صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب لا يسأل أهل الشرك عن الشهادة وغيرها:
باب: مشرکوں کی گواہی قبول نہ ہو گی۔
حدیث نمبر: Q2685
وَقَالَ الشَّعْبِيُّ: لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ أَهْلِ الْمِلَلِ بَعْضِهِمْ عَلَى بَعْضٍ، لِقَوْلِهِ تَعَالَى: فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ سورة المائدة آية 14، وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا تُصَدِّقُوا أَهْلَ الْكِتَابِ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ، وَقُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ سورة البقرة آية 136 الْآيَةَ.
اور شعبی نے کہا کہ دوسرے دین والوں کی گواہی ایک دوسرے کے خلاف لینی جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ «فأغرينا بينهم العداوة والبغضاء» ”ہم نے ان میں باہم دشمنی اور بغض کو ہوا دے دی ہے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ اہل کتاب کی (ان مذہبی روایات میں) نہ تصدیق کرو اور نہ تکذیب بلکہ یہ کہہ لیا کرو کہ اللہ پر اور جو کچھ اس نے نازل کیا سب پر ہم ایمان لائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الشهادات/حدیث: Q2685]
حدیث نمبر: 2685
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، كَيْفَ تَسْأَلُونَ أَهْلَ الْكِتَابِ، وَكِتَابُكُمُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثُ الْأَخْبَارِ بِاللَّهِ تَقْرَءُونَهُ لَمْ يُشَبْ، وَقَدْ حَدَّثَكُمُ اللَّهُ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ بَدَّلُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ، وَغَيَّرُوا بِأَيْدِيهِمُ الْكِتَابَ، فَقَالُوا: هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا، أَفَلَا يَنْهَاكُمْ مَا جَاءَكُمْ مِنَ الْعِلْمِ عَنْ مُسَاءَلَتِهِمْ، وَلَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا مِنْهُمْ رَجُلًا قَطُّ يَسْأَلُكُمْ عَنِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْكُمْ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، یونس سے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا، اے مسلمانو! اہل کتاب سے کیوں سوالات کرتے ہو۔ حالانکہ تمہاری کتاب جو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے سب سے بعد میں نازل ہوئی ہے۔ تم اسے پڑھتے ہو اور اس میں کسی قسم کی آمیزش بھی نہیں ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ تو تمہیں پہلے ہی بتا چکا ہے کہ اہل کتاب نے اس کتاب کو بدل دیا، جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دی تھی اور خود ہی اس میں تغیر کر دیا اور پھر کہنے لگے یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے۔ ان کا مقصد اس سے صرف یہ تھا کہ اس طرح تھوڑی پونجی (دنیا کی) حاصل کر سکیں پس کیا جو علم (قرآن) تمہارے پاس آیا ہے وہ تم کو ان (اہل کتاب سے پوچھنے کو نہیں روکتا۔ اللہ کی قسم! ہم نے ان کے کسی آدمی کو کبھی نہیں دیکھا کہ وہ ان آیات کے متعلق تم سے پوچھتا ہو جو تم پر (تمہارے نبی کے ذریعہ) نازل کی گئی ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الشهادات/حدیث: 2685]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس | صحابي | |
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله عبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي | ثقة فقيه ثبت | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر يونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← يونس بن يزيد الأيلي | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥يحيى بن بكير القرشي، أبو زكريا يحيى بن بكير القرشي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
7363
| تسألون أهل الكتاب عن شيء وكتابكم الذي أنزل على رسول الله أحدث تقرءونه محضا لم يشب |
صحيح البخاري |
2685
| كيف تسألون أهل الكتاب وكتابكم الذي أنزل على نبيه أحدث الأخبار بالله تقرءونه لم يشب وقد حدثكم الله أن أهل الكتاب بدلوا ما كتب الله وغيروا بأيديهم الكتاب فقالوا هو من عند الله ليشتروا به ثمنا قليلا أفلا ينهاكم ما جاءكم |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2685 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2685
حدیث حاشیہ:
اسلام نے ثقہ عادل گواہ کے لیے جو شرائط رکھی ہیں۔
ایک غیرمسلم کا ان کے معیار پر اترنا ناممکن ہے۔
اس لیے علی العموم اس کی گواہی قابل قبول نہیں۔
حضرت امام بخاری ؒ اسی مسلک کے دلائل بیان فرمارہے ہیں۔
یہ امر دیگر ہے کہ امام وقت حاکم مجاز کسی غیرمسلم کی گواہی اس بنا پر قبول کرے کہ بعض دوسرے مستند قرائن سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہو۔
جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود چار یہودیوں کی گواہی پر ایک یہودی مرد اور یہودی عورت کو زنا کے جرم میں سنگساری کا حکم دیا تھا۔
بہرحال قاعدہ کلیہ رہی ہے جو حضرت امام نے بیان فرمایا ہے۔
اسلام نے ثقہ عادل گواہ کے لیے جو شرائط رکھی ہیں۔
ایک غیرمسلم کا ان کے معیار پر اترنا ناممکن ہے۔
اس لیے علی العموم اس کی گواہی قابل قبول نہیں۔
حضرت امام بخاری ؒ اسی مسلک کے دلائل بیان فرمارہے ہیں۔
یہ امر دیگر ہے کہ امام وقت حاکم مجاز کسی غیرمسلم کی گواہی اس بنا پر قبول کرے کہ بعض دوسرے مستند قرائن سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہو۔
جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود چار یہودیوں کی گواہی پر ایک یہودی مرد اور یہودی عورت کو زنا کے جرم میں سنگساری کا حکم دیا تھا۔
بہرحال قاعدہ کلیہ رہی ہے جو حضرت امام نے بیان فرمایا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2685]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2685
حدیث حاشیہ:
(1)
اسلام نے ثقہ عادل گواہ کے لیے جو شرائط رکھی ہیں، ایک غیر مسلم کا ان کے معیار کے مطابق ہونا ممکن نہیں، اس لیے کسی کافر و مشرک کی گواہی قبول نہیں ہے۔
امام بخاری ؒ نے اس موقف کو ثابت کرنے کے لیے بڑے ٹھوس دلائل مہیا کیے ہیں۔
یہ الگ بات ہے کہ کوئی حاکم وقت کسی غیر مسلم کی گواہی اس بنا پر قبول کرے کہ دوسرے قابل اعتماد ذرائع سے اس کی تصدیق ہوتی تھی جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود چار یہودیوں کی گواہی پر یہودی مرد عورت کو زنا کے جرم میں رجم کیا تھا، البتہ ضابطہ وہی ہے جو امام بخاری ؒ نے بیان کیا ہے کہ کفار و مشرکین کی گواہی ناقابل قبول ہے۔
(2)
مذکورہ حدیث میں اہل کتاب سے سوال کرنے کی ممانعت ہے۔
چونکہ انہوں نے اللہ کی بھیجی ہوئی کتابوں کو بدلا، اس لیے ان کی خبریں قبول نہیں۔
جس کی خبر قبول نہیں تو اس سے گواہی کیسے لی جا سکتی ہے، اس لیے اہل کتاب کی گواہی غیر مقبول ہے۔
(فتح الباري: 359/5)
(1)
اسلام نے ثقہ عادل گواہ کے لیے جو شرائط رکھی ہیں، ایک غیر مسلم کا ان کے معیار کے مطابق ہونا ممکن نہیں، اس لیے کسی کافر و مشرک کی گواہی قبول نہیں ہے۔
امام بخاری ؒ نے اس موقف کو ثابت کرنے کے لیے بڑے ٹھوس دلائل مہیا کیے ہیں۔
یہ الگ بات ہے کہ کوئی حاکم وقت کسی غیر مسلم کی گواہی اس بنا پر قبول کرے کہ دوسرے قابل اعتماد ذرائع سے اس کی تصدیق ہوتی تھی جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود چار یہودیوں کی گواہی پر یہودی مرد عورت کو زنا کے جرم میں رجم کیا تھا، البتہ ضابطہ وہی ہے جو امام بخاری ؒ نے بیان کیا ہے کہ کفار و مشرکین کی گواہی ناقابل قبول ہے۔
(2)
مذکورہ حدیث میں اہل کتاب سے سوال کرنے کی ممانعت ہے۔
چونکہ انہوں نے اللہ کی بھیجی ہوئی کتابوں کو بدلا، اس لیے ان کی خبریں قبول نہیں۔
جس کی خبر قبول نہیں تو اس سے گواہی کیسے لی جا سکتی ہے، اس لیے اہل کتاب کی گواہی غیر مقبول ہے۔
(فتح الباري: 359/5)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2685]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7363
7363. سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: تم اہل کتاب سے کسی چیز کے متعلق کیوں پوچھتے ہو، حالانکہ کتاب جسے تم پڑھتے ہو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تازہ تازہ ہوئی ہے؟ نیز یہ خالص ہے اس میں کوئی ملاوٹ نہیں کی گئی اور اللہ تعالٰی نے تمہیں بتایا ہے کہ اہل کتاب نے کتاب الہیٰ کو بدل دیا ہے اور اس میں تغیر کر دیا ہے۔ انہوں نے ازخود اپنے ہاتھوں سے لکھا اور کہہ دیا: یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعے سے دنیا کا تھوڑا سا مال کمالیں۔ تمہارے پاس کو علم آیا ہے وہ تمہیں ان سے پوچھنے سے منع نہیں کرتا؟ اللہ کی قسم! میں نے نہیں دیکھا کہ اہل کتاب میں سے کوئی تم سے اس کے متعلق سوال کرتا ہو جوتم پر نازل کیا گیا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7363]
حدیث حاشیہ:
تمہارے پاس اللہ کا سچا کلام قرآن مجید موجود ہے اس کی شرح حدیث تمہارے پاس ہے پھر بڑے شرم کی بات ہے کہ تم ان سے پوچھو بہت سے علماء نے اس حدیث کے رو سے اور انجیل اور اگلی آسمانی کتابوں کا مطالعہ کرنا بھی مکروہ رکھا ہے کیونکہ اس میں تحریف اور تبدیلی۔
ایسا نہ ہو۔
ضعیف الایمان لوگوں کا اعتقاد بگڑ جائے لیکن جس شخص کو یہ ڈر نہ ہو اور وہ اہل کتاب سے مباحثہ کرنا چاہے اور اسلام پر جو اعتراضات وہ کرتے ہیں ان کا جواب دیتا ہو تو اس کے لیے مکروہ نہیں ہے بلکہ بلکہ اجر ہے۔
إنما الأعمالُ بِالنیاتِ۔
تمہارے پاس اللہ کا سچا کلام قرآن مجید موجود ہے اس کی شرح حدیث تمہارے پاس ہے پھر بڑے شرم کی بات ہے کہ تم ان سے پوچھو بہت سے علماء نے اس حدیث کے رو سے اور انجیل اور اگلی آسمانی کتابوں کا مطالعہ کرنا بھی مکروہ رکھا ہے کیونکہ اس میں تحریف اور تبدیلی۔
ایسا نہ ہو۔
ضعیف الایمان لوگوں کا اعتقاد بگڑ جائے لیکن جس شخص کو یہ ڈر نہ ہو اور وہ اہل کتاب سے مباحثہ کرنا چاہے اور اسلام پر جو اعتراضات وہ کرتے ہیں ان کا جواب دیتا ہو تو اس کے لیے مکروہ نہیں ہے بلکہ بلکہ اجر ہے۔
إنما الأعمالُ بِالنیاتِ۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7363]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7363
7363. سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: تم اہل کتاب سے کسی چیز کے متعلق کیوں پوچھتے ہو، حالانکہ کتاب جسے تم پڑھتے ہو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تازہ تازہ ہوئی ہے؟ نیز یہ خالص ہے اس میں کوئی ملاوٹ نہیں کی گئی اور اللہ تعالٰی نے تمہیں بتایا ہے کہ اہل کتاب نے کتاب الہیٰ کو بدل دیا ہے اور اس میں تغیر کر دیا ہے۔ انہوں نے ازخود اپنے ہاتھوں سے لکھا اور کہہ دیا: یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعے سے دنیا کا تھوڑا سا مال کمالیں۔ تمہارے پاس کو علم آیا ہے وہ تمہیں ان سے پوچھنے سے منع نہیں کرتا؟ اللہ کی قسم! میں نے نہیں دیکھا کہ اہل کتاب میں سے کوئی تم سے اس کے متعلق سوال کرتا ہو جوتم پر نازل کیا گیا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7363]
حدیث حاشیہ:
1۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقصد یہ ہے کہ اہل کتاب تو تمھارے دین کے بارے میں تم سے نہیں پوچھتے پھر تمھیں کیا مصیبت پڑی ہے کہ تم ان سے پوچھتے پھرتے ہو۔
تمھارے پاس اللہ تعالیٰ کا سچا کلام قرآن کی شکل میں موجود ہے۔
پھر اس کی شرح حدیث کی صورت میں تمھارے پاس ہے پھر بڑی شرم کی بات ہے کہ تم ان سے پوچھو۔
2۔
بہت سے علماء نے اس حدیث کے پیش نظر تورات وانجیل اور دیگر مذہبی کتابوں کا مطالعہ کرنا مکروہ قرار دیا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ کمزور ایمان والے لوگوں کا عقیدہ مزید خراب ہو جائے کیونکہ ان میں تحریف اور تبدیلی ہوئی ہے لیکن جس شخص کو یہ خطرہ نہ ہو اور اہل کتاب سے بحث مباحثہ کرنا چاہیے اور اسلام پر جو اعتراضات کیے جاتے ہیں ان کا جواب دینا مقصود ہو تو اس کے لیے بائیل کا مطالعہ کرنا مکروہ نہیں بلکہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں باعث اجرو ثواب ہوگا۔
واللہ أعلم۔
1۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقصد یہ ہے کہ اہل کتاب تو تمھارے دین کے بارے میں تم سے نہیں پوچھتے پھر تمھیں کیا مصیبت پڑی ہے کہ تم ان سے پوچھتے پھرتے ہو۔
تمھارے پاس اللہ تعالیٰ کا سچا کلام قرآن کی شکل میں موجود ہے۔
پھر اس کی شرح حدیث کی صورت میں تمھارے پاس ہے پھر بڑی شرم کی بات ہے کہ تم ان سے پوچھو۔
2۔
بہت سے علماء نے اس حدیث کے پیش نظر تورات وانجیل اور دیگر مذہبی کتابوں کا مطالعہ کرنا مکروہ قرار دیا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ کمزور ایمان والے لوگوں کا عقیدہ مزید خراب ہو جائے کیونکہ ان میں تحریف اور تبدیلی ہوئی ہے لیکن جس شخص کو یہ خطرہ نہ ہو اور اہل کتاب سے بحث مباحثہ کرنا چاہیے اور اسلام پر جو اعتراضات کیے جاتے ہیں ان کا جواب دینا مقصود ہو تو اس کے لیے بائیل کا مطالعہ کرنا مکروہ نہیں بلکہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں باعث اجرو ثواب ہوگا۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7363]
عبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي