صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب الاضطجاع مع الحائض في لحاف واحد:
باب: اوڑھنے کے ایک کپڑے میں حائضہ بیوی کے ساتھ ایک بستر میں لیٹنا۔
ترقیم عبدالباقی: 296 ترقیم شاملہ: -- 683
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهَا، قَالَتْ: " بَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمِيلَةِ، إِذْ حِضْتُ، فَانْسَلَلْتُ، فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حِيضَتِي، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَفِسْتِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَدَعَانِي، فَاضْطَجَعْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ، قَالَتْ: وَكَانَتْ هِيَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلَانِ فِي الإِنَاءِ الْوَاحِدِ مِنَ الْجَنَابَةِ ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے بیان کیا کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا، کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رؤئیں دار چادر میں لیٹی ہوئی تھی، اس اثنا میں میرے ایام کا آغاز ہو گیا اور میں کھسک گئی اور ان ایام کے کپڑے لے لیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے ایام شروع ہو گئے؟“ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ تو آپ نے مجھے پاس بلا لیا اور میں آپ کے ساتھ اوڑھنے کی ایک ہی رؤئیں دار چادر میں لیٹ گئی۔ ام سلمہ نے بتایا کہ وہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکٹھے ایک برتن میں غسل جنابت کر لیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 683]
حضرت ام سلمة رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چادر میں لیٹی ہوئی تھی، اس اثنا میں مجھے حیض آ گیا، اور میں کھسک گئی، اور میں نے اپنے حالت حیض والے کپڑے لیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”کیا تجہ حیض ہو گئی؟۔“ میں نے کہا جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چادر میں لیٹ گئی۔ ام سلمة رضی اللہ عنہا نے بتایا، میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکٹھے برتن سے غسل جنابت کر لیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 683]
ترقیم فوادعبدالباقی: 296
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
322
| أنفست قلت نعم فدعاني فأدخلني معه في الخميلة يقبلها وهو صائم أغتسل أنا والنبي من إناء واحد من الجنابة |
صحيح البخاري |
1929
| يغتسلان من إناء واحد يقبلها وهو صائم |
صحيح مسلم |
683
| أنفست قلت نعم فدعاني فاضطجعت معه في الخميلة هي ورسول الله يغتسلان في الإناء الواحد من الجنابة |
صحيح مسلم |
735
| يغتسلان في الإناء الواحد من الجنابة |
سنن ابن ماجه |
380
| يغتسلان من إناء واحد |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 683 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 683
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
الْخَمِيلَةِ:
ڈوروں والا کپڑا چادر۔
(2)
حِيْضَة:
حالت حیض۔
(3)
نَفِسْتِ:
نفس خون کو کہتے ہیں،
اس لیے یہ لفظ حیض اور ولادت دونوں کے خون کے لیے استعمال ہو جاتا ہے۔
یہاں حیض مراد ہے،
ولادت کے لیے نفست نون کے ضمہ سے اور حیض کے لیے نون کے فتحہ سے۔
فوائد ومسائل:
حائضہ عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹنا سونا جائز ہے۔
صرف خاص تعلقات قائم کرنا منع ہے۔
مفردات الحدیث:
(1)
الْخَمِيلَةِ:
ڈوروں والا کپڑا چادر۔
(2)
حِيْضَة:
حالت حیض۔
(3)
نَفِسْتِ:
نفس خون کو کہتے ہیں،
اس لیے یہ لفظ حیض اور ولادت دونوں کے خون کے لیے استعمال ہو جاتا ہے۔
یہاں حیض مراد ہے،
ولادت کے لیے نفست نون کے ضمہ سے اور حیض کے لیے نون کے فتحہ سے۔
فوائد ومسائل:
حائضہ عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹنا سونا جائز ہے۔
صرف خاص تعلقات قائم کرنا منع ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 683]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1929
1929. حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک منقش چادر میں تھی کہ مجھے حیض آنے لگا۔ میں جلدی سے نکل گئی اور حیض کے کپڑے پہن لیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھیں کیا ہوگیا ہے؟کیا تمھیں حیض آنے لگا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، پھر میں آپ کے ساتھ چادر میں داخل ہوگئی، نیز وہ اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل کرلیتے۔ اور آپ ان کو بوسہ دیتے حالانکہ آپ روزے سے ہوتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1929]
حدیث حاشیہ:
شریعت ایک آسان جامع قانون کا نام ہے جس کا زندگی کے ہر ہر گوشے سے تعلق ضروری ہے، میاں بیوی کا تعلق جو بھی ہے ظاہر ہے اس لیے حالت روزہ میں اپنی بیوی کے ساتھ بوس و کنار کو جائز رکھا گیا بشرطیکہ بوسہ لینے والوں کو اپنی طبیعت پر پورا قابو حاصل ہو، اسی لیے جوانوں کے واسطے بوس و کنار کی اجازت نہیں۔
ان کا نفس غالب رہتا ہے ہاں یہ خوف نہ ہو تو جائز ہے۔
شریعت ایک آسان جامع قانون کا نام ہے جس کا زندگی کے ہر ہر گوشے سے تعلق ضروری ہے، میاں بیوی کا تعلق جو بھی ہے ظاہر ہے اس لیے حالت روزہ میں اپنی بیوی کے ساتھ بوس و کنار کو جائز رکھا گیا بشرطیکہ بوسہ لینے والوں کو اپنی طبیعت پر پورا قابو حاصل ہو، اسی لیے جوانوں کے واسطے بوس و کنار کی اجازت نہیں۔
ان کا نفس غالب رہتا ہے ہاں یہ خوف نہ ہو تو جائز ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1929]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:322
322. حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چادر میں لیٹی ہوئی تھی کہ مجھے حیض آ گیا۔ میں آہستہ سے اٹھی اور اس چادر سے نکل آئی۔ پھر میں نے اپنے حیض کے کپڑے لیے اور انھیں پہن لیا۔ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں حیض آ گیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! تو آپ نے مجھے بلا لیا اور اپنے ساتھ چادر میں لے لیا۔ زینب نے کہا: حضرت ام سلمہ ؓ نے یہ بھی بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں ہوتے تھے اور اسی حالت مین ان کا بوسہ لے لیتے تھے، نیز میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل جنابت کرتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:322]
حدیث حاشیہ:
1۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ ۖ﴾ ”اور (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم )
لوگ آپ سے حیض کے متعلق دریافت کرتے ہیں آپ کہہ دیں کہ وہ گندا اور نقصان دہ (خون)
ہوتا ہے اس لیے حالت حیض میں اپنی عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں ان کے قریب نہ جاؤ۔
“ (البقرة 2/222)
قرآن کریم کی اس ظاہر نص سے عورتوں سے بحالت حیض اعتزال (علیحدگی)
اور عدم قرب کا حکم ہے تو پھر اس حالت میں ان کے ساتھ لیٹنے کا جواز کیونکر ہو سکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شرعی احکام کے اثبات کے لیے اکیلا قرآن کافی نہیں جب تک صاحب قرآن کے فرمودات کو اس کے ساتھ نہ ملایا جائے۔
صرف قرآن سے شرعی احکام معلوم کرنا ایک سنگین غلطی ہے۔
اس سلسلے میں صرف ظاہر نص قران پر انحصار نہیں کیا جا سکتا، احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ اعتزال اور عدم قربت کا مفہوم کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کے مفہوم کو بایں الفاظ متعین فرمایا:
”حائضہ عورت کو گھر میں رہنے دو جماع کے علاوہ تمھیں ہر چیز کی اجازت ہے“ (سنن أبي داود، النکاح، حدیث: 2165)
مذکورہ حدیث اُم سلمہ ؓ نے اس کی مزید وضاحت فرمادی کہ حائضہ عورت کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کھانے پینے اس کے ساتھ لیٹنے الغرض جماع کے علاوہ دیگر ہر قسم کے امور استمتاع کی اجازت ہے۔
اس کی مکمل وضاحت پہلے ہو چکی ہے۔
1۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ ۖ﴾ ”اور (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم )
لوگ آپ سے حیض کے متعلق دریافت کرتے ہیں آپ کہہ دیں کہ وہ گندا اور نقصان دہ (خون)
ہوتا ہے اس لیے حالت حیض میں اپنی عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں ان کے قریب نہ جاؤ۔
“ (البقرة 2/222)
قرآن کریم کی اس ظاہر نص سے عورتوں سے بحالت حیض اعتزال (علیحدگی)
اور عدم قرب کا حکم ہے تو پھر اس حالت میں ان کے ساتھ لیٹنے کا جواز کیونکر ہو سکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شرعی احکام کے اثبات کے لیے اکیلا قرآن کافی نہیں جب تک صاحب قرآن کے فرمودات کو اس کے ساتھ نہ ملایا جائے۔
صرف قرآن سے شرعی احکام معلوم کرنا ایک سنگین غلطی ہے۔
اس سلسلے میں صرف ظاہر نص قران پر انحصار نہیں کیا جا سکتا، احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ اعتزال اور عدم قربت کا مفہوم کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کے مفہوم کو بایں الفاظ متعین فرمایا:
”حائضہ عورت کو گھر میں رہنے دو جماع کے علاوہ تمھیں ہر چیز کی اجازت ہے“ (سنن أبي داود، النکاح، حدیث: 2165)
مذکورہ حدیث اُم سلمہ ؓ نے اس کی مزید وضاحت فرمادی کہ حائضہ عورت کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کھانے پینے اس کے ساتھ لیٹنے الغرض جماع کے علاوہ دیگر ہر قسم کے امور استمتاع کی اجازت ہے۔
اس کی مکمل وضاحت پہلے ہو چکی ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 322]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1929
1929. حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک منقش چادر میں تھی کہ مجھے حیض آنے لگا۔ میں جلدی سے نکل گئی اور حیض کے کپڑے پہن لیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھیں کیا ہوگیا ہے؟کیا تمھیں حیض آنے لگا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، پھر میں آپ کے ساتھ چادر میں داخل ہوگئی، نیز وہ اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل کرلیتے۔ اور آپ ان کو بوسہ دیتے حالانکہ آپ روزے سے ہوتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1929]
حدیث حاشیہ:
(1)
روزہ دار کے لیے اپنی بیوی کو بوسہ دینے کے متعلق مختلف آراء ہیں:
بعض نے جوان اور بوڑھے ہونے کا فرق بیان کیا ہے اور بعض حضرات نے اپنے آپ پر کنٹرول کرنے کو مدار قرار دیا ہے۔
امام نووی ؒ فرماتے ہیں کہ بحالت روزہ بیوی کو بوسہ دینا حرام نہیں بشرطیکہ اس سے شہوت میں کوئی تحریک پیدا نہ ہو، تاہم بہتر ہے کہ اجتناب کیا جائے۔
اور جس انسان میں بوسہ دینے سے تحریک پیدا ہو سکتی ہے اس کے لیے یہ کام حرام ہے۔
اور اگر بوس و کنار کرتے وقت انزال ہو جائے تو اس کا روزہ باطل ہے، اسے بعد میں اس کی قضا دینی ہو گی۔
(فتح الباري: 195/4)
حضرت عمر بن ابی سلمہ ؓ نے ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ روزے دار اپنی بیوی کو بوسہ دے سکتا ہے؟ تو آپ نے حضرت ام سلمہ ؓ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا:
”اس سے پوچھ لو۔
“ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ ایسا کر لیتے ہیں۔
اس نے عرض کی:
اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کے تمام گزشتہ اور پیوستہ گناہ کو معاف کر دیے ہیں۔
آپ نے فرمایا:
”میں تمہاری نسبت اللہ سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔
“ (صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2288(1108) (2)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ روزے کی حالت میں بیوی سے بوس و کنار کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت نہیں، صرف خود پر کنٹرول کرنا ضروری ہے۔
واللہ أعلم
(1)
روزہ دار کے لیے اپنی بیوی کو بوسہ دینے کے متعلق مختلف آراء ہیں:
بعض نے جوان اور بوڑھے ہونے کا فرق بیان کیا ہے اور بعض حضرات نے اپنے آپ پر کنٹرول کرنے کو مدار قرار دیا ہے۔
امام نووی ؒ فرماتے ہیں کہ بحالت روزہ بیوی کو بوسہ دینا حرام نہیں بشرطیکہ اس سے شہوت میں کوئی تحریک پیدا نہ ہو، تاہم بہتر ہے کہ اجتناب کیا جائے۔
اور جس انسان میں بوسہ دینے سے تحریک پیدا ہو سکتی ہے اس کے لیے یہ کام حرام ہے۔
اور اگر بوس و کنار کرتے وقت انزال ہو جائے تو اس کا روزہ باطل ہے، اسے بعد میں اس کی قضا دینی ہو گی۔
(فتح الباري: 195/4)
حضرت عمر بن ابی سلمہ ؓ نے ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ روزے دار اپنی بیوی کو بوسہ دے سکتا ہے؟ تو آپ نے حضرت ام سلمہ ؓ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا:
”اس سے پوچھ لو۔
“ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ ایسا کر لیتے ہیں۔
اس نے عرض کی:
اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کے تمام گزشتہ اور پیوستہ گناہ کو معاف کر دیے ہیں۔
آپ نے فرمایا:
”میں تمہاری نسبت اللہ سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔
“ (صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2288(1108) (2)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ روزے کی حالت میں بیوی سے بوس و کنار کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت نہیں، صرف خود پر کنٹرول کرنا ضروری ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1929]
زينب بنت أم سلمة المخزومية ← أم سلمة زوج النبي