🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
107. باب التوديع:
باب: سفر شروع کرتے وقت مسافر کو رخصت کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2954
وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْثٍ، وَقَالَ لَنَا:" إِنْ لَقِيتُمْ فُلَانًا وَفُلَانًا لِرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ سَمَّاهُمَا فَحَرِّقُوهُمَا بِالنَّارِ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْنَاهُ نُوَدِّعُهُ حِينَ أَرَدْنَا الْخُرُوجَ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ تُحَرِّقُوا فُلَانًا وَفُلَانًا بِالنَّارِ، وَإِنَّ النَّارَ لَا يُعَذِّبُ بِهَا إِلَّا اللَّهُ، فَإِنْ أَخَذْتُمُوهُمَا فَاقْتُلُوهُمَا".
اور عبداللہ بن وہب نے کہا کہ مجھ کو عمرو بن حارث نے خبر دی، انہیں بکیر نے، انہیں سلیمان بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک فوج میں بھیجا اور ہدایت فرمائی کہ اگر فلاں فلاں دو قریشی (ہبا بن اسود اور نافع بن عبد عمر) جن کا آپ نے نام لیا تم کو مل جائیں تو انہیں آگ میں جلا دینا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہونے کی اجازت کے لیے حاضر ہوئے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں پہلے ہدایت کی تھی کہ فلاں فلاں قریشی اگر تمہیں مل جائیں تو انہیں آگ میں جلا دینا۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ آگ کی سزا دینا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے سزاوار نہیں ہے۔ اس لیے اگر وہ تمہیں مل جائیں تو انہیں قتل کر دینا (آگ میں نہ جلانا)۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2954]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سليمان بن يسار الهلالي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو أيوب
Newسليمان بن يسار الهلالي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥بكير بن عبد الله القرشي، أبو يوسف، أبو عبد الله
Newبكير بن عبد الله القرشي ← سليمان بن يسار الهلالي
ثقة
👤←👥عمرو بن الحارث الأنصاري، أبو أيوب، أبو أمية
Newعمرو بن الحارث الأنصاري ← بكير بن عبد الله القرشي
ثقة فقيه حافظ
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← عمرو بن الحارث الأنصاري
ثقة حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2954 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2954
حدیث حاشیہ:
ان ہر دو مردودوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینبؓ کو راستے میں بحالت حمل ایسا برچھا مارا تھا کہ آپ کا حمل ساقط ہوگیا۔
اس لئے آپ نے پہلے ان کو ملنے پر آگ میں جلانے کا حکم دیا۔
پھر بعد میں قتل کا حکم دیا۔
معلوم ہوا کہ آگ میں جلانا حرام ہے‘ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رائے سے حکم دیا تھا۔
پھر وحی الٰہی سے اس کو منسوخ فرما دیا۔
قسطلانی نے کہا پسو اور کھٹمل وغیرہ کا بھی آگ میں جلانا مکروہ ہے۔
اور بعض ڈاکوؤں کے لئے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنکھوں میں گرم سلائیاں ڈالنے کا حکم دیا تھا وہ قصاصاً تھا‘ کیونکہ ان ظالموں نے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہی حرکت کی تھی۔
ارشاد باری ہے ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى﴾ یعنی قصاص میں آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت قتل کی جائے گی بلکہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت توڑے جائیں گے۔
اسی قانون الٰہی کے تحت ان ڈاکوؤں کو یہ سنگین سزا دی گئی تھی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2954]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2954
حدیث حاشیہ:

ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب ؓ کو دوران سفر میں برچھا ماراجس سے ان کا حمل ساقط ہوگیا تھا،اس لیے آپ نے پہلے انھیں جلادینے کا حکم دیا،پھر بعد میں انھیں قتل کردینے کا فرمایا۔

بوقت سفر الوداع کہنا سنت ہے،خواہ مسافر،مقیم کو کہے یا اس کے برعکس مقیم،مسافر سے کہے۔
حدیث میں پہلی صورت کا بیان ہے۔
دوسری صورت کو اس پر قیاس کیا جاسکتا ہے۔
ہمارے ہاں دوسری صورت ہی عام ہے،یعنی مقیم آدمی مسافر کو الوداع کہتا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2954]

Sahih Bukhari Hadith 2954 in Urdu