🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1M. باب قول الله تعالى: {وإذ قال ربك للملائكة إني جاعل فى الأرض خليفة} :
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ البقرہ میں) یہ فرمانا ”اے رسول! وہ وقت یاد کر جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا میں زمین میں ایک (قوم کو) جانشین بنانے والا ہوں“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3331
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَمُوسَى بْنُ حِزَامٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَيْسَرَةَ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ فَإِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ وَإِنَّ أَعْوَجَ شَيْءٍ فِي الضِّلَعِ أَعْلَاهُ، فَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسَرْتَهُ، وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ فَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ".
ہم سے ابوکریب اور موسیٰ بن حزام نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حسین بن علی نے بیان کیا، ان سے زائدہ نے، ان سے میسرہ اشجعی نے، ان سے ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کے بارے میں میری وصیت کا ہمیشہ خیال رکھنا، کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے۔ پسلی میں بھی سب سے زیادہ ٹیڑھا اوپر کا حصہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اسے بالکل سیدھی کرنے کی کوشش کرے تو انجام کار توڑ کے رہے گا اور اگر اسے وہ یونہی چھوڑ دے گا تو پھر ہمیشہ ٹیڑھی ہی رہ جائے گی۔ پس عورتوں کے بارے میں میری نصیحت مانو، عورتوں سے اچھا سلوک کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3331]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سلمان مولى عزة، أبو حازم
Newسلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥ميسرة بن عمارالأشجعي
Newميسرة بن عمارالأشجعي ← سلمان مولى عزة
ثقة
👤←👥زائدة بن قدامة الثقفي، أبو الصلت
Newزائدة بن قدامة الثقفي ← ميسرة بن عمارالأشجعي
ثقة ثبت
👤←👥الحسين بن علي الجعفي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newالحسين بن علي الجعفي ← زائدة بن قدامة الثقفي
ثقة متقن
👤←👥موسى بن حزام الترمذي، أبو عمران
Newموسى بن حزام الترمذي ← الحسين بن علي الجعفي
ثقة
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← موسى بن حزام الترمذي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5185
يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يؤذي جاره استوصوا بالنساء خيرا فإن هن خلقن من ضلع وإن أعوج شيء في الضلع أعلاه فإن ذهبت تقيمه كسرته وإن تركته لم يزل أعوج فاستوصوا بالنساء خيرا
صحيح البخاري
3331
استوصوا بالنساء المرأة خلقت من ضلع وإن أعوج 1شيء في الضلع أعلاه فإن ذهبت تقيمه كسرته وإن تركته لم يزل أعوج فاستوصوا بالنساء
صحيح مسلم
3644
من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فإذا شهد أمرا فليتكلم بخير أو ليسكت استوصوا بالنساء فإن المرأة خلقت من ضلع وإن أعوج شيء في الضلع أعلاه إن ذهبت تقيمه كسرته وإن تركته لم يزل أعوج استوصوا بالنساء خيرا
المعجم الصغير للطبراني
1019
من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فإذا شهد أمرا فليتكلم فيه بحق أو ليسكت
بلوغ المرام
869
من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يؤذ جاره ،‏‏‏‏ واستوصوا بالنساء خيرا ،‏‏‏‏ فإنهن خلقن من ضلع ،‏‏‏‏ وإن أعوج شيء في الضلع أعلاه ،‏‏‏‏ فإن ذهبت تقيمه كسرته ،‏‏‏‏ وإن تركته لم يزل أعوج ،‏‏‏‏ فاستوصوا بالنساء خيرا
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3331 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3331
حدیث حاشیہ:

عورتوں کی تخلیق میں ٹیڑھا پن ہے لہٰذا اسی حالت میں ان سے فائدہ اٹھاؤ اور انھیں اپنے مزاج کے مطابق سیدھا کرنے کی کوشش نہ کرو کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے اصلی مزاج کے اعتبار سے تمھارےخیالات سے اتفاق نہ کریں اور جھگڑے تک نوبت پہنچ جائے تو ان میں جدائی کا باعث بن جائے چنانچہ ایک حدیث میں اس کی وضاحت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:
اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ بیٹھو گے اوراس کا ٹوٹنا یہ ہے کہ اسے طلاق ہو جائے گی۔
(صحیح مسلم، الرضاع، حدیث: 3643(715)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عورت کا ٹیڑھا پن اس کے اوپر والے حصے یعنی زبان میں ہے یہ زبان سےاپنے ٹیڑھے پن کا اظہارکرے گی۔
نیز عورت زبان کے متعلق اصلاحی تربیت قبول کرنے پر جلدی آمادہ نہیں ہوتی بلکہ بعض اوقات معاملہ پہلے سے زیادہ تیز ہو جاتا ہے لہٰذا اس کے ٹیڑھے پن پر صبر کرنا چاہیے اسی میں خیرو برکت ہے۔

واضح رہے کہ کہ عورت کا ضرورت سے زیادہ خاموش رہنا اور شہادت حق کے وقت اپنی زبان پر مہرسکوت لگالینا بھی اس ٹیڑھے پن کے برگ و بار ہیں۔
زبان کے متعلق اس قسم کے افراط وتفریط کا اکثر عورتیں ہی شکارہوتی ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3331]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 869
عورتوں (بیویوں) کے ساتھ رہن سہن و میل جول کا بیان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے ہمسایہ کو اذیت نہ پہنچائے اور عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت قبول کرو، بیشک ان کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے اور پسلی کا زیادہ ٹیڑھا حصہ اس کا اوپر والا ہوتا ہے۔ لہذا اگر کوئی اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے توڑ بیٹھے گا اور اگر اس کو اس کے حال پر چھوڑ دے گا تو وہ ہمیشہ ٹیڑھی رہے گی۔ پس عورتوں کے حق میں ہمیشہ بھلائی کی وصیت قبول کرو۔ (بخاری و مسلم) یہ الفاظ بخاری کے ہیں اور مسلم کی روایت میں ہے اگر تو اس سے فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے ٹیڑھے پن کے باوجود اس سے فائدہ اٹھا سکے گا اور اگر تو نے اسے سیدھا کرنے کی کوشش کی تو اسے توڑ بیٹھے گا اور اس کا توڑنا اسے طلاق دینا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 869»
تخریج:
«أخرجه البخاري، النكاح، باب الوصاة بالنساء، حديث:5185، 5186، ومسلم، الرضاع، باب الوصية بالنساء، حديث:1468.»
تشریح:
اس حدیث میں عورتوں کے ساتھ حسن معاشرت اور حسن سلوک کا حکم ہے اور ان کی چھوٹی موٹی خامیوں اور کوتاہیوں پر چشم پوشی اور درگزر کرنے کی تلقین ہے اور ان کی کمزوریوں اور ناروا حرکتوں کو برداشت کرنے کی تاکید ہے کیونکہ یہ ان کی طبیعت میں شامل ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 869]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3644
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ جب کسی معاملہ سے دوچار ہو کوئی بات پیش آئے تو اچھی بات کہے یا خاموش رہے، اور عورتوں سے خیرخواہی کرو، کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اور پسلی کا اوپر کا حصہ زیادہ ٹیڑھا ہے۔ اگر تم اس کو سیدھا کرنے لگو گے اس کو توڑ دو گے۔ اور اگر اس کو چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھا ہی رہے گا۔ عورتوں سے خیرخواہی کرو۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3644]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے،
کے دو معنی بن سکتے ہیں: 1۔
عورت میں طبعی اور فطرتی طور پر کچھ قصور اور کجی ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:
﷜﷜ ﴿خُلِقَ الْإِنسَانُ مِنْ عَجَلٍ﴾ (انبیاء: 37) (انسان جلد باز ہے)
دوسرا معنی ہے کہ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:
(خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ)
(انسانوں کو ایک ہی جان (آدم علیہ السلام)
سے پیدا کیا ہے)
﴿وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا﴾ (نساء: 1)
(اس سے اس کی بیوی (حوا)
کو پیدا کیا)
اگرحوا،
آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے پیدا نہ ہوئی تو پھر انسانوں کی تخلیق ایک نفس کی بجائے دونفسوں سے ہوئی ہے،
حالانکہ قرآن مجید نے ایک نفس سے تخلیق قرار دی ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حوا کی تخلیق جب آدم علیہ السلام سوئے ہوئے تھے تو ان کی بائیں چھوٹی پسلی سے ہوئی پسلی کا اوپر کا حصہ زیادہ کج ہوتا ہے۔
اس لیے عورت میں زیادہ کجی اس کی زبان میں ہوتی ہے۔
(وَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا)
کے تین مفہوم مراد لیے گئے ہیں ان کے بارے میں اپنے نفسوں سے خیر خواہی اور ہمدردی چا ہو۔

ان کے بارے میں خیر خواہی کی نصیحت قبول کرو۔

ان کے بارے میں ایک دوسرے کو خیر خواہی کی تلقین کرو،
اور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ عورت اگرچہ پسلی کے اعلیٰ اور زیادہ کج حصہ سے پیدا کی گئی ہے اس کا یہ مقصد نہیں ہے ان کی اصلاح کی کوشش نہیں کرنی چاہیے یا انہیں خبر کی تلقین اور بھلائی کا حکم نہیں دینا چاہیے بلکہ اصل مقصد یہ ہے کہ ان سے پیارومحبت اور رفق وملائمت کا رویہ اختیار کر کے ان کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے تشدد اور انتہا پسندی اختیار نہیں کرنی چاہیے اس لیے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے:
(باب قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ)
قائم کیا ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو آگ سے بچاؤ۔
اورقرآن مجید میں ہے:
﴿فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ﴾ (نساء)
(انہیں نصیحت کرو،
ان کو بستروں میں الگ چھوڑدو،
اور ان کو مارو)
لیکن ضرب شدید نہ ہو یا معاملہ طلاق تک نہ پہنچے کہ گھر کا نظام ہی بکھر جائے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3644]

Sahih Bukhari Hadith 3331 in Urdu