🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب اليمين على المدعى عليه، فى الأموال والحدود:
باب: دیوانی اور فوجداری دونوں مقدموں میں مدعیٰ علیہ سے قسم لینا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2668
وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ، كَلَّمَنِي أَبُو الزِّنَادِ فِي شَهَادَةِ الشَّاهِدِ وَيَمِينِ الْمُدَّعِي، فَقُلْتُ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَنْ تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى سورة البقرة آية 282، قُلْتُ: إِذَا كَانَ يُكْتَفَى بِشَهَادَةِ شَاهِدٍ وَيَمِينِ الْمُدَّعِي، فَمَا تَحْتَاجُ أَنْ تُذْكِرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى مَا كَانَ يَصْنَعُ بِذِكْرِ هَذِهِ الْأُخْرَى.
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مدعی سے) فرمایا کہ تم اپنے دو گواہ پیش کرو ورنہ مدعیٰ علیہ کی قسم پر فیصلہ ہو گا۔ قتیبہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے (کوفہ کے قاضی) ابن شبرمہ نے بیان کیا کہ (مدینہ کے قاضی) ابوالزناد نے مجھ سے مدعی کی قسم کے ساتھ صرف ایک گواہ کی گواہی کے (نافذ ہو جانے کے) بارے میں گفتگو کی تو میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «واستشهدوا شهيدين من رجالكم فإن لم يكونا رجلين فرجل وامرأتان ممن ترضون من الشهداء أن تضل إحداهما فتذكر إحداهما الأخرى» اور تم اپنے مردوں میں سے دو گواہ کر لیا کرو پھر اگر دونوں مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں، جن گواہوں سے کہ تم مطمئن ہو، تاکہ اگر کوئی ایک ان دو میں سے بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلا دے۔ میں نے کہا کہ اگر مدعی کی قسم کے ساتھ صرف ایک گواہ کی گواہی کافی ہوتی تو پھر یہ فرمانے کی کیا ضرورت تھی کہ اگر ایک بھول جائے تو دوسری اس کو یاد دلا دے۔ دوسری عورت کے یاد دلانے سے فائدہ ہی کیا ہے؟ [صحيح البخاري/كتاب الشهادات/حدیث: Q2668]
 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2668
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كَتَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے نافع بن عمر نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لکھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعیٰ علیہ کے لیے قسم کھانے کا فیصلہ کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الشهادات/حدیث: 2668]
حضرت ابن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے خط لکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ قسم مدعی علیہ کے ذمے ہوگی۔ [صحيح البخاري/كتاب الشهادات/حدیث: 2668]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عبد الله بن أبي مليكة القرشي، أبو محمد، أبو بكر
Newعبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥نافع بن عمر الجمحي، أبو معشر
Newنافع بن عمر الجمحي ← عبد الله بن أبي مليكة القرشي
ثقة ثبت
👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم
Newالفضل بن دكين الملائي ← نافع بن عمر الجمحي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2668
قضى باليمين على المدعى عليه
صحيح مسلم
4472
بيمين وشاهد
سنن أبي داود
3608
قضى بيمين وشاهد
سنن أبي داود
3619
قضى باليمين على المدعى عليه
سنن ابن ماجه
2370
بالشاهد واليمين
بلوغ المرام
1208
ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قضى بيمين وشاهد
المعجم الصغير للطبراني
1151
قضى باليمين مع الشاهدين
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2668 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2668
حدیث حاشیہ:
(1)
حدیث میں ہے کہ گواہ پیش کرنے کی ذمہ داری مدعی پر ہے، اگر وہ گواہ پیش نہ کر سکے تو انکار کرنے والے سے قسم لے کر فیصلہ ہو گا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مدعا علیہ پر ہر حال میں قسم اٹھانا ہی لازم ہے بشرطیکہ مدعی کے پاس گواہ نہ ہو، خواہ مدعی اور مدعا علیہ میں میل جول اور تعلق ہو یا نہ ہو۔
(2)
امام مالک ؒ کہتے ہیں:
مدعا علیہ سے اس وقت قسم لی جائے گی جب دونوں میں معاملات کا تبادلہ اور دیگر لین دین ہو ورنہ ہر شخص کسی شریف آدمی کو قسم اٹھانے پر مجبور کرتا رہے گا، خواہ اس پر جھوٹا دعویٰ ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
امام بخاری ؒ کا موقف ہے کہ دیوانی یا فوجداری دونوں قسم کے مقدمات میں مدعا علیہ سے قسم لی جائے گی کیونکہ احادیث میں اس کے متعلق کوئی فرق نہیں ہے، انہیں اپنے عموم پر رکھا جائے گا۔
ہمارا رجحان بھی اسی طرف ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2668]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4472
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اور گواہ کی بنیاد پر فیصلہ فرمایا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4472]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر مدعی اپنے دعویٰ پر ایک گواہ پیش کر دے اور دوسرے گواہ کی جگہ قسم اٹھاوے تو اس کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے گا،
ائمہ حجاز (مالک،
شافعی،
احمد)
اس کے قائل ہیں،
خلفائے راشدین اور جمہور کا یہی نظریہ ہے اور حدیث مستقل حجت ہے قرآن مجید،
جس مسئلہ کے بارے میں ساکت (خاموش)
ہے،
وہ اخبار آحاد سے ثابت ہو سکتا ہے،
کیونکہ وہ نسخ نہیں ہے،
بیان ہے،
جیسا کہ خود علامہ تقی نے اس کو قبول کیا ہے اور علامہ عینی سے بھی نقل کیا ہے۔
(تکملہ،
ج 2،
ص 564-565)
اس لیے اس حدیث کو قرآن مجید کے معارض اور مخالف قرار دینا محض تقلید کا شاخسانہ ہے،
کیونکہ قرآن مجید نے نصاب شہادت میں تو دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کے بیان کی گواہی کا تذکرہ کیا ہے اور تیسری صورت ایک گواہ اور قسم سے خاموش ہے،
اس کو حدیث نے بیان کر دیا،
اس طرح شاہد اور یمین پر دلالت کرنے والی پانچ احادیث کو ضعیف قرار دینا سینہ زوری ہے،
اس لیے علامہ تقی نے تسلیم کیا ہے کہ لَا مَجَالا لِإِ نْكْار ثُبُوتِها،
ان کے ثبوت کے انکار کی گنجائش نہیں ہے،
تکملہ،
ج 2،
ص 564۔
اور یہ اخبار آحاد نہیں،
بلکہ بقول علامہ تقی احناف کی اصطلاح کی رو سے مشہور ہیں،
ص 563۔
اور احناف کے اصول کے مطابق خبر مشہور سے قرآنی نص کی تخصیص ہو سکتی ہے،
جبکہ جمہور ائمہ کے نزدیک تخصیص بیان ہے،
نسخ نہیں ہے اور خبر واحد سے تخصیص جائز ہے،
الوجیز،
ص 319 (الوجیز فی اصول الفقه)
الدکتور عبدالکریم زیدان۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4472]

Sahih Bukhari Hadith 2668 in Urdu