صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب الوصايا:
باب: اس بارے میں وصیتیں ضروری ہیں۔
حدیث نمبر: 2741
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، قَالَ: ذَكَرُوا عِنْدَ عَائِشَةَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ وَصِيًّا، فَقَالَتْ" مَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ وَقَدْ كُنْتُ مُسْنِدَتَهُ إِلَى صَدْرِي، أَوْ قَالَتْ: حَجْرِي، فَدَعَا بِالطَّسْتِ، فَلَقَدِ انْخَنَثَ فِي حَجْرِي فَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ، فَمَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ".
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا ‘ کہ ہم کو اسماعیل بن علیہ نے خبر دی عبداللہ بن عون سے ‘ انہیں ابراہیم نخعی نے ‘ ان سے اسود بن یزید نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں کچھ لوگوں نے ذکر کیا کہ علی رضی اللہ عنہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے) وصی تھے تو آپ نے کہا کہ کب انہیں وصی بنایا۔ میں تو آپ کے وصال کے وقت سر مبارک اپنے سینے پر یا انہوں نے (بجائے سینے کے) کہا کہ اپنے گود میں رکھے ہوئے تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پانی کا) طشت منگوایا تھا کہ اتنے میں (سر مبارک) میری گود میں جھک گیا اور میں سمجھ نہ سکی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو چکی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو وصی کب بنایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوصايا/حدیث: 2741]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2741 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2741
حدیث حاشیہ:
حضرت عائشہ ؓ نے ایک خاص وصیت کا انکار کیا ہے کہ بیماری سے لے کر وفات تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہی پاس رہے اور آپ نے میری ہی گود میں انتقال فرمایا۔
اگر آپ نے حضرت علی ؓ کو وصی بنایا ہوتا یا آپ کو خلیفہ مقرر کیا ہوتا تو کم از کم مجھے اس کا علم ضرور ہوتا۔
اس بنا پر یہ پروپیگنڈا بے بنیاد ہے کہ حضرت علی ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی یا آپ کے نامزد خلیفہ ہیں۔
خود حضرت علی ؓ نے بھی اس مزعومہ وصیت کی پرزور تردید کی ہے۔
فرمایا:
اس ذات کی قسم جس نے دانہ اُگایا اور جان کو پیدا کیا! ہمارے پاس تو اللہ کی کتاب اور جو کچھ اس صحیفے میں ہے، ان کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے۔
(صحیح البخاري، الدیات، حدیث: 6915)
اس کے علاوہ حضرت علی ؓ نے اپنے لیے خلافت سے پہلے یا اس کے بعد کوئی دعویٰ نہیں کیا۔
اور سقیفہ کے دن بھی کسی نے اس وصیت کا اشارہ تک نہیں کیا۔
یہ محض رافضیوں کا بے بنیاد پروپیگنڈا ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں۔
حضرت عائشہ ؓ نے ایک خاص وصیت کا انکار کیا ہے کہ بیماری سے لے کر وفات تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہی پاس رہے اور آپ نے میری ہی گود میں انتقال فرمایا۔
اگر آپ نے حضرت علی ؓ کو وصی بنایا ہوتا یا آپ کو خلیفہ مقرر کیا ہوتا تو کم از کم مجھے اس کا علم ضرور ہوتا۔
اس بنا پر یہ پروپیگنڈا بے بنیاد ہے کہ حضرت علی ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی یا آپ کے نامزد خلیفہ ہیں۔
خود حضرت علی ؓ نے بھی اس مزعومہ وصیت کی پرزور تردید کی ہے۔
فرمایا:
اس ذات کی قسم جس نے دانہ اُگایا اور جان کو پیدا کیا! ہمارے پاس تو اللہ کی کتاب اور جو کچھ اس صحیفے میں ہے، ان کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے۔
(صحیح البخاري، الدیات، حدیث: 6915)
اس کے علاوہ حضرت علی ؓ نے اپنے لیے خلافت سے پہلے یا اس کے بعد کوئی دعویٰ نہیں کیا۔
اور سقیفہ کے دن بھی کسی نے اس وصیت کا اشارہ تک نہیں کیا۔
یہ محض رافضیوں کا بے بنیاد پروپیگنڈا ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2741]
الأسود بن يزيد النخعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق