صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب خير مال المسلم غنم يتبع بها شعف الجبال:
باب: مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہیں جن کو چرانے کے لیے پہاڑوں کی چوٹیوں پر پھرتا رہے۔
حدیث نمبر: 3310
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ أَبِي يُونُسَ الْقُشَيْرِيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقْتُلُ الْحَيَّاتِ ثُمَّ نَهَى، قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدَمَ حَائِطًا لَهُ فَوَجَدَ فِيهِ سِلْخَ حَيَّةٍ، فَقَالَ: انْظُرُوا أَيْنَ هُوَ فَنَظَرُوا، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ فَكُنْتُ أَقْتُلُهَا لِذَلِكَ.
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے ابویونس قشیری (حاتم بن ابی صغیرہ) نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سانپوں کو پہلے مار ڈالا کرتے تھے لیکن بعد میں انہیں مارنے سے خود ہی منع کرنے لگے۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک دیوار گروائی تو اس میں سے ایک سانپ کی کینچلی نکلی، آپ نے فرمایا کہ دیکھو، وہ سانپ کہاں ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے تلاش کیا (اور وہ مل گیا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مار ڈالو، میں بھی اسی وجہ سے سانپوں کو مار ڈالا کرتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3310]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ سانپوں کو قتل کیا کرتے تھے، پھر منع کرنے لگے اور کہا: (ایک مرتبہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دیوار گرائی تو اس میں سانپ کی کینچلی ملی تو آپ نے فرمایا: ”دیکھو سانپ کہاں ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دیکھ لیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے مار ڈالو۔“ اس لیے میں انہیں مارا کرتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3310]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Bukhari Hadith 3310 in Urdu
عبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي