صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
126. باب الارتداف فى الغزو والحج:
باب: جہاد اور حج کے سفر میں دو آدمیوں کا ایک سواری پر بیٹھنا۔
حدیث نمبر: 2986
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنْتُ رَدِيفَ أَبِي طَلْحَةَ وَإِنَّهُمْ لَيَصْرُخُونَ بِهِمَا جَمِيعًا الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی سواری پر ان کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ تمام صحابہ حج اور عمرہ دونوں ہی کے لیے ایک ساتھ لبیک کہہ رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2986]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2986 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2986
حدیث حاشیہ:
1۔
یہ حدیث کئی مرتبہ پہلے گزر چکی ہے۔
امام بخاری ؒنے اس سے متعدد مسائل اخذ کیے ہیں۔
اس موقع پر بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دوران سفر میں آدمی کو سواری پراپنے پیچھے بٹھانے میں کوئی حرج نہیں۔
اگرچہ مذکورہ سفر حج کے لیےتھا تاہم دیگر مواقع کو اس پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔
2۔
سواری کا جانور اگر طاقتور ہو تو تین آدمی بھی اس پر سوار ہو سکتے ہیں۔
1۔
یہ حدیث کئی مرتبہ پہلے گزر چکی ہے۔
امام بخاری ؒنے اس سے متعدد مسائل اخذ کیے ہیں۔
اس موقع پر بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دوران سفر میں آدمی کو سواری پراپنے پیچھے بٹھانے میں کوئی حرج نہیں۔
اگرچہ مذکورہ سفر حج کے لیےتھا تاہم دیگر مواقع کو اس پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔
2۔
سواری کا جانور اگر طاقتور ہو تو تین آدمی بھی اس پر سوار ہو سکتے ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2986]
عبد الله بن زيد الجرمي ← أنس بن مالك الأنصاري