یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
156. باب لا تمنوا لقاء العدو:
باب: دشمن سے مڈبھیڑ ہونے کی آرزو نہ کرنا۔
حدیث نمبر: 3024
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ الْيَرْبُوعِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ كُنْتُ كَاتِبًا لَهُ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى حِينَ خَرَجَ إِلَى الْحَرُورِيَّةِ فَقَرَأْتُهُ، فَإِذَا فِيهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ انْتَظَرَ حَتَّى مَالَتِ الشَّمْسُ.
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے عاصم بن یوسف یربوعی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواسحاق فزاری نے بیان کیا ‘ ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ‘ کہ مجھ سے عمر بن عبیداللہ کے غلام سالم ابوالنضر نے بیان کیا کہ میں عمر بن عبیداللہ کا منشی تھا۔ سالم نے بیان کیا کہ جب وہ خوارج سے لڑنے کے لیے روانہ ہوئے تو انہیں عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کا خط ملا۔ میں نے اسے پڑھا تو اس میں انہوں نے لکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لڑائی کے موقع پر انتظار کیا ‘ پھر جب سورج ڈھل گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3024]
عمر بن عبیداللہ کے غلام سالم ابونضر نے بیان کیا کہ وہ عمر بن عبیداللہ کا منشی تھا۔ اس (سالم) نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما نے اسے (سالم ابونضر کو) ایک خط لکھا جب وہ خوارج سے لڑنے کے لیے روانہ ہوئے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے وہ خط پڑھا، اس کا مضمون یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لڑائی کے موقع پر سورج ڈھلنے کا انتظار کیا، (جب سورج ڈھل گیا تو) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! دشمن سے مقابلے کی خواہش نہ کرو بلکہ اللہ سے سلامتی کی دعا مانگو، لیکن جب دشمن سے مقابلہ ہو جائے تو صبر کرو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا کی: «اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، وَمُجْرِيَ السَّحَابِ، وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ، اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ» ”اے اللہ! کتاب نازل فرمانے والے، بادل چلانے والے اور لشکروں کو شکست دینے والے، انہیں (ہمارے دشمنوں کو) شکست سے دوچار کر اور ان کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3024]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Bukhari Hadith 3024 in Urdu
سالم بن أبي أمية القرشي ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي