🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
103. باب من أراد غزوة فورى بغيرها، ومن أحب الخروج يوم الخميس:
باب: لڑائی کا مقام چھپانا (دوسرا مقام بیان کرنا) اور جمعرات کے دن سفر کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2950
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَرَجَ يَوْمَ الْخَمِيسِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يَخْرُجَ يَوْمَ الْخَمِيسِ".
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک نے اور انہیں ان کے والد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے لیے جمعرات کے دن نکلے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعرات کے دن سفر کرنا پسند فرماتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2950]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مزید روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے لیے جمعرات کے دن نکلے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعرات کے روز سفر کرنا پسند کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2950]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥كعب بن مالك الأنصاري، أبو بشير، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن كعب الأنصاري، أبو الخطاب
Newعبد الرحمن بن كعب الأنصاري ← كعب بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبد الرحمن بن كعب الأنصاري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت فاضل
👤←👥هشام بن يوسف الأبناوي، أبو عبد الرحمن
Newهشام بن يوسف الأبناوي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة
👤←👥عبد الله بن محمد الجعفي، أبو جعفر
Newعبد الله بن محمد الجعفي ← هشام بن يوسف الأبناوي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2950
خرج يوم الخميس في غزوة تبوك وكان يحب أن يخرج يوم الخميس
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2950 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2950
حدیث حاشیہ:
غزوہ تبوک کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے توریہ نہیں فرمایا۔
بلکہ صاف صاف لفظوں میں اس جنگ کا اعلان فرما دیا تھا کیونکہ ہر لحاظ سے یہ مقابلہ بہت ہی سخت تھا اور مسلمانوں کو اس کے لئے پورے پورے طور پر تیار ہونا تھا۔
مقصد باب یہ کہ امام حالات کے تحت مختار ہے کہ وہ حسب موقع توریہ سے کام لے یا نہ لے جیسا موقع محل دیکھے ویسا ہی کرلے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2950]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2950
حدیث حاشیہ:

ایک کام کا ارادہ کرکے کسی مصلحت کے پیش نظر کسی دوسرے کا م کااظہار کرنا توریہ کہلاتا ہے۔
جنگی حالات کے پیش نظر ایسا کرنا پڑتا ہے تاکہ دشمن کو اس کی خبر نہ ہو اور وہ مقابلے کی تیاری نہ کرسکے۔
لیکن غزوہ تبوک کے وقت آپ نے توریہ نہیں کیا بلکہ صاف صاف الفاظ میں اس جنگ کا اعلان کردیا کیونکہ ہراعتبار سے مقابلہ بہت سخت تھا۔
ایک طاقتور حکومت سے ٹکر لینا تھی اور مسلمانوں کو اس لڑنے کے لیے پورے طور پر تیاری کرنا تھی۔

مقصد یہ ہے کہ امام حالات کے پیش نظر اپنے اختیارات استعمال کرسکتا ہے۔
وہ حسب موقع توریہ سے کام لے یا اپنی فوج کو صاف صاف بتادے،یعنی جیسا موقع محل دیکھے ویسا ہی کرے۔

جمعرات کے دن سفر کرنا آ پ کو پسند تھا آپ نے اس پر ہمیشگی نہیں فرمائی بلکہ آپ سے ہفتے کے دیگر ایام میں بھی سفر کرنا ثابت ہے جیسا کہ آئندہ احادیث سے واضح ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2950]

Sahih Bukhari Hadith 2950 in Urdu