🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
142. باب الكسوة للأسارى:
باب: قیدیوں کو کپڑے پہنانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3008
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَمَّا كَانَ يَوْمَ بَدْرٍ أُتِيَ بِأُسَارَى، وَأُتِيَ بِالْعَبَّاسِ وَلَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ ثَوْبٌ، فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ قَمِيصًا فَوَجَدُوا قَمِيصَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ يَقْدُرُ عَلَيْهِ فَكَسَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُ، فَلِذَلِكَ نَزَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَهُ الَّذِي أَلْبَسَهُ، قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: كَانَتْ لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يُكَافِئَهُ".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن دینار نے ‘ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ بدر کی لڑائی سے قیدی (مشرکین مکہ) لائے گئے۔ جن میں عباس (رضی اللہ عنہ) بھی تھے۔ ان کے بدن پر کوئی کپڑا نہیں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے قمیص تلاش کروائی۔ (وہ لمبے قد کے تھے) اس لیے عبداللہ بن ابی (منافق) کی قمیص ہی ان کے بدن پر آ سکی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہ قمیص پہنا دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (عبداللہ بن ابی کی موت کے بعد) اپنی قمیص اتار کر اسے پہنائی تھی۔ ابن عیینہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو اس کا احسان تھا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ اسے ادا کر دیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3008]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
👤←👥عبد الله بن محمد الجعفي، أبو جعفر
Newعبد الله بن محمد الجعفي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3008
لما كان يوم بدر أتي بأسارى وأتي بالعباس ولم يكن عليه ثوب فنظر النبي له قميصا فوجدوا قميص عبد الله بن أبي يقدر عليه فكساه النبي إياه فلذلك نزع النبي قميصه الذي ألبسه
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3008 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3008
حدیث حاشیہ:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس ؓ کو قمیص پہنائی جو کہ حالت کفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قید میں تھے۔
اسی سے باب کا مقصد ثابت ہوا کہ قیدی کو ننگا رکھنے کی بجائے اسے مناسب کپڑے پہنانے ضروری ہیں۔
قیدیوں کے ساتھ ہر اخلاقی اور انسانی برتاؤ کرتا ضروری ہے۔
باب کا یہی ارشاد ہے۔
عبداللہ بن ابی منافق کے حالات تفصیل سے بیان ہوچکے ہیں‘ یہ بھی ثابت ہوا کہ احسان کا بدلہ احسان سے ادا کرنا ضروری ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3008]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3008
حدیث حاشیہ:

حضرت عباس ؓ جب جنگ بدر میں قیدی بن کر مدینہ طیبہ آئے تو وہ ننگے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی سے قمیص لے کر انھیں پہنائی تھی کیونکہ حضرت عباس ؓ کا قد لمبا تھا انھیں صرف عبد اللہ بن ابی کا کرتہ ہی پورا آسکتا تھا کیونکہ اس کاقد بھی لمباتھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس احسان کا بدلہ اس وقت دیا جب رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی مرا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کرتہ اسے پہنایا۔

اس سے معلوم ہوا کہ قیدیوں کو ننگا رکھنے کے بجائے انھیں مناسب کپڑے پہنانا ضروری ہیں۔
اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ جنگی قیدیوں کے ساتھ اخلاقی اور انسانی سلوک کرنا چاہیے۔
امام بخاری ؒنے قائم کردہ عنوان اور پیش کردہ حدیث سے یہی مسئلہ ثابت کیا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3008]