں کا ثواب اس جہت سے زیادہ اور سادات کا دوسری جہات سے زیادہ ہو جائے۔
یہ جواب بھی دیا گیا ہے کہ حدیث کے مطابق اس عبد (غلام)
کو فوقیت دی جا رہی ہے جو دونوں کے حقوق ادا کرتا ہو بخلاف اس غلام کے جو صرف ایک حق ادا کرتا ہے، یعنی اس میں غلام کے ثواب کا موازنہ اس جیسے غلام سے ہے نہ کہ دوسرے آزاد لوگوں سے۔
مالک کی خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے آقا کی فلاح وبہبود کا ارادہ کرے، تعلقات کو خیانت اور دھوکے سے پاک رکھے۔
واللہ أعلم
مذکورہ غلام کو دوہرا ثواب اس لیے دیا جاتا ہے کہ وہ دو حق ادا کرتا ہے۔
اس پر اشکال وارد ہوتا ہے کہ اس اعتبار سے سادات کا اجر کم اور ممالیک کا زیادہ ہو گا؟ اس کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
یہ بھی ممکن ہے کہ غلاموں کا ثواب اس جہت سے زیادہ اور سادات کا دوسری جہات سے زیادہ ہو جائے۔
یہ جواب بھی دیا گیا ہے کہ حدیث کے مطابق اس عبد (غلام)
کو فوقیت دی جا رہی ہے جو دونوں کے حقوق ادا کرتا ہو بخلاف اس غلام کے جو صرف ایک حق ادا کرتا ہے، یعنی اس میں غلام کے ثواب کا موازنہ اس جیسے غلام سے ہے نہ کہ دوسرے آزاد لوگوں سے۔
مالک کی خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے آقا کی فلاح وبہبود کا ارادہ کرے، تعلقات کو خیانت اور دھوکے سے پاک رکھے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2546]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 479
دوہرے اجر کے مستحق غلام
«. . . 250- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”إن العبد إذا نصح لسيده وأحسن عبادة ربع فله أجره مرتين.“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب غلام اپنے آقا کے لئے خیر خواہی کرتا ہے اور احسن طریقے سے اپنے رب کی عبادت کرتا ہے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 479]
«. . . 250- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”إن العبد إذا نصح لسيده وأحسن عبادة ربع فله أجره مرتين.“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب غلام اپنے آقا کے لئے خیر خواہی کرتا ہے اور احسن طریقے سے اپنے رب کی عبادت کرتا ہے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 479]
تخریج الحدیث: [وأخرجه البخاري 2546، ومسلم 43/1664، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ اسلام میں سابقہ غلامی کی اجازت ہے لیکن یہ ترغیب دی گئی ہے کہ غلاموں کو آزاد کر دیا جائے۔ اس طرح سے غلامی کا بتدریج خاتمہ ہو جاتا ہے۔
➋ جو شخص کسی (مسلمان) کے پاس نوکری کر رہا ہو تو اسے چاہئے کہ ہر وقت اپنے آقا اور افسر کی خیر خواہی اور حسنِ سلوک میں مصروف رہے اور اپنی زندگی کو کتاب وسنت کے قالب میں ڈھال کر رکھے۔
➌ درج بالا حدیث میں مذکور غلام اس آزاد سے افضل ہے جو اپنے آقا کی فرماں برداری میں کوتاہی برتے۔
➍ ایک جلیل القدر غلام کا تذکرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا اس سے حسنِ سلوک پیشِ خدمت ہے:
ایک دفعہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ مدینے کی بعض نواحی بستیوں میں تشریف لے گئے، کھانے کا وقت ہوا تہ آپ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ دستر خوان بچھا لیا، دیکھا کہ ایک چرواہا بکریاں چرا رہا ہے، اسے بلا کر فرمایا: ہمارے ساتھ کھانا کھاؤ، وہ بولا: میرا روزہ ہے، آپ سخت حیران ہوئے کہ اتنی گرمی میں روزہ رکھتے ہو؟ وہ بولا: میں ان دنوں کو (مرنے کے بعد والی زندگی کے لئے) غنیمت سمجھتا ہوں، عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہ) نے اس کا امتحان لینے کے لئے پوچھا: ایک بکری ہمیں بیچ دو، وہ بولا: یہ بکریاں میری نہیں ہیں بلکہ مالک کی ہیں۔
آپ نے (بطور امتحان) فرمایا: مالک کو کہہ دینا کہ بھیڑیا بکری کو کھا گیا ہے۔ اس چرواہے نے جواب دیا: پھر اللہ کہاں ہے؟ یعنی اللہ دیکھ رہا ہے، آپ اتنے خوش ہوئے کہ اس غلام کو اس کے مالک سے خرید کر آزاد کردیا اور بکریاں بھی خرید کر اس کے حوالے کر دیں۔ [تاريخ دمشق ملخصاً 33/89 وسنده حسن]
تفقه:
➊ اسلام میں سابقہ غلامی کی اجازت ہے لیکن یہ ترغیب دی گئی ہے کہ غلاموں کو آزاد کر دیا جائے۔ اس طرح سے غلامی کا بتدریج خاتمہ ہو جاتا ہے۔
➋ جو شخص کسی (مسلمان) کے پاس نوکری کر رہا ہو تو اسے چاہئے کہ ہر وقت اپنے آقا اور افسر کی خیر خواہی اور حسنِ سلوک میں مصروف رہے اور اپنی زندگی کو کتاب وسنت کے قالب میں ڈھال کر رکھے۔
➌ درج بالا حدیث میں مذکور غلام اس آزاد سے افضل ہے جو اپنے آقا کی فرماں برداری میں کوتاہی برتے۔
➍ ایک جلیل القدر غلام کا تذکرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا اس سے حسنِ سلوک پیشِ خدمت ہے:
ایک دفعہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ مدینے کی بعض نواحی بستیوں میں تشریف لے گئے، کھانے کا وقت ہوا تہ آپ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ دستر خوان بچھا لیا، دیکھا کہ ایک چرواہا بکریاں چرا رہا ہے، اسے بلا کر فرمایا: ہمارے ساتھ کھانا کھاؤ، وہ بولا: میرا روزہ ہے، آپ سخت حیران ہوئے کہ اتنی گرمی میں روزہ رکھتے ہو؟ وہ بولا: میں ان دنوں کو (مرنے کے بعد والی زندگی کے لئے) غنیمت سمجھتا ہوں، عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہ) نے اس کا امتحان لینے کے لئے پوچھا: ایک بکری ہمیں بیچ دو، وہ بولا: یہ بکریاں میری نہیں ہیں بلکہ مالک کی ہیں۔
آپ نے (بطور امتحان) فرمایا: مالک کو کہہ دینا کہ بھیڑیا بکری کو کھا گیا ہے۔ اس چرواہے نے جواب دیا: پھر اللہ کہاں ہے؟ یعنی اللہ دیکھ رہا ہے، آپ اتنے خوش ہوئے کہ اس غلام کو اس کے مالک سے خرید کر آزاد کردیا اور بکریاں بھی خرید کر اس کے حوالے کر دیں۔ [تاريخ دمشق ملخصاً 33/89 وسنده حسن]
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 250]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5169
مالک کے خیرخواہ غلام کے ثواب کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب غلام اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اللہ کی عبادت اچھے ڈھنگ سے کرے تو اسے دہرا ثواب ملے گا۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5169]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب غلام اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اللہ کی عبادت اچھے ڈھنگ سے کرے تو اسے دہرا ثواب ملے گا۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5169]
فوائد ومسائل:
صاحب ایمان غلام اور ماتحت کو چاہیے کہ اپنے مالک اور اپنے بڑے کو خیر کی بات کہنے میں نہ بخیلی بنے اور نہ ہچکچائے اس میں بہت بڑا ثواب ہے۔
اور مالک کو بھی چاہیے کہ غلام اور خادم کی نصیحت پرناک بھوں نہ چڑھائے۔
بلکہ اس کو قدر اور تسکین کی نگاہ سے دیکھے اور ایسے غلام اور خادم کو اپنا حقیقی خیر خواہ سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ نیکی کرے۔
اور حسن سلوک سے پیش آئے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
(هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ) (الرحمٰن۔
60) احسان کا بدلہ احسان ہے۔
صاحب ایمان غلام اور ماتحت کو چاہیے کہ اپنے مالک اور اپنے بڑے کو خیر کی بات کہنے میں نہ بخیلی بنے اور نہ ہچکچائے اس میں بہت بڑا ثواب ہے۔
اور مالک کو بھی چاہیے کہ غلام اور خادم کی نصیحت پرناک بھوں نہ چڑھائے۔
بلکہ اس کو قدر اور تسکین کی نگاہ سے دیکھے اور ایسے غلام اور خادم کو اپنا حقیقی خیر خواہ سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ نیکی کرے۔
اور حسن سلوک سے پیش آئے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
(هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ) (الرحمٰن۔
60) احسان کا بدلہ احسان ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5169]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2550
2550. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جب کوئی غلام اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اپنے رب کی عبادت احسن انداز سے بجالائے تو اسے دوگنا ثواب ملتا ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2550]
حدیث حاشیہ:
روایت میں لفظ عبد اور سید استعمال ہوئے ہیں یہی مقصود باب ہے۔
روایت میں لفظ عبد اور سید استعمال ہوئے ہیں یہی مقصود باب ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2550]
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي