علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
68. باب رد النساء الجرحى والقتلى:
باب: زخمیوں اور شہیدوں کو عورتیں لے کر جا سکتی ہیں۔
حدیث نمبر: 2883
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ، قَالَتْ: كُنَّا نَغْزُو مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"فَنَسْقِي الْقَوْمَ وَنَخْدُمُهُمْ، وَنَرُدُّ الْجَرْحَى، وَالْقَتْلَى إِلَى الْمَدِينَةِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، ان سے خالد بن ذکوان نے اور ان سے ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتیں تھیں مجاہد مسلمانوں کو پانی پلاتیں، ان کی خدمت کرتیں اور زخمیوں اور شہیدوں کو اٹھا کر مدینہ لے جاتیں تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2883]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥الربيع بنت معوذ الأنصارية | صحابي | |
👤←👥خالد بن ذكوان المدني، أبو الحسن، أبو الحسين خالد بن ذكوان المدني ← الربيع بنت معوذ الأنصارية | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥بشر بن المفضل الرقاشي، أبو إسماعيل بشر بن المفضل الرقاشي ← خالد بن ذكوان المدني | ثقة ثبت | |
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن مسدد بن مسرهد الأسدي ← بشر بن المفضل الرقاشي | ثقة حافظ |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2883 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2883
حدیث حاشیہ:
اس سے بھی عورتوں کا جہاد میں شریک ہونا ثابت ہوا۔
اس سے بھی عورتوں کا جہاد میں شریک ہونا ثابت ہوا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2883]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2883
حدیث حاشیہ:
1اس حدیث سے معلوم ہواکہ عورتیں جہاد میں شریک ہوسکتی ہیں، مجاہدین کو پانی وغیرہ بھی پلاسکتی ہیں، نیز ضرورت کے وقت غیر محرم کا علاج بھی کرسکتی ہیں۔
2۔
جو عورتیں علاج کرنا جانتی ہوں وہ مجاہدین کی مرہم پٹی کرسکتی ہیں کیونکہ زخم کی جگہ ہاتھ لگانے سے لذت وغیرہ پیدا نہیں ہوتی بلکہ کٹا پھٹا جسم دیکھ کر تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور ڈر لگتا ہے، نیز یہ خواتین مجاہدین کو مدینہ طیبہ میں لانے کے لیے مدد دیتی تھیں، البتہ مقتولین کو مدینے لانا محل نظر ہے۔
1اس حدیث سے معلوم ہواکہ عورتیں جہاد میں شریک ہوسکتی ہیں، مجاہدین کو پانی وغیرہ بھی پلاسکتی ہیں، نیز ضرورت کے وقت غیر محرم کا علاج بھی کرسکتی ہیں۔
2۔
جو عورتیں علاج کرنا جانتی ہوں وہ مجاہدین کی مرہم پٹی کرسکتی ہیں کیونکہ زخم کی جگہ ہاتھ لگانے سے لذت وغیرہ پیدا نہیں ہوتی بلکہ کٹا پھٹا جسم دیکھ کر تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور ڈر لگتا ہے، نیز یہ خواتین مجاہدین کو مدینہ طیبہ میں لانے کے لیے مدد دیتی تھیں، البتہ مقتولین کو مدینے لانا محل نظر ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2883]
Sahih Bukhari Hadith 2883 in Urdu
خالد بن ذكوان المدني ← الربيع بنت معوذ الأنصارية