یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
81. باب الدرق:
باب: ڈھال کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 2907
قَالَتْ: وَكَانَ يَوْمُ عِيدٍ يَلْعَبُ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ، فَإِمَّا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِمَّا قَالَ: تَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ، فَقَالَتْ: نَعَمْ فَأَقَامَنِي وَرَاءَهُ خَدِّي عَلَى خَدِّهِ، وَيَقُولُ: دُونَكُمْ بَنِي أَرْفِدَةَ حَتَّى إِذَا مَلِلْتُ، قَالَ: حَسْبُكِ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاذْهَبِي قَالَ: أَبُو عَبْد اللَّهِ، قَالَ: أَحْمَدُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ فَلَمَّا غَفَلَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عید کے دن سوڈان کے کچھ صحابہ ڈھال اور حراب کا کھیل دکھا رہے تھے، اب یا میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی فرمایا کہ تم بھی دیکھنا چاہتی ہو؟ میں نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا، میرا چہرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ پر تھا (اس طرح میں پیچھے پردے سے کھیل کو بخوبی دیکھ سکتی تھی) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”خوب بنوارفدہ!“ جب میں تھک گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس؟“ میں نے کہا جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر جاؤ۔“ احمد نے بیان کیا اور ان سے ابن وہب نے (ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آنے کے بعد دوسری طرف متوجہ ہو جانے کے لیے لفظ «عمل» کے بجائے) «فلما غفل.» نقل کیا ہے۔ یعنی جب وہ ذرا غافل ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2907]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عید کے دن حبشی ڈھالوں اور برچھیوں سے کھیل رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے درخواست کی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے از خود فرمایا: ”تم دیکھنا چاہتی ہو؟“ میں نے عرض کیا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا جبکہ میرا رخسار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار پر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اے بنو ارفدہ! کھیلتے رہو۔“ حتیٰ کہ جب میں تھک گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس تجھے کافی ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب چلی جاؤ۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2907]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد | ثقة حافظ | |
👤←👥أحمد بن أبي موسى المصري، أبو عبد الله أحمد بن أبي موسى المصري ← عبد الله بن وهب القرشي | ثقة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2907 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2907
حدیث حاشیہ:
روایت میں کچھ صحابہ کے ڈھالوں اور برچھیوں سے جنگی کرتب دکھلانے کا ذکر ہے‘ اسی سے مقصد باب ثابت ہوا۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ تاریخی اور جنگی کرتبوں کا نظارہ دیکھنا جائز ہے‘ پردہ کے ساتھ عورتیں ایسے کھیل دیکھ سکتی ہیں۔
روایت میں کچھ صحابہ کے ڈھالوں اور برچھیوں سے جنگی کرتب دکھلانے کا ذکر ہے‘ اسی سے مقصد باب ثابت ہوا۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ تاریخی اور جنگی کرتبوں کا نظارہ دیکھنا جائز ہے‘ پردہ کے ساتھ عورتیں ایسے کھیل دیکھ سکتی ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2907]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2907
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث میں اہل حبشہ کا ڈھالوں اور برچھیوں سے کرتب دکھانے کا ذکر ہے۔
اس سے امام بخاری ؓنے ڈھال رکھنے کا جواز اور مشروعیت ثابت کی ہے۔
یہ بھی معلوم ہواکہ تاریخی اور جنگی کرتب دیکھنا جائز ہے۔
پردے کے ساتھ عورتیں بھی اس کا نظارہ کرسکتی ہیں اور یہ جنگی کرتب مسجد میں منعقد کیے جاسکتے ہیں۔
2۔
پہلی حدیث سے بعض جدت پسند حضرات نے گانے بجانے کا جواز کشید کیا ہے حالانکہ ایک روایت میں ہے:
”وہ بچیاں معروف معنوں میں گلوکارہ نہیں تھیں۔
“ (صحیح البخاري، العیدین، حدیث 952)
اس وضاحت کے بعد گانے بجانے کے جواز پر اصرارکرنا صریح نصوص (قرآن وحدیث کے واضح احکام)
سے منہ موڑنے کے مترادف ہے۔
3۔
پہلی روایت کے آخر میں ہے:
(فَلَمَّا غَفَلَ)
ایک نسخے کے مطابق اسماعیل کی روایت میں (اِشتَغَلَ بِعَمَلِ)
ہے۔
امام بخاری ؒنے اس دوسرے نسخے کا اعتبار کرتے ہوئے آخر میں وضاحت کی ہے کہ احمد کی روایت میں (عَمَلَ)
کی جگہ (غَفَلَ)
کے الفاظ ہیں۔
ہم نے جس نسخے کو بنیاد بنایا ہے اس میں اسماعیل کی روایت میں بھی (غفل)
کے الفاظ ہیں،اس لیے اس کی وضاحت کی ضرورت نہ رہی۔
1۔
اس حدیث میں اہل حبشہ کا ڈھالوں اور برچھیوں سے کرتب دکھانے کا ذکر ہے۔
اس سے امام بخاری ؓنے ڈھال رکھنے کا جواز اور مشروعیت ثابت کی ہے۔
یہ بھی معلوم ہواکہ تاریخی اور جنگی کرتب دیکھنا جائز ہے۔
پردے کے ساتھ عورتیں بھی اس کا نظارہ کرسکتی ہیں اور یہ جنگی کرتب مسجد میں منعقد کیے جاسکتے ہیں۔
2۔
پہلی حدیث سے بعض جدت پسند حضرات نے گانے بجانے کا جواز کشید کیا ہے حالانکہ ایک روایت میں ہے:
”وہ بچیاں معروف معنوں میں گلوکارہ نہیں تھیں۔
“ (صحیح البخاري، العیدین، حدیث 952)
اس وضاحت کے بعد گانے بجانے کے جواز پر اصرارکرنا صریح نصوص (قرآن وحدیث کے واضح احکام)
سے منہ موڑنے کے مترادف ہے۔
3۔
پہلی روایت کے آخر میں ہے:
(فَلَمَّا غَفَلَ)
ایک نسخے کے مطابق اسماعیل کی روایت میں (اِشتَغَلَ بِعَمَلِ)
ہے۔
امام بخاری ؒنے اس دوسرے نسخے کا اعتبار کرتے ہوئے آخر میں وضاحت کی ہے کہ احمد کی روایت میں (عَمَلَ)
کی جگہ (غَفَلَ)
کے الفاظ ہیں۔
ہم نے جس نسخے کو بنیاد بنایا ہے اس میں اسماعیل کی روایت میں بھی (غفل)
کے الفاظ ہیں،اس لیے اس کی وضاحت کی ضرورت نہ رہی۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2907]
Sahih Bukhari Hadith 2907 in Urdu
أحمد بن أبي موسى المصري ← عبد الله بن وهب القرشي