🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. باب قول الله تعالى: {لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولي الضرر والمجاهدون فى سبيل الله بأموالهم وأنفسهم فضل الله المجاهدين بأموالهم وأنفسهم على القاعدين درجة وكلا وعد الله الحسنى وفضل الله المجاهدين على القاعدين} إلى قوله: {غفورا رحيما} :
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ نساء میں) یہ فرمانا کہ ”مسلمانوں میں جو لوگ معذور نہیں ہیں اور جہاد سے بیٹھ رہیں وہ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرنے والے برابر نہیں ہو سکتے، اللہ نے ان لوگوں کو جو اپنے مال اور جان سے جہاد کریں، بیٹھے رہنے والوں پر ایک درجہ فضیلت دی ہے۔ یوں اللہ تعالیٰ کا اچھا وعدہ سب کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجاہدوں کو بیٹھنے والوں پر بہت بڑی فضیلت دی ہے۔“ اللہ کے فرمان «غفوراً رحيما» تک۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2832
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ فَأَقْبَلْتُ حَتَّى جَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَأَخْبَرَنَا أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِت أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمْلَى عَلَيْهِ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سورة النساء آية 95، قَالَ: فَجَاءَهُ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَهُوَ يُمِلُّهَا عَلَيَّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ لَجَاهَدْتُ، وَكَانَ رَجُلًا أَعْمَى فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي، فَثَقُلَتْ عَلَيَّ حَتَّى خِفْتُ أَنَّ تَرُضَّ فَخِذِي، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابراہیم بن سعد زہری نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے صالح بن کیسان نے بیان کیا ابن شہاب سے ‘ انہوں نے سہل بن سعد زہری رضی اللہ عنہ سے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں مروان بن حکم (خلیفہ اور اس وقت کے امیر مدینہ) کو مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے دیکھا تو ان کے قریب گیا اور پہلو میں بیٹھ گیا اور پھر انہوں نے ہمیں خبر دی کہ زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے آیت لکھوائی «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل الله» انہوں نے بیان کیا پھر عبداللہ ابن مکتوم رضی اللہ عنہ آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مجھ سے آیت مذکورہ لکھوا رہے تھے، انہوں نے کہا یا رسول اللہ! اگر مجھ میں جہاد کی طاقت ہوتی تو میں جہاد میں شریک ہوتا۔ وہ نابینا تھے ‘ اس پر اللہ تبارک تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران میری ران پر تھی میں نے آپ پر وحی کی شدت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران کا اتنا بوجھ محسوس کیا کہ مجھے ڈر ہو گیا کہ کہیں میری ران پھٹ نہ جائے۔ اس کے بعد وہ کیفیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ختم ہو گئی اور اللہ عزوجل نے فقط «غير أولي الضرر‏» نازل فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2832]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥زيد بن ثابت الأنصاري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو خارجة، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥مروان بن الحكم القرشي، أبو الحكم، أبو عبد الملك، أبو القاسم
Newمروان بن الحكم القرشي ← زيد بن ثابت الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥سهل بن سعد الساعدي، أبو العباس، أبو يحيى
Newسهل بن سعد الساعدي ← مروان بن الحكم القرشي
صحابي
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سهل بن سعد الساعدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥صالح بن كيسان الدوسي، أبو محمد، أبو الحارث
Newصالح بن كيسان الدوسي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت
👤←👥إبراهيم بن سعد الزهري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن سعد الزهري ← صالح بن كيسان الدوسي
ثقة حجة
👤←👥عبد العزيز بن عبد الله الأويسي، أبو القاسم
Newعبد العزيز بن عبد الله الأويسي ← إبراهيم بن سعد الزهري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2832
أملى عليه لا يستوي القاعدون من المؤمنين
جامع الترمذي
3033
أملى عليه لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل الله لو أستطيع الجهاد لجاهدت وكان رجلا أعمى فأنزل الله على رسوله وفخذه على فخذي فثقلت حتى همت ترض فخذي ثم سري عنه فأنزل الله عليه غير أولي الضرر
سنن أبي داود
2507
اكتب فكتبت في كتف لا يستوي القاعدون من المؤمنين
سنن النسائى الصغرى
3102
لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل الله قال فجاءه ابن أم مكتوم وهو يملها علي لو أستطيع الجهاد لجاهدت وكان رجلا أعمى فأنزل الله على رسوله وفخذه على فخذي حتى همت ترض فخذي ثم سري عنه فأنزل الله غير أولي الضرر
سنن النسائى الصغرى
3101
لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل الله فجاء ابن أم مكتوم وهو يملها علي لو أستطيع الجهاد لجاهدت فأنزل الله وفخذه على فخذي فثقلت علي حتى ظننت أن سترض فخذي ثم سري عنه غير أولي الضرر
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2832 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2832
حدیث حاشیہ:
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تو آپ کی حالت دگرگوں ہو جاتی‘ سخت سردی میں پسینہ پسینہ ہو جاتے اور جسم مبارک بوجھل ہو جاتا۔
اسی کیفیت کو راوی نے یہاں بیان کیا ہے۔
آیت میں ان الفاظ سے نابینا بیمار اپاہج لوگ فرضیت جہاد سے مستثنیٰ کردئیے گئے۔
سچ ہے ﴿لَا یُکَلّفُ اللہُ نَفسنا اِلا وُسْعَھَا﴾ (البقرة: 286)
احکام الٰہی صرف انسانی وسعت و طاقت کی حد تک بچا لانے ضروری ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2832]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2832
حدیث حاشیہ:

اس آیت سے معلوم ہواکہ جہاد فرض عین نہیں بلکہ فرض کفایہ ہے کیونکہ معاشرے میں کئی افراد بوڑھے،ناتواں،کمزور،اندھے،لنگڑے اور بیمار وغیرہ ہوتے ہیں جو جہاد پر جا ہی نہیں سکتے،نیز کچھ لوگ ملک کے اندرونی دفاع،مجاہدین کے گھروں کی حفاظت،ان کے اہل وعیال کی دکھ بھال کے لیے ضرور پیچھے رہنے چائیں اور اس لیے بھی کہ مجاہدین کو بروقت مدد مہیا کرتے رہیں،خواہ یہ رسد اور سامان خوردونوش سے متعلق ہو یا افرادی قوت سے،پھرکچھ لوگ زخمیوں کی دیکھ بھال کے لیے بھی ضروری ہوتے ہیں۔

آیت کریمہ سے یہ بات بھی صراحت کے ساتھ ثابت ہوتی ہے کہ جو اہل ایمان میدان میں بغیر جسمانی عذر کے بھی شریک نہیں ہوتے ان کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ نے خیر وبھلائی اور جنت کا وعدہ کررکھاہے لیکن اگر جہاد ہرحال میں فرض عین ہوتا تو پھر جہاد سے پیچھے رہنے والوں سے خیرو بھلائی کا وعدہ کیوں کرتا،چنانچہ حافظ ابن کثیر ؓ لکھتے ہیں:
اس آیت سے اس بات کی دلیل ہے کہ جہاد فرض عین نہیں بلکہ فرض کفایہ ہے۔
(تفسیر ابن کثیر: 821/1)

اللہ تعالیٰ نے اگرچہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ کا عذرقبول فرمالیا لیکن اس رخصت کے باوجود آپ کا جذبہ جہاد اتنا بلند تھا کہ آپ مشقت اٹھا کر بھی کئی غزوات میں شریک ہوئے۔
جہاد کن صورتوں میں فرض عین ہوتا ہے،اس کی تفصیل ہم پیچھے بیان کرآئے ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2832]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3101
گھر بیٹھ رہنے والوں پر جہاد کے لیے نکلنے والوں کی فضیلت کا بیان۔
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے مروان بن حکم کو بیٹھے دیکھا تو ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت: «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل اللہ» اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے مومن برابر نہیں۔‏‏‏‏ (النساء: ۹۵) نازل ہوئی اور آپ اسے بول کر مجھ س۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3101]
اردو حاشہ:
(1) خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالنا بلکہ قربان کردینا کوئی معمولی نیکی نہیں۔ اسی لیے مجاہدین کو دوسرے نیک لوگوں پر بہت زیادہ فضیلت حاصل ہے مگر معذور شحص جہاد کی نیت رکھے تو اسے بھی جہاد کا ثواب ملے گا۔
(2) حضرت ابن کلثوم رضی اللہ عنہ نابینا تھے۔ عربی زبان میں مکتوم نابینے کو کہتے ہیں۔ ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے۔ اکثر محققین نے عبداللہ بتایا ہے۔ بعض نے عمرو بھی کہا ہے۔ واللہ أعلم۔
(3) ﴿غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾ (النسائي:4:95) کے الفاظ کے بعد میں اترنے پر کوئی اعتراض نہیں کیونکہ اگر یہ الفاظ نہ ہوتے تب بھی شرعی ادلہ کی رو سے معذور کی رخصت ہے اور نیت کا اجر ملنا بھی قطعی مسئلہ ہے، تاہم جہاد کی اہمیت کے پیش نظر وضاحت کی ضرورت محسوس ہوئی تو وضاحت کردی گئی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3101]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2507
عذر کی بنا پر جہاد میں نہ جانے کی اجازت کا بیان۔
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں تھا تو آپ کو سکینت نے ڈھانپ لیا (یعنی وحی اترنے لگی) (اسی دوران) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران میری ران پر پڑ گئی تو کوئی بھی چیز مجھے آپ کی ران سے زیادہ بوجھل محسوس نہیں ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا: لکھو، میں نے شانہ (کی ایک ہڈی) پر «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل الله» اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے مومن برابر نہیں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2507]
فوائد ومسائل:

مریض، نابینا، اپاہج، یا دیگر شرعی عذر کی بنا ء پر اگر کوئی جہاد سے پیچھے رہ جائے۔
تو مباح ہے، لیکن جب نفیر عام کا حکم ہو تو بلا عذر پیچھے رہنا کسی طرح روا نہیں۔


نزول وحی کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر انتہائی بوجھ پڑتا تھا۔
حتیٰ کے سخت سردی میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آجاتا تھا۔
اور اگر آپ اونٹنی پر ہوتے تو وہ بھی ٹک کرکھڑی ہوجاتی تھی۔
اور چل نہ سکتی تھی۔


قرآن مجید جس قدر اترتا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی کتابت کروا دیا کرتے تھے۔
البتہ ابتداء میں احادیث کے لکھنے کی عام اجازت نہ تھی۔
سوائے چند ایک صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین کے زیادہ وثائق جو آپ نے بالخصوص لکھوائے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2507]