🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب ذكر إدريس عليه السلام وقول الله تعالى: {ورفعناه مكانا عليا} :
باب: ادریس علیہ السلام کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا ”اور ہم نے ان کو بلند مکان (آسمان) پر اٹھا لیا تھا“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3342
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يُذْكَرُ بِخَيْرٍ سَلامٌ عَلَى إِلْ يَاسِينَ سورة الصافات آية 130 إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ سورة الصافات آية 131 إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ سورة الصافات آية 132 يُذْكَرُ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ إِلْيَاسَ هُوَ إِدْرِيسُ.
‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «تركنا عليه في الآخرين‏» کے متعلق کہا کہ بھلائی کے ساتھ انہیں یاد کیا جاتا رہے گا۔ سلامتی ہو الیاسین پر، بیشک ہم اسی طرح مخلصین کو بدلہ دیتے ہیں۔ بیشک وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے تھا۔ ابن عباس اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ الیاس، ادریس علیہ السلام کا نام تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: Q3342]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3342
قَالَ عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، ح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ كَانَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فُرِجَ سَقْفُ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ فَفَرَجَ صَدْرِي، ثُمَّ غَسَلَهُ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي، ثُمَّ أَطْبَقَهُ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ فَلَمَّا جَاءَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، قَالَ جِبْرِيلُ: لِخَازِنِ السَّمَاءِ افْتَحْ، قَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا جِبْرِيلُ، قَالَ: مَعَكَ أَحَدٌ، قَالَ: مَعِي مُحَمَّدٌ، قَالَ: أُرْسِلَ إِلَيْهِ، قَالَ: نَعَمْ، فَافْتَحْ فَلَمَّا عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا إِذَا رَجُلٌ عَنْ يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ وَعَنْ يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ، فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟، قَالَ: هَذَا آدَمُ وَهَذِهِ الْأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ فَأَهْلُ الْيَمِينِ مِنْهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَالْأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ، فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى، ثُمَّ عَرَجَ بِي جِبْرِيلُ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: لِخَازِنِهَا افْتَحْ، فَقَالَ لَهُ: خَازِنُهَا مِثْلَ مَا، قَالَ: الْأَوَّلُ فَفَتَحَ، قَالَ أَنَسٌ: فَذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ فِي السَّمَوَاتِ إِدْرِيسَ وَمُوسَى وَعِيسَى وَإِبْرَاهِيمَ وَلَمْ يُثْبِتْ لِي كَيْفَ مَنَازِلُهُمْ غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ ذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ آدَمَ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا وَ إِبْرَاهِيمَ فِي السَّادِسَةِ، وَقَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا مَرَّ جِبْرِيلُ بِإِدْرِيسَ، قَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟، قَالَ: هَذَا إِدْرِيسُ ثُمَّ مَرَرْتُ بِمُوسَى، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا مُوسَى ثُمَّ مَرَرْتُ بِعِيسَى، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: عِيسَى ثُمَّ مَرَرْتُ بِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟، قَالَ: هَذَا إِبْرَاهِيمُ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ حَزْمٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا حَيَّةَ الْأَنْصَارِيَّ كَانَا يَقُولَانِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثُمَّ عُرِجَ بِي حَتَّى ظَهَرْتُ لِمُسْتَوًى أَسْمَعُ صَرِيفَ الْأَقْلَامِ، قَالَ: ابْنُ حَزْمٍ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَفَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ خَمْسِينَ صَلَاةً فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى أَمُرَّ بِمُوسَى، فَقَالَ مُوسَى: مَا الَّذِي فَرَضَ عَلَى أُمَّتِكَ، قُلْتُ: فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسِينَ صَلَاةً، قَالَ: فَرَاجِعْ رَبَّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ فَرَجَعْتُ فَرَاجَعْتُ رَبِّي فَوَضَعَ شَطْرَهَا فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ فَوَضَعَ شَطْرَهَا فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ فَرَجَعْتُ فَرَاجَعْتُ رَبِّي، فَقَالَ: هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ، فَقُلْتُ: قَدِ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي، ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى أَتَى بِي السِّدْرَةَ الْمُنْتَهَى فَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لَا أَدْرِي مَا هِيَ، ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا فِيهَا جَنَابِذُ اللُّؤْلُؤِ وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ".
عبدان نے کہا کہ ہمیں عبداللہ نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی اور انہیں زہری نے، (دوسری سند) اور ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عنبسہ نے، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے گھر کی چھت کھولی گئی۔ میرا قیام ان دنوں مکہ میں تھا۔ پھر جبرائیل علیہ السلام اترے اور میرا سینہ چاک کیا اور اسے زمزم کے پانی سے دھویا۔ اس کے بعد سونے کا ایک طشت لائے جو حکمت اور ایمان سے لبریز تھا، اسے میرے سینے میں انڈیل دیا۔ پھر میرا ہاتھ پکڑ کر آسمان کی طرف لے کر چلے، جب آسمان دنیا پر پہنچے تو جبرائیل علیہ السلام نے آسمان کے داروغہ سے کہا کہ دروازہ کھولو، پوچھا کہ کون صاحب ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں جبرائیل، پھر پوچھا کہ آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ جواب دیا کہ میرے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، پوچھا کہ انہیں لانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا۔ جواب دیا کہ ہاں، اب دروازہ کھلا، جب ہم آسمان پر پہنچے تو وہاں ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی، کچھ انسانی روحیں ان کے دائیں طرف تھیں اور کچھ بائیں طرف، جب وہ دائیں طرف دیکھتے تو ہنس دیتے اور جب بائیں طرف دیکھتے تو رو پڑتے۔ انہوں نے کہا خوش آمدید، نیک نبی، نیک بیٹے! میں نے پوچھا، جبرائیل! یہ صاحب کون بزرگ ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ آدم علیہ السلام ہیں اور یہ انسانی روحیں ان کے دائیں اور بائیں طرف تھیں ان کی اولاد بنی آدم کی روحیں تھیں ان کے جو دائیں طرف تھیں وہ جنتی تھیں اور جو بائیں طرف تھیں وہ دوزخی تھیں، اسی لیے جب وہ دائیں طرف دیکھتے تو مسکراتے اور جب بائیں طرف دیکھتے تو روتے تھے، پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے اوپر لے کر چڑھے اور دوسرے آسمان پر آئے، اس آسمان کے داروغہ سے بھی انہوں نے کہا کہ دروازہ کھولو، انہوں نے بھی اسی طرح کے سوالات کئے جو پہلے آسمان پر ہو چکے تھے، پھر دروازہ کھولا، انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے تفصیل سے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف آسمانوں پر ادریس، موسیٰ، عیسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام کو پایا، لیکن انہوں نے ان انبیاء کرام کے مقامات کی کوئی تخصیص نہیں کی، صرف اتنا کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدم علیہ السلام کو آسمان دنیا (پہلے آسمان پر) پایا اور ابراہیم علیہ السلام کو چھٹے پر اور انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر جب جبرائیل علیہ السلام، ادریس علیہ السلام کے پاس سے گزرے تو انہوں نے کہا خوش آمدید، نیک نبی، نیک بھائی، میں نے پوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ ادریس علیہ السلام ہیں، پھر میں عیسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا، انہوں نے بھی کہا خوش آمدید نیک نبی، نیک بھائی، میں نے پوچھا یہ کون صاحب ہیں؟ تو بتایا کہ عیسیٰ علیہ السلام۔ پھر ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے فرمایا کہ خوش آمدید نیک نبی اور نیک بیٹے، میں نے پوچھا یہ کون صاحب ہیں؟ جواب دیا کہ یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں، ابن شہاب سے زہری نے بیان کیا اور مجھے ایوب بن حزم نے خبر دی کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابوحیہ انصاری رضی اللہ عنہم بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر مجھے اوپر لے کر چڑھے اور میں اتنے بلند مقام پر پہنچ گیا جہاں سے قلم کے لکھنے کی آواز صاف سننے لگی تھی، ابوبکر بن حزم نے بیان کیا اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اللہ تعالیٰ نے پچاس وقت کی نمازیں مجھ پر فرض کیں۔ میں اس فریضہ کے ساتھ واپس ہوا اور جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پوچھا کہ آپ کی امت پر کیا چیز فرض کی گئی ہے؟ میں نے جواب دیا کہ پچاس وقت کی نمازیں ان پر فرض ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیں، کیونکہ آپ کی امت میں اتنی نمازوں کی طاقت نہیں ہے، چنانچہ میں واپس ہوا اور رب العالمین کے دربار میں مراجعت کی، اس کے نتیجے میں اس کا ایک حصہ کم کر دیا گیا، پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور اس مرتبہ بھی انہوں نے کہا کہ اپنے رب سے پھر مراجعت کریں پھر انہوں نے اپنی تفصیلات کا ذکر کیا کہ رب العالمین نے ایک حصہ کی پھر کمی کر دی، پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور انہیں خبر کی، انہوں نے کہا کہ آپ اپنے رب سے مراجعت کریں، کیونکہ آپ کی امت میں اس کی بھی طاقت نہیں ہے، پھر میں واپس ہوا اور اپنے رب سے پھر مراجعت کی، اللہ تعالیٰ نے اس مرتبہ فرما دیا کہ نمازیں پانچ وقت کی کر دی گئیں اور ثواب پچاس نمازوں کا ہی باقی رکھا گیا، ہمارا قول بدلا نہیں کرتا۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے اب بھی اسی پر زور دیا کہ اپنے رب سے آپ کو پھر مراجعت کرنی چاہئے۔ لیکن میں نے کہا کہ مجھے اللہ پاک سے باربار درخواست کرتے ہوئے اب شرم آتی ہے۔ پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے لے کر آگے بڑھے اور سدرۃ المنتہیٰ کے پاس لائے جہاں مختلف قسم کے رنگ نظر آئے، جنہوں نے اس درخت کو چھپا رکھا تھا میں نہیں جانتا کہ وہ کیا تھے۔ اس کے بعد مجھے جنت میں داخل کیا گیا تو میں نے دیکھا کہ موتی کے گنبد بنے ہوئے ہیں اور اس کی مٹی مشک کی طرح خوشبودار تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3342]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میں مکہ میں تھا تو میرے گھر کی چھت کھول دی گئی۔ پھر حضرت جبریل علیہ السلام نازل ہوئے اور انھوں نے میرے سینے کو چاک کیا۔ پھر اسے آب زمزم سے دھویا۔ اس کے بعد سونے کا ایک تھال لائے، جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا، اسے میرے سینے میں انڈیل دیا۔ پھر چاک شدہ سینے کو بند کر دیا، پھر انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمان پر لے گئے۔ جب آسمانِ اول کے قریب آئے تو انھوں نے آسمان کے نگران سے کہا: دروازہ کھولو۔ اس نے پوچھا: یہ کون ہے؟ کہا: میں جبریل ہوں۔ اس نے پوچھا: آپ کے ہمراہ کوئی ہے؟ انھوں نے بتایا: میرے ہمراہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس نے پوچھا: کیا آپ کی طرف پیغام بھیجا گیا تھا؟ کہا: ہاں، دروازہ کھولو۔ (اس نے دروازہ کھول دیا۔) جب ہم آسمانِ دنیا پر چڑھے تو وہاں ایک شخص تھا جس کے دائیں بائیں کچھ لوگ تھے۔ جب وہ اپنی دائیں طرف دیکھتا تو ہنس پڑتا اور جب بائیں جانب نظر کرتا تو رو دیتا۔ اس نے مجھے دیکھ کر کہا: خوش آمدید! اے نبی محترم اور پسرِ مکرم! میں نے حضرت جبریل علیہ السلام سے پوچھا: یہ کون ہے؟ انھوں نے بتایا کہ یہ حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور یہ ان کے دائیں بائیں انسانی روحیں ہیں۔ یہ سب ان کی اولاد کی ارواح ہیں۔ ان میں سے دائیں طرف والے جنتی ہیں اور بائیں جانب والے دوزخی۔ جب وہ دائیں طرف دیکھتے ہیں تو خوشی سے ہنس دیتے ہیں اور جب بائیں طرف نظر کرتے ہیں تو انھیں رونا آجاتا ہے۔ پھر حضرت جبریل علیہ السلام مجھے چڑھا کر اوپر لے گئے حتیٰ کہ ہم دوسرے آسمان تک پہنچ گئے۔ انھوں نے آسمان کے نگران سے کہا: دروازہ کھولو۔ اس نے وہی کہا جو پہلے آسمان کے نگران نے کہا تھا۔ پھر اس نے دروازہ کھولا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف آسمانوں پر حضرت ادریس، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور حضرت ابراہیم علیہم السلام سے ملاقات فرمائی لیکن انھوں نے ان انبیاءِ کرام علیہم السلام کے مقامات کی کوئی تخصیص نہیں کی، صرف اتنا بتایا کہ آپ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پہلے آسمان میں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو چھٹے آسمان میں دیکھا۔ نیز حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: جب حضرت جبریل علیہ السلام (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ) حضرت ادریس علیہ السلام کے پاس سے گزرے تو انھوں نے کہا: اے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور برادرِ محترم خوش آمدید! میں نے پوچھا: یہ کون صاحب ہیں؟ تو حضرت جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ حضرت ادریس علیہ السلام ہیں۔ پھر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انھوں نے کہا: خوش آمدید! اے نیک نبی اور نیک بھائی۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ تو حضرت جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ پھر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انھوں نے بھی کہا: اے نیک نبی اور نیک بھائی، مرحباً! میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ تو حضرت جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ پھر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انھوں نے کہا: مرحبا، اے نبی محترم اور پسرِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ تو حضرت جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ ابن شہاب کہتے ہیں: مجھ سے ابن حزم نے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابو حیہ انصاری رضی اللہ عنہ ذکر کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر مجھے اوپر لے جایا گیا اور میں اتنے بلند مقام پر پہنچ گیا کہ وہاں اقلام کی آواز سن رہا تھا۔ ابن حزم اور حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ نے پچاس وقت کی نمازیں مجھ پر فرض کیں۔ میں اس فریضے کو لے کر واپس آیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا۔ انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: پچاس نمازیں۔ انھوں نے کہا: آپ اپنے رب کے پاس تشریف لے جائیں کیونکہ آپ کی امت میں اتنی نمازیں پڑھنے کی طاقت نہیں ہے۔ چنانچہ میں واپس آیا اور اپنے رب سے نظرِ ثانی کی اپیل کی تو اللہ تعالیٰ نے کچھ نمازیں کم کر دیں۔ پھر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انھوں نے کہا: اپنے رب کے پاس واپس جائیں اور نظرِ ثانی کی اپیل کریں، چنانچہ میں نے اپنے رب سے نظرِ ثانی کی اپیل کی تو اللہ تعالیٰ نے کچھ نمازیں کم کیں۔ پھر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور انھیں بتایا۔ (کہ اللہ نے نمازوں کا کچھ اور حصہ کم کر دیا ہے۔) موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ اپنے رب سے پھر مراجعت کریں کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی۔ (اسی طرح بار بار آنے جانے کا سلسلہ جاری رہا) بالآخر میں رب العالمین کے حضور گیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: نمازیں پانچ ہیں مگر ثواب پچاس نمازوں ہی کا باقی رکھا گیا ہے۔ ہمارے ہاں بات بدلا نہیں کرتی۔ پھر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا تو انھوں نے اب بھی اسی پر زور دیا کہ اپنے رب سے آپ کو پھر مراجعت کرنی چاہیے۔ میں نے کہا کہ اب مجھے اپنے رب کریم سے حیا آتی ہے۔ پھر حضرت جبریل علیہ السلام میرے ساتھ ہم سفر ہوئے حتیٰ کہ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے۔ کیا دیکھتا ہوں کہ اسے مختلف رنگوں نے ڈھانپ رکھا ہے نہ معلوم وہ کیا تھے۔ پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا۔ وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ موتیوں کے گنبد ہیں اور اس کی مٹی مشک کی طرح خوشبودار ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3342]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥أبو بكر بن عمرو الأنصاري، أبو محمد، أبو بكر
Newأبو بكر بن عمرو الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥عامر بن عمرو الأنصاري، أبو حبة
Newعامر بن عمرو الأنصاري ← أبو بكر بن عمرو الأنصاري
صحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← عامر بن عمرو الأنصاري
صحابي
👤←👥أبو بكر بن عمرو الأنصاري، أبو محمد، أبو بكر
Newأبو بكر بن عمرو الأنصاري ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذر
Newأبو ذر الغفاري ← أبو بكر بن عمرو الأنصاري
صحابي
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر
Newأنس بن مالك الأنصاري ← أبو ذر الغفاري
صحابي
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← أنس بن مالك الأنصاري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عنبسة بن خالد القرشي، أبو عثمان
Newعنبسة بن خالد القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي
صدوق حسن الحديث
👤←👥أحمد بن صالح المصري، أبو جعفر
Newأحمد بن صالح المصري ← عنبسة بن خالد القرشي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← أحمد بن صالح المصري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥عبد الله بن عثمان العتكي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عثمان العتكي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3342
فرج سقف بيتي وأنا بمكة فنزل جبريل ففرج صدري ثم غسله بماء زمزم ثم جاء بطست من ذهب ممتلئ حكمة وإيمانا فأفرغها في صدري ثم أطبقه ثم أخذ بيدي فعرج بي إلى السماء فلما جاء إلى السماء الدنيا قال جبريل لخازن السماء افتح قال من هذا قال هذا جبريل قال معك أحد قال معي
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3342 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3342
حدیث حاشیہ:
اس حدیث شریف میں حضرت ادریس ؑ کا ذکر خیر آیا۔
اسی مناسبت سے اسے یہاں درج کیاگیا۔
معراج کا واقعہ اپنی جگہ پر بیان کیا جائے گا، إن شاءاللہ تعالیٰ۔
نوٹ:
حدیث معراج کا یہ عقیدہ لازماً رکھنا چاہئے کہ معراج جسمانی برحق ہے اور اس میں سینہ چاک ہونے وغیرہ وغیرہ جتنے بھی کوائف مذکور ہوئے ہیں اپنے ظاہری معانی کے لحاظ سے برحق ہیں۔
ظاہر پر ایمان لانا اور دیگر کوائف اللہ کے حوالہ کرنا ایمان والوں کا شیوہ ہے۔
اس میں مزید کرید کرنا جائز نہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3342]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3342
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں حضرت ادریس ؑ کا ذکر ہے۔
اس مناسبت سے اسے یہاں بیان کیا گیا ہے۔

معراج کا واقعہ اور اس کی تفصیلات آئندہ بیان کی جائیں گی۔
صرف دو باتیں یہاں بیان کی جاتی ہیں۔
(ا)
معراج کے متعلق ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ نیند کی حالت میں نہیں بلکہ بیداری کے عالم میں ہوا اور روحانی نہیں جبکہ جسمانی ہے۔
اس میں سینہ چاک ہونے کے جو کوائف بیان ہوئے ہیں وہ اپنے ظاہری معانی کے اعتبار سے برحق ہیں۔
ہم اس کے ظاہر پر ایمان رکھتے ہیں اور باقی معاملات ہم اللہ کے حوالے کرتے ہیں ان کے متعلق کرید کرنا جائز نہیں۔
(ب)
دیگر روایات کی روشنی میں ساتویں آسمان پر جانے کے بعد واقعات کی ترتیب اس طرح ہے پہلے سدرۃ المنتہیٰ پھر بیت المعمور پھر پانچ نمازیں فرض کی گئیں اس روایت میں تریب ذکری ہے مکانی نہیں کیونکہ نمازوں کی فرضیت کے بعد آپ اوپر نہیں گئے جیسا کہ اس حدیث میں مذکورہے بلکہ آپ نیچے آئے ہیں۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3342]

Sahih Bukhari Hadith 3342 in Urdu