🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. بَابُ هَلْ تُصَلِّي الْمَرْأَةُ فِي ثَوْبٍ حَاضَتْ فِيهِ:
باب: کیا عورت اسی کپڑے میں نماز پڑھ سکتی ہے جس میں اسے حیض آیا ہو؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 312
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ" مَا كَانَ لِإِحْدَانَا إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ تَحِيضُ فِيهِ، فَإِذَا أَصَابَهُ شَيْءٌ مِنْ دَمٍ، قَالَتْ: بِرِيقِهَا فَقَصَعَتْهُ بِظُفْرِهَا".
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن نافع نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ ابن ابی نجیح سے، انہوں نے مجاہد سے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہمارے پاس صرف ایک کپڑا ہوتا تھا، جسے ہم حیض کے وقت پہنتی تھیں۔ جب اس میں خون لگ جاتا تو اس پر تھوک ڈال لیتیں اور پھر اسے ناخنوں سے مسل دیتیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 312]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہمارے پاس صرف ایک ہی لباس ہوتا تھا، اسی میں ایام حیض گزارتیں، اگر اس میں حیض کا کچھ خون لگ جاتا تو اس پر تھوک ڈال دیتیں اور اسے اپنے ناخنوں سے رگڑ دیتیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 312]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥عبد الله بن أبي نجيح الثقفي، أبو يسار
Newعبد الله بن أبي نجيح الثقفي ← مجاهد بن جبر القرشي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن نافع المخزومي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن نافع المخزومي ← عبد الله بن أبي نجيح الثقفي
ثقة حافظ
👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم
Newالفضل بن دكين الملائي ← إبراهيم بن نافع المخزومي
ثقة ثبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 312 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 312
� تشریح:
عورت جب حیض کا غسل کرے تو مقام مخصوص پر بدبو کو دور کرنے کے لیے ضرور کچھ خوشبو کا استعمال کرے، اس کی یہاں تک تاکید ہے کہ سوگ والی عورت کو بھی اس کی اجازت دی گئی بشرطیکہ وہ احرام میں نہ ہو۔ کست یااظفار کست عود کو کہتے ہیں۔ بعض نے اظفار سے وہ شہر مراد لیا ہے جو یمن میں تھا۔ وہاں سے عود ہندی عربی ممالک میں آیا کرتا تھا۔ ہشام کی روایت خود امام بخاری رحمہ اللہ نے کتاب الطلاق میں بھی نقل کی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 312]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:312
حدیث حاشیہ:
1۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ شرح تراجم ابواب میں لکھتے ہیں کہ امام بخاری ؒ نے اس عنوان میں یہ ثابت کیا ہے کہ حائضہ عورت انھی کپڑوں میں نماز پڑھ سکتی ہے جن میں اس نے ایام حیض گزارے ہوں۔
اور اس مسئلے کی ضروریات اس لیے محسوس ہوئی کہ قبل از اسلام عورتیں ایام حیض میں استعمال شدہ کپڑوں کو طہر کے وقت تبدیل کرناضروری خیال کرتی تھیں۔
لیکن شریعت نے بتلایا کہ جو کپڑا ایام حیض میں بدن پر تھا اگر وہ خون سے آلودہ نہیں ہوا تو اسے دھونے کی ضرورت نہیں، بلکہ اسی میں نماز ادا کی جاسکتی ہے۔
اگر کہیں خون لگا ہوتو اسی آلودہ حصے کو دھو لیا جائے، پھر اس میں میں نماز پڑھی جاسکتی ہے۔
ناخنوں سے رگڑنے کے بعد اسے پانی سے دھو لیتی تھیں۔
ظاہر پر اعتماد کرتے ہوئے اختصار کے پیش نظر دھونے کا ذکرحدیث میں نہیں ہے۔
کپڑے کو دھونے کی وضاحت حدیث (308)
میں گزرچکی ہے کہ جب ہم میں سے کسی کو حیض آتا تو طہر کے وقت اپنے کپڑے سے خون کو کھرچ ڈالتی اور سے دھودیتی، پھر باقی ماندہ کپڑے پر پانی بہا کر اس میں نماز پڑھ لیتیں۔
2۔
بعض حضرات کے نزدیک پانی کے علاوہ ہر مائع چیز سے ازالہ نجاست ہوسکتا ہے۔
انھوں نے اس حدیث کو بطور دلیل پیش کیا ہے، کیونکہ اس میں پانی کے بغیر ازالہ نجاست کی صراحت ہے، لیکن یہ استدلال اس لیے صحیح نہیں کہ دوسری احادیث میں وضاحت ہے کہ صرف ناخن سے رگڑنے پر ہی اکتفا نہ کیا جاتا، بلکہ اسے دھویا جاتا، پھر اس میں نماز ادا کی جاتی تھوک کا استعمال اس لیے ہوتا تھا کہ لعاب دہن میں شوریت (نمکینی)
ہوتی ہے، اس کی وجہ سے خون کا دھبہ آسانی سے دور کیا جاسکتا ہے۔
گویا لعاب دہن کا استعمال کلی طور پر ازالہ نجاست کے لیے نہیں، بلکہ بلکہ ازالہ نجاست میں سہولت پیدا کرنے کے لیے تھا۔
3۔
دوسری احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین کے پاس ایام حیض اور حالت طہارت کے لیے الگ الگ لباس ہوتا تھا۔
جیسا کہ حضرت ام سلمہ ؒ سے مروی حدیث میں ہے۔
جبکہ اس روایت میں ہے کہ ہم ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین کے پاس حیض وطہر کے لیے ایک ہی لباس ہوتا تھا۔
بظاہران روایات میں تعارض ہے۔
ان میں تطبیق بایں طور ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کا بیان اسلام کے ابتدائی دور سے تعلق رکھتا ہے، جبکہ تنگی کا زمانہ تھا،پھر جب فتوحات کا دورآیا اور اللہ تعالیٰ نے فراخی عطا فرمائی توحیض وطہر کا لباس الگ الگ کرلیا گیا، نیز حضرت ام سلمہ ؓ کا بیان ایام حیض میں الگ لباس کے متعلق نص نہیں، کیونکہ ممکن ہے حیض کے لباس سے ان کی مراد وہ کرسف وغیرہ ہو جسے حیض سے احتیاط کے پیش نظرعورتیں استعمال کرتی ہیں، مستقل لباس مراد نہ ہو۔
اسی طرح حضرت عائشہ ؓ کا بیان اس بارے میں نص نہیں کہ ایک ہی لباس میں طہر اور حیض کے ایام گزرتے تھے۔
ان کے بیان کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ معمولی لباس کے علاوہ اور کوئی مخصوص قسم کا کپڑا ہمارے پاس نہیں ہوتا تھا جس کی ضرورت داخل فرض کا خون روکنے کے لیے پڑتی تھی۔
الغرض حضرت ام سلمہ ؓ اورحضرت عائشہ ؓ کے بیانات میں کوئی تعارض نہیں، بلکہ دونوں اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔
4۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حائضہ کا پسینہ پاک ہے، کیونکہ اگربحالت حیض عورت کا پسینہ ناپاک ہوتا تو حیض کے ختم ہونے کے بعد بہرصورت اس کے بدن کا کپڑا ناپاک قراردیاجاتا، جسے دھونا ضروری ہوتا، خواہ اس پر خون کا دھبا نہ ہو، حالانکہ حدیث میں ہے کہ اگرکپڑے پر خون کا دھبا نہیں ہے تو اسے دھونے کی بھی ضرورت نہیں۔
اس لیے معلوم ہوا کہ جنبی آدمی کی طرح حائضہ عورت کا پسینہ بھی پاک ہے۔
ممکن ہے کہ امام بخاری ؒ کا اس عنوان سے یہی مقصد ہو۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 312]

Sahih Bukhari Hadith 312 in Urdu