🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
196. باب استقبال الغزاة:
باب: غازیوں کے استقبال کو جانا (جب وہ جہاد سے لوٹ کر آئیں)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3083
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" ذَهَبْنَا نَتَلَقَّى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الصِّبْيَانِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ".
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے بیان کیا کہ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے کہا ‘ (جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس تشریف لا رہے تھے تو) ہم سب بچے ثنیۃ الوداع تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرنے گئے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3083]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥السائب بن يزيد الكندي، أبو يزيدصحابي صغير
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← السائب بن يزيد الكندي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ حجة
👤←👥مالك بن إسماعيل النهدي، أبو غسان
Newمالك بن إسماعيل النهدي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة متقن صحيح الكتاب
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3083 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3083
حدیث حاشیہ:
مجاہدین کا واپسی پر پر خلوص استقبال کرنا سنت ہے۔
حضرت امام ؒ اسی مقصد کو بیان فرما رہے ہیں۔
مدینہ کے قریب ایک گھاٹی تک لوگ اپنے مہمانوں کو رخصت کرنے جایا کرتے تھے۔
اسی کا نام ثنیۃ الوداع قرار دیا۔
غزوہ تبوک کی تفصیلات کتاب المغازی میں آئیں گی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3083]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3083
حدیث حاشیہ:

اس ثنیۃ الوداع سے مراد وہ جہت ہے جو مدینہ طیبہ سے تبوک کی طرف ہے کیونکہ جامع ترمذی میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس آئے توآپ کے استقبال کے لیے وہ ثنیۃ الوداع تک گئے۔
حضرت سائب کہتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ تھا اور میں اس وقت کم عمربچہ تھا۔
(جامع الترمذي، الجھاد، حدیث: 1718)

مدینہ طیبہ کے چاروں طرف ثنیات الوداع ہیں کیونکہ پہاڑ کے نشیب میں واقع راستے کو ثنیہ کہا جاتا ہے۔
جب لوگ کسی کو الوداع کرنے جاتے تو ان مقامات تک جاتے،اس لیے ان جگہوں کو ثنیۃ الوداع کہتے تھے۔
(عمدة القاري: 414/10)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3083]