🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب من ينكب فى سبيل الله:
باب: جس کو اللہ کی راہ میں تکلیف پہنچے (یعنی اس کے کسی عضو کو صدمہ ہو)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2802
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ فِي بَعْضِ الْمَشَاهِدِ وَقَدْ دَمِيَتْ إِصْبَعُهُ، فَقَالَ:" هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ".
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ‘ ان سے اسود بن قیس نے اور ان سے جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی لڑائی کے موقع پر موجود تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی زخمی ہو گئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلی سے مخاطب ہو کر فرمایا تیری حقیقت ایک زخمی انگلی کے سوا کیا ہے اور جو کچھ ملا ہے اللہ کے راستے میں ملا ہے (مولانا وحیدالزماں مرحوم نے ترجمہ یوں کیا ہے) ایک انگلی ہے تیری ہستی یہی۔۔۔ تو اللہ کی راہ میں زخمی ہوئی۔۔۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2802]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جندب بن عبد الله البجلي، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥الأسود بن قيس العبدي، أبو قيس
Newالأسود بن قيس العبدي ← جندب بن عبد الله البجلي
ثقة
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة
Newالوضاح بن عبد الله اليشكري ← الأسود بن قيس العبدي
ثقة ثبت
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← الوضاح بن عبد الله اليشكري
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2802
هل أنت إلا إصبع دميت وفي سبيل الله ما لقيت
صحيح مسلم
4654
هل أنت إلا إصبع دميت وفي سبيل الله ما لقيت
جامع الترمذي
3345
هل أنت إلا إصبع دميت وفي سبيل الله ما لقيت وأبطأ عليه جبريل فقال المشركون قد ودع محمد فأنزل الله ما ودعك ربك وما قلى
مسندالحميدي
794
هل أنت إلا إصبع دميت، وفي سبيل الله ما لقيت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2802 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2802
حدیث حاشیہ:
ایک انگلی ہے تیری ہستی یہی جو خدا کی راہ میں زخمی ہوئی
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2802]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2802
حدیث حاشیہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کو مخاطب ہوکرفرمایا:
تو صرف خون آلود ہوئی ہے،ہلاک نہیں ہوئی اور نہ ہی کٹ کر جسم سے علیحدہ ہوئی ہے،تیرا زخمی ہونا بھی اللہ کے راستے میں ہے۔

اس عنوان سے امام بخاری ؒ نے آئندہ باب میں پیش کردہ حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں خون آلودہ ہونے کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو اللہ کے راستے میں نکل کھڑا ہواور اسے گھوڑے نے گرادیا،یاکسی زہریلی چیز نے ڈس لیا یا کسی بیماری کی وجہ سے اسے موت آگئی تو اس کا شمار شہداء میں ہوگا۔
(سنن أبي داود، الجھاد، حدیث 2499)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2802]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3345
سورۃ والضحی سے بعض آیات کی تفسیر۔
جندب بجلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھا، آپ کی انگلی سے (کسی سبب سے) خون نکل آیا، اس موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو صرف ایک انگلی ہے جس سے خون نکل آیا ہے اور یہ سب کچھ جو تجھے پیش آیا ہے اللہ کی راہ میں پیش آیا ہے، راوی کہتے ہیں: آپ کے پاس جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں دیر ہوئی تو مشرکین نے کہا: (پروپگینڈہ کیا) کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) چھوڑ دئیے گئے، تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے (سورۃ والضحیٰ کی) آیت «ما ودعك ربك وما قلى» نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3345]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ بیزار ہوا ہے (الضحیٰ: 3) (وحی میں یہ تاخیرکسی وجہ سے ہوئی تھی)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3345]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:794
794- سیدنا جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں غاز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی مبارک زخمی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شعر پڑھا۔ تم صر ف ایک انگلی ہو، جو خون آلود ہوئی ہو تمہیں اللہ کی راہ میں اس صورت حال کا سامنا کرناپڑا ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:794]
فائدہ:
یہاں حدیث مختصر ہے جبکہ سنن ابی داود: 2499 میں اس میں اضافہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کو مخاطب کر کے فرمایا:
تو صرف خون آلود ہوئی ہے، ہلاک نہیں ہوئی اور نہ ہی کٹ کر جسم سے علیحدہ ہوئی ہے، تیرا زخمی ہونا بھی اللہ کے راستے میں ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ جہاد فی سبیل اللہ میں زخم کی بھی بڑی فضیلت ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے باب قائم کیا ہے: جو شخص اللہ کی راہ میں زخمی ہو جائے یا اسے نیزہ مارا جائے۔ (صحیح البخاری قبل ح 2801) نیز اس سے آگے باب قائم کیا ہے جو اللہ کی راہ میں زخمی ہوا (اس کی فضیلت کا بیان) (صحيح البخاری قبل ح 2804)
اللہ تعالیٰ ہمیں شہادت کی موت عطا فرمائے۔ آمین
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 794]