علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب النوم مع الحائض وهى فى ثيابها:
باب: حائضہ عورت کے ساتھ سونا جب کہ وہ حیض کے کپڑوں میں ہو۔
حدیث نمبر: 322
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:" حِضْتُ وَأَنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمِيلَةِ، فَانْسَلَلْتُ فَخَرَجْتُ مِنْهَا فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حِيضَتِي فَلَبِسْتُهَا، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنُفِسْتِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَدَعَانِي فَأَدْخَلَنِي مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ، قَالَتْ: وَحَدَّثَتْنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ، وَكُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ".
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شیبان نحوی نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چادر میں لیٹی ہوئی تھی کہ مجھے حیض آ گیا، اس لیے میں چپکے سے نکل آئی اور اپنے حیض کے کپڑے پہن لیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا تمہیں حیض آ گیا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ پھر مجھے آپ نے بلا لیا اور اپنے ساتھ چادر میں داخل کر لیا۔ زینب نے کہا کہ مجھ سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے اور اسی حالت میں ان کا بوسہ لیتے۔ اور میں نے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی برتن میں جنابت کا غسل کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 322]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
322
| أنفست قلت نعم فدعاني فأدخلني معه في الخميلة يقبلها وهو صائم أغتسل أنا والنبي من إناء واحد من الجنابة |
صحيح البخاري |
1929
| يغتسلان من إناء واحد يقبلها وهو صائم |
صحيح مسلم |
683
| أنفست قلت نعم فدعاني فاضطجعت معه في الخميلة هي ورسول الله يغتسلان في الإناء الواحد من الجنابة |
صحيح مسلم |
735
| يغتسلان في الإناء الواحد من الجنابة |
سنن ابن ماجه |
380
| يغتسلان من إناء واحد |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 322 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:322
حدیث حاشیہ:
1۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ ۖ﴾ ”اور (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم )
لوگ آپ سے حیض کے متعلق دریافت کرتے ہیں آپ کہہ دیں کہ وہ گندا اور نقصان دہ (خون)
ہوتا ہے اس لیے حالت حیض میں اپنی عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں ان کے قریب نہ جاؤ۔
“ (البقرة 2/222)
قرآن کریم کی اس ظاہر نص سے عورتوں سے بحالت حیض اعتزال (علیحدگی)
اور عدم قرب کا حکم ہے تو پھر اس حالت میں ان کے ساتھ لیٹنے کا جواز کیونکر ہو سکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شرعی احکام کے اثبات کے لیے اکیلا قرآن کافی نہیں جب تک صاحب قرآن کے فرمودات کو اس کے ساتھ نہ ملایا جائے۔
صرف قرآن سے شرعی احکام معلوم کرنا ایک سنگین غلطی ہے۔
اس سلسلے میں صرف ظاہر نص قران پر انحصار نہیں کیا جا سکتا، احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ اعتزال اور عدم قربت کا مفہوم کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کے مفہوم کو بایں الفاظ متعین فرمایا:
”حائضہ عورت کو گھر میں رہنے دو جماع کے علاوہ تمھیں ہر چیز کی اجازت ہے“ (سنن أبي داود، النکاح، حدیث: 2165)
مذکورہ حدیث اُم سلمہ ؓ نے اس کی مزید وضاحت فرمادی کہ حائضہ عورت کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کھانے پینے اس کے ساتھ لیٹنے الغرض جماع کے علاوہ دیگر ہر قسم کے امور استمتاع کی اجازت ہے۔
اس کی مکمل وضاحت پہلے ہو چکی ہے۔
1۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ ۖ﴾ ”اور (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم )
لوگ آپ سے حیض کے متعلق دریافت کرتے ہیں آپ کہہ دیں کہ وہ گندا اور نقصان دہ (خون)
ہوتا ہے اس لیے حالت حیض میں اپنی عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں ان کے قریب نہ جاؤ۔
“ (البقرة 2/222)
قرآن کریم کی اس ظاہر نص سے عورتوں سے بحالت حیض اعتزال (علیحدگی)
اور عدم قرب کا حکم ہے تو پھر اس حالت میں ان کے ساتھ لیٹنے کا جواز کیونکر ہو سکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شرعی احکام کے اثبات کے لیے اکیلا قرآن کافی نہیں جب تک صاحب قرآن کے فرمودات کو اس کے ساتھ نہ ملایا جائے۔
صرف قرآن سے شرعی احکام معلوم کرنا ایک سنگین غلطی ہے۔
اس سلسلے میں صرف ظاہر نص قران پر انحصار نہیں کیا جا سکتا، احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ اعتزال اور عدم قربت کا مفہوم کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کے مفہوم کو بایں الفاظ متعین فرمایا:
”حائضہ عورت کو گھر میں رہنے دو جماع کے علاوہ تمھیں ہر چیز کی اجازت ہے“ (سنن أبي داود، النکاح، حدیث: 2165)
مذکورہ حدیث اُم سلمہ ؓ نے اس کی مزید وضاحت فرمادی کہ حائضہ عورت کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کھانے پینے اس کے ساتھ لیٹنے الغرض جماع کے علاوہ دیگر ہر قسم کے امور استمتاع کی اجازت ہے۔
اس کی مکمل وضاحت پہلے ہو چکی ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 322]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 683
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چادر میں لیٹی ہوئی تھی، اس اثنا میں مجھے حیض آ گیا، اور میں کھسک گئی، اور میں نے اپنے حالت حیض والے کپڑے لیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”کیا تمہیں حیض آنا شروع ہو گیا ہے۔“ میں نے کہا جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چادر میں لیٹ گئی۔ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے بتایا، میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکٹھے برتن سے غسل جنابت کر لیتے تھے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:683]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
الْخَمِيلَةِ:
ڈوروں والا کپڑا چادر۔
(2)
حِيْضَة:
حالت حیض۔
(3)
نَفِسْتِ:
نفس خون کو کہتے ہیں،
اس لیے یہ لفظ حیض اور ولادت دونوں کے خون کے لیے استعمال ہو جاتا ہے۔
یہاں حیض مراد ہے،
ولادت کے لیے نفست نون کے ضمہ سے اور حیض کے لیے نون کے فتحہ سے۔
فوائد ومسائل:
حائضہ عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹنا سونا جائز ہے۔
صرف خاص تعلقات قائم کرنا منع ہے۔
مفردات الحدیث:
(1)
الْخَمِيلَةِ:
ڈوروں والا کپڑا چادر۔
(2)
حِيْضَة:
حالت حیض۔
(3)
نَفِسْتِ:
نفس خون کو کہتے ہیں،
اس لیے یہ لفظ حیض اور ولادت دونوں کے خون کے لیے استعمال ہو جاتا ہے۔
یہاں حیض مراد ہے،
ولادت کے لیے نفست نون کے ضمہ سے اور حیض کے لیے نون کے فتحہ سے۔
فوائد ومسائل:
حائضہ عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹنا سونا جائز ہے۔
صرف خاص تعلقات قائم کرنا منع ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 683]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1929
1929. حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک منقش چادر میں تھی کہ مجھے حیض آنے لگا۔ میں جلدی سے نکل گئی اور حیض کے کپڑے پہن لیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھیں کیا ہوگیا ہے؟کیا تمھیں حیض آنے لگا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، پھر میں آپ کے ساتھ چادر میں داخل ہوگئی، نیز وہ اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل کرلیتے۔ اور آپ ان کو بوسہ دیتے حالانکہ آپ روزے سے ہوتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1929]
حدیث حاشیہ:
شریعت ایک آسان جامع قانون کا نام ہے جس کا زندگی کے ہر ہر گوشے سے تعلق ضروری ہے، میاں بیوی کا تعلق جو بھی ہے ظاہر ہے اس لیے حالت روزہ میں اپنی بیوی کے ساتھ بوس و کنار کو جائز رکھا گیا بشرطیکہ بوسہ لینے والوں کو اپنی طبیعت پر پورا قابو حاصل ہو، اسی لیے جوانوں کے واسطے بوس و کنار کی اجازت نہیں۔
ان کا نفس غالب رہتا ہے ہاں یہ خوف نہ ہو تو جائز ہے۔
شریعت ایک آسان جامع قانون کا نام ہے جس کا زندگی کے ہر ہر گوشے سے تعلق ضروری ہے، میاں بیوی کا تعلق جو بھی ہے ظاہر ہے اس لیے حالت روزہ میں اپنی بیوی کے ساتھ بوس و کنار کو جائز رکھا گیا بشرطیکہ بوسہ لینے والوں کو اپنی طبیعت پر پورا قابو حاصل ہو، اسی لیے جوانوں کے واسطے بوس و کنار کی اجازت نہیں۔
ان کا نفس غالب رہتا ہے ہاں یہ خوف نہ ہو تو جائز ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1929]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1929
1929. حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک منقش چادر میں تھی کہ مجھے حیض آنے لگا۔ میں جلدی سے نکل گئی اور حیض کے کپڑے پہن لیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھیں کیا ہوگیا ہے؟کیا تمھیں حیض آنے لگا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، پھر میں آپ کے ساتھ چادر میں داخل ہوگئی، نیز وہ اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل کرلیتے۔ اور آپ ان کو بوسہ دیتے حالانکہ آپ روزے سے ہوتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1929]
حدیث حاشیہ:
(1)
روزہ دار کے لیے اپنی بیوی کو بوسہ دینے کے متعلق مختلف آراء ہیں:
بعض نے جوان اور بوڑھے ہونے کا فرق بیان کیا ہے اور بعض حضرات نے اپنے آپ پر کنٹرول کرنے کو مدار قرار دیا ہے۔
امام نووی ؒ فرماتے ہیں کہ بحالت روزہ بیوی کو بوسہ دینا حرام نہیں بشرطیکہ اس سے شہوت میں کوئی تحریک پیدا نہ ہو، تاہم بہتر ہے کہ اجتناب کیا جائے۔
اور جس انسان میں بوسہ دینے سے تحریک پیدا ہو سکتی ہے اس کے لیے یہ کام حرام ہے۔
اور اگر بوس و کنار کرتے وقت انزال ہو جائے تو اس کا روزہ باطل ہے، اسے بعد میں اس کی قضا دینی ہو گی۔
(فتح الباري: 195/4)
حضرت عمر بن ابی سلمہ ؓ نے ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ روزے دار اپنی بیوی کو بوسہ دے سکتا ہے؟ تو آپ نے حضرت ام سلمہ ؓ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا:
”اس سے پوچھ لو۔
“ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ ایسا کر لیتے ہیں۔
اس نے عرض کی:
اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کے تمام گزشتہ اور پیوستہ گناہ کو معاف کر دیے ہیں۔
آپ نے فرمایا:
”میں تمہاری نسبت اللہ سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔
“ (صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2288(1108) (2)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ روزے کی حالت میں بیوی سے بوس و کنار کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت نہیں، صرف خود پر کنٹرول کرنا ضروری ہے۔
واللہ أعلم
(1)
روزہ دار کے لیے اپنی بیوی کو بوسہ دینے کے متعلق مختلف آراء ہیں:
بعض نے جوان اور بوڑھے ہونے کا فرق بیان کیا ہے اور بعض حضرات نے اپنے آپ پر کنٹرول کرنے کو مدار قرار دیا ہے۔
امام نووی ؒ فرماتے ہیں کہ بحالت روزہ بیوی کو بوسہ دینا حرام نہیں بشرطیکہ اس سے شہوت میں کوئی تحریک پیدا نہ ہو، تاہم بہتر ہے کہ اجتناب کیا جائے۔
اور جس انسان میں بوسہ دینے سے تحریک پیدا ہو سکتی ہے اس کے لیے یہ کام حرام ہے۔
اور اگر بوس و کنار کرتے وقت انزال ہو جائے تو اس کا روزہ باطل ہے، اسے بعد میں اس کی قضا دینی ہو گی۔
(فتح الباري: 195/4)
حضرت عمر بن ابی سلمہ ؓ نے ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ روزے دار اپنی بیوی کو بوسہ دے سکتا ہے؟ تو آپ نے حضرت ام سلمہ ؓ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا:
”اس سے پوچھ لو۔
“ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ ایسا کر لیتے ہیں۔
اس نے عرض کی:
اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کے تمام گزشتہ اور پیوستہ گناہ کو معاف کر دیے ہیں۔
آپ نے فرمایا:
”میں تمہاری نسبت اللہ سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔
“ (صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2288(1108) (2)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ روزے کی حالت میں بیوی سے بوس و کنار کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت نہیں، صرف خود پر کنٹرول کرنا ضروری ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1929]
Sahih Bukhari Hadith 322 in Urdu
زينب بنت أم سلمة المخزومية ← أم سلمة زوج النبي