صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب ومن الدليل على أن الخمس لنوائب المسلمين ما سأل هوازن النبى صلى الله عليه وسلم برضاعه فيهم فتحلل من المسلمين:
باب: اس بات کی دلیل کہ پانچواں حصہ مسلمانوں کی ضرورتوں کے لیے ہے وہ واقعہ ہے کہ ہوازن کی قوم نے اپنے دودھ ناطے کی وجہ سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی، ان کے مال قیدی واپس ہوں تو آپ نے لوگوں سے معاف کرایا کہ اپنا حق چھوڑ دو۔
حدیث نمبر: Q3131
وَمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعِدُ النَّاسَ أَنْ يُعْطِيَهُمْ مِنَ الْفَيْءِ وَالْأَنْفَالِ مِنَ الْخُمُسِ، وَمَا أَعْطَى الْأَنْصَارَ، وَمَا أَعْطَى جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ تَمْرَ خَيْبَرَ.
اور یہ بھی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اس مال میں سے دینے کا وعدہ کرتے جو بلا جنگ ہاتھ آیا تھا اور خمس میں سے انعام دینے کا اور یہ بھی دلیل ہے کہ آپ نے خمس میں سے انصار کو دیا اور جابر رضی اللہ عنہ کو خیبر کی کھجور دی۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: Q3131]
حدیث نمبر: 3131
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: وَزَعَمَ عُرْوَةُ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ وَمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ، فَقَالَ لَهُمْ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ، إِمَّا السَّبْيَ، وَإِمَّا الْمَالَ وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِهِمْ، وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَظَرَ آخِرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنْ الطَّائِفِ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ، قَالُوا: فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُسْلِمِينَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ هَؤُلَاءِ قَدْ جَاءُونَا تَائِبِينَ وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُطَيِّبَ، فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ، فَقَالَ: النَّاسُ قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ، فَقَالَ لَهُمْ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِي ذَلِكَ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا، وَأَذِنُوا فَهَذَا الَّذِي بَلَغَنَا عَنْ سَبْيِ هَوَازِنَ".
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ عروہ کہتے تھے کہ مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ جب ہوازن کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے مالوں اور قیدیوں کی واپسی کا سوال کیا ‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سچی بات مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔ ان دونوں چیزوں میں سے تم ایک ہی واپس لے سکتے ہو۔ اپنے قیدی واپس لے لو یا پھر مال لے لو ‘ اور میں نے تمہارا انتظار بھی کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریباً دس دن تک طائف سے واپسی پر ان کا انتظار کیا اور جب یہ بات ان پر واضح ہو گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی صرف ایک ہی چیز (قیدی یا مال) واپس کر سکتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم اپنے قیدی ہی واپس لینا چاہتے ہیں۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو خطاب فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی شان کے مطابق حمد و ثنا کرنے کے بعد فرمایا ”امابعد! تمہارے یہ بھائی اب ہمارے پاس توبہ کر کے آئے ہیں اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کے قیدی انہیں واپس کر دیئے جائیں۔ اسی لیے جو شخص اپنی خوشی سے غنیمت کے اپنے حصے کے (قیدی) واپس کرنا چاہے وہ کر دے اور جو شخص چاہتا ہو کہ اس کا حصہ باقی رہے اور ہمیں جب اس کے بعد سب سے پہلی غنیمت ملے تو اس میں سے اس کے حصے کی ادائیگی کر دی جائے تو وہ بھی اپنے قیدی واپس کر دے ‘ (اور جب ہمیں دوسرے غنیمت ملے گی تو اس کا حصہ ادا کر دیا جائے گا)۔“ اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم اپنی خوشی سے انہیں اپنے حصے واپس کر دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لیکن ہمیں یہ معلوم نہ ہو سکا کہ کن لوگوں نے اپنی خوشی سے اجازت دی اور کن لوگوں نے نہیں دی ہے۔ اس لیے سب لوگ (اپنے خیموں میں) واپس چلے جائیں اور تمہارے سردار لوگ تمہاری بات ہمارے سامنے آ کر بیان کریں۔“ سب لوگ واپس چلے گئے اور ان کے سرداروں نے اس مسئلہ پر گفتگو کی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آ کر خبر دی کہ سب لوگ خوشی سے اجازت دیتے ہیں۔ یہی وہ خبر ہے جو ہوازن کے قیدیوں کے سلسلے میں ہمیں معلوم ہوئی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3131]
حضرت مروان بن حکم اور حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب ہوازن کے لوگ مسلمان ہو کر آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کے مال اور قیدی انہیں واپس کر دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”مجھے وہ بات پسند ہے جو سچی ہو۔ تم دو چیزوں میں سے ایک چیز اختیار کر سکتے ہو: قیدی یا مال مویشی۔ میں نے اس سلسلے میں بہت انتظار کیا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعی تقریباً دس دن تک طائف سے واپسی پر ان کا انتظار کیا تھا۔ جب ان پر یہ امر واضح ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو صرف ایک ہی چیز واپس کریں گے تو انہوں نے عرض کیا: ہم اپنے قیدیوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی اس کے شایانِ شان تعریف کی، اس کے بعد فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ» ”تمہارے یہ بھائی تائب ہو کر آئے ہیں اور میرا خیال ہے کہ میں ان کے قیدی انہیں واپس کر دوں۔ جو کوئی خوشی سے یہ کرنا چاہے تو کر لے اور جو کوئی تم میں سے یہ پسند کرے کہ اپنے حصے پر قائم رہے حتیٰ کہ ہم اس کو اس پہلے مالِ فے سے جو اللہ ہمیں عطا فرمائے گا، حصہ دیں گے تو وہ اس طرح کر لے۔“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم خوش دلی سے انہیں قیدی واپس کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیں معلوم نہیں ہو سکا کہ تم میں سے کس نے اجازت دی ہے اور کس نے اجازت نہیں دی، اس لیے تم واپس چلے جاؤ حتیٰ کہ تمہارے سردار تمہاری بات ہم تک پہنچائیں۔“ چنانچہ وہ لوگ واپس ہوئے اور ان کے نمائندوں نے ان سے گفتگو کی، پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اطلاع دی کہ وہ سب خوش ہیں اور خوش دلی سے انہوں نے اجازت دے دی ہے۔ بس اتنا واقعہ ہے جو ہوازن کے قیدیوں کے متعلق ہم تک پہنچا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3131]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥المسور بن مخرمة القرشي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥مروان بن الحكم القرشي، أبو الحكم، أبو عبد الملك، أبو القاسم مروان بن الحكم القرشي ← المسور بن مخرمة القرشي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← مروان بن الحكم القرشي | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥عقيل بن خالد الأيلي، أبو خالد عقيل بن خالد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← عقيل بن خالد الأيلي | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥سعيد بن عفير الأنصاري، أبو عثمان سعيد بن عفير الأنصاري ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3131 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3131
حدیث حاشیہ:
قوم ہوازن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولین دایہ حلیمہ سعدیہ تھیں۔
ابن اسحاق نے مغازی میں نکالا کہ ہوازن والوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں عرض کیا تھا آپ ان عورتوں پر احسان کیجئے جن کا آپ نے دودھ پیا ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بنا پر ہوازن والوں کو بھائی قرار دیا اور مجاہدین سے فرمایا کہ وہ اپنے اپنے حصہ کے لونڈی غلام ان کو واپس کردیں‘ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔
اس حدیث میں کئی ایک تمدنی امور بھی بتلائے گئے ہیں جن میں اقوام میں نمائندگی کا اصول بھی ہے جسے اسلام نے سکھایا ہے اسی اصول پر موجودہ جمہوری طرز حکومت وجود میں آیا ہے۔
اس روایت کی سندمیں مروان بن حکم کا بھی نام آیا ہے‘ اس پر مولانا وحید الزمان مرحوم فرماتے ہیں:
مروان نے نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے‘ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی ہے۔
اس کے اعمال بہت خراب تھے اور اسی وجہ سے لوگوں نے حضرت امام بخاری پر طعن کیا ہے کہا مروان سے روایت کرتے ہیں۔
حالانکہ حضرت امام بخاری ؒ نے اکیلے مروان سے روایت نہیں کی‘ بلکہ مسور بن مخرمہ ؓ کے ساتھ‘ جوصحابی ہیں‘ روایت کی ہے اور اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض برے شخص حدیث کی روایت میں سچا اور با احتیاط ہوتا ہے تو محدثین اس سے روایت کرتے ہیں۔
اور کوئی شخص بہت نیک اور صالح ہوتاہے لیکن وہ عبادت یا دوسرے علم میں مصروف رہنے کہ وجہ سے حدیث کے الفاظ اور متن کا خوب خیال نہیں رکھتا‘ تومحدثین اس سے روایت نہیں کرتے یا اس کی روایت کو ضعیف جانتے ہیں۔
ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔
مجتہدین عظام میں کچھ حضرات توایسے ہیں جن کا طریقہ کار استخراج و استنباط مسائل اجتہاد کے طریق پر تھا۔
کچھ فقہ اور حدیث ہر دو کے جامع تھے۔
بہر حال حضرت امام بخاری ؒ اپنی جگہ پر مجتہد مطلق ہیں۔
اگر وہ کسی جگہ مروان جیسے لوگوں کی مرویات نقل کرتے ہیں تو ان کے ساتھ کسی اور معتبر شاہد کو بھی پیش کردیتے ہیں۔
جو ان کے کمال احتیاط کی دلیل ہے اور اس بنا پر ان پر طعن کرنا محض تعصب اور کورباطنی کا ثبوت دینا ہے۔
قوم ہوازن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولین دایہ حلیمہ سعدیہ تھیں۔
ابن اسحاق نے مغازی میں نکالا کہ ہوازن والوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں عرض کیا تھا آپ ان عورتوں پر احسان کیجئے جن کا آپ نے دودھ پیا ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بنا پر ہوازن والوں کو بھائی قرار دیا اور مجاہدین سے فرمایا کہ وہ اپنے اپنے حصہ کے لونڈی غلام ان کو واپس کردیں‘ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔
اس حدیث میں کئی ایک تمدنی امور بھی بتلائے گئے ہیں جن میں اقوام میں نمائندگی کا اصول بھی ہے جسے اسلام نے سکھایا ہے اسی اصول پر موجودہ جمہوری طرز حکومت وجود میں آیا ہے۔
اس روایت کی سندمیں مروان بن حکم کا بھی نام آیا ہے‘ اس پر مولانا وحید الزمان مرحوم فرماتے ہیں:
مروان نے نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے‘ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی ہے۔
اس کے اعمال بہت خراب تھے اور اسی وجہ سے لوگوں نے حضرت امام بخاری پر طعن کیا ہے کہا مروان سے روایت کرتے ہیں۔
حالانکہ حضرت امام بخاری ؒ نے اکیلے مروان سے روایت نہیں کی‘ بلکہ مسور بن مخرمہ ؓ کے ساتھ‘ جوصحابی ہیں‘ روایت کی ہے اور اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض برے شخص حدیث کی روایت میں سچا اور با احتیاط ہوتا ہے تو محدثین اس سے روایت کرتے ہیں۔
اور کوئی شخص بہت نیک اور صالح ہوتاہے لیکن وہ عبادت یا دوسرے علم میں مصروف رہنے کہ وجہ سے حدیث کے الفاظ اور متن کا خوب خیال نہیں رکھتا‘ تومحدثین اس سے روایت نہیں کرتے یا اس کی روایت کو ضعیف جانتے ہیں۔
ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔
مجتہدین عظام میں کچھ حضرات توایسے ہیں جن کا طریقہ کار استخراج و استنباط مسائل اجتہاد کے طریق پر تھا۔
کچھ فقہ اور حدیث ہر دو کے جامع تھے۔
بہر حال حضرت امام بخاری ؒ اپنی جگہ پر مجتہد مطلق ہیں۔
اگر وہ کسی جگہ مروان جیسے لوگوں کی مرویات نقل کرتے ہیں تو ان کے ساتھ کسی اور معتبر شاہد کو بھی پیش کردیتے ہیں۔
جو ان کے کمال احتیاط کی دلیل ہے اور اس بنا پر ان پر طعن کرنا محض تعصب اور کورباطنی کا ثبوت دینا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3131]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3131
حدیث حاشیہ:
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے پہلے دودھ پلانے والی حلیمہ سعدیہ ہوازن قبیلے سے تھیں ہوازن والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ آپ ان عورتوں پر احسان کیجیے جن کا آپ نے دودھ پیا ہے ہے۔
اسی بناپر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہوازن والوں کو بھائی قرار دیا اور مجاہدین سے فرمایا:
”وہ اپنے حصے کے غلام اور لونڈیاں آزاد کریں اور ان کو واپس کردیں۔
“ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔
2۔
امام بخاری ؒ نے اس سے ثابت کیا ہے کہ خمس کا مصرف امام کی صوابدید پر موقوف ہے کیونکہ آپ نے فرمایا:
”ہم پہلے پہلے مال فے سے جو اللہ ہمیں عطا فرمائےگا۔
اس میں سے اس کو حصہ دیں گے۔
“ ان الفاظ کا ظاہری مفہوم یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد مال خمس ہے جو مسلمانوں کی ضروریات کے لیے صرف ہوگا۔
واللہ أعلم۔
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے پہلے دودھ پلانے والی حلیمہ سعدیہ ہوازن قبیلے سے تھیں ہوازن والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ آپ ان عورتوں پر احسان کیجیے جن کا آپ نے دودھ پیا ہے ہے۔
اسی بناپر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہوازن والوں کو بھائی قرار دیا اور مجاہدین سے فرمایا:
”وہ اپنے حصے کے غلام اور لونڈیاں آزاد کریں اور ان کو واپس کردیں۔
“ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔
2۔
امام بخاری ؒ نے اس سے ثابت کیا ہے کہ خمس کا مصرف امام کی صوابدید پر موقوف ہے کیونکہ آپ نے فرمایا:
”ہم پہلے پہلے مال فے سے جو اللہ ہمیں عطا فرمائےگا۔
اس میں سے اس کو حصہ دیں گے۔
“ ان الفاظ کا ظاہری مفہوم یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد مال خمس ہے جو مسلمانوں کی ضروریات کے لیے صرف ہوگا۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3131]
Sahih Bukhari Hadith 3131 in Urdu
مروان بن الحكم القرشي ← المسور بن مخرمة القرشي