🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب حديث الخضر مع موسى- عليهما السلام-:
باب: خضر علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے واقعات۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3402
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبِهَانِيِّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّمَا سُمِّيَ الْخَضِرَ أَنَّهُ جَلَسَ عَلَى فَرْوَةٍ بَيْضَاءَ فَإِذَا هِيَ تَهْتَزُّ مِنْ خَلْفِهِ خَضْرَاءَ".
ہم سے محمد بن سعید اصبہانی نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ انہیں معمر نے ‘ انہیں ہمام بن منبہ نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خضر علیہ السلام کا یہ نام اس وجہ سے ہوا کہ وہ ایک سوکھی زمین (جہاں سبزی کا نام بھی نہ تھا) پر بیٹھے۔ لیکن جوں ہی وہ وہاں سے اٹھے تو وہ جگہ سرسبز ہو کر لہلہانے لگی۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3402]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خضر علیہ السلام کا نام اس لیے خضر رکھا گیا کہ وہ ایک مرتبہ خشک زمین پر بیٹھے، جب وہاں سے اٹھے تو وہ سرسبز ہو کر لہلہانے لگی۔ علی بن خشرم رحمہ اللہ نے حضرت سفیان رحمہ اللہ کے حوالے سے طویل حدیث بیان کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3402]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥همام بن منبه اليماني، أبو عقبة
Newهمام بن منبه اليماني ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← همام بن منبه اليماني
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥محمد بن سعيد الأصبهاني، أبو جعفر
Newمحمد بن سعيد الأصبهاني ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3402
سمي الخضر أنه جلس على فروة بيضاء فإذا هي تهتز من خلفه خضراء
جامع الترمذي
3151
سمي الخضر لأنه جلس على فروة بيضاء فاهتزت تحته خضراء
صحيفة همام بن منبه
114
سمي الخضر لأنه جلس على فروة بيضاء فإذا هي تهتز تحته خضراء
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3402 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3402
حدیث حاشیہ:
کہتےہیں حضرت خضر کانام بلیا بن ملکان بن قانع بن عائبہ بن شالخ بن ارفحشد بم سام بن نوع ہے۔
وہ حضرت ابراھیم سےپہلے پیدا ہوچکے تھے۔
ابن عباس ؓ سےمنقول ہےکہ وہ حضرت آدم کےصلبی بیٹے تھے اوربھی مختلف روایات ہیں۔
بقول قسطلانی اکثر علماء وصوفیا کہتےہیں کہ وہ زندہ ہیں مگر حضرت امام بخاری  اور محقین امت اہل حدیث نےکہا ہے۔
واللہ أعلم بالصواب۔
ان کے بیٹھے سے زمین کا سر سبز ہونا ان کی کرامت تھی۔
اولیاء اللہ اس کے برحق ہے بشرطیکہ صحیح طور پر ثابت ہو۔
من گھڑت نہ ہو مگر یہ کرامت محض اللہ تعالیب کاعطیہ ہوتی ہے۔
اولیاءاللہ ہر وقت اس کے محتاج ہیں۔
فروۃ بیضاء کی تفسیر میں امام ابن حجر  لکھتے ہیں۔
الفروة قيل هي جلدة وجه الأرض جلس عليها فانبتت وصارت حضرا و جاز في الخضرفتح الخاء و كسرها واختلف في نبوته قال الثعلبي كان في زمن إبراهيم الخليل وقال الأكثرون أنه حي موجود اليوم –إلى آخره كذا في الكرماني قال العيني والمطابقة من حديث أن الخضراء مذكور فيه كذا في الفتح- روایت میں جس شخص نوفل بکالی کا ذکر ہے اہل دمشق سےایک فاضل تھا اوریہ بھی مروی ہےکہ یہ کعب احبار کابھتیجا تھا، اس کا خیال تھاکہ صاحب خضر موسی بن میشا ہیں جو توراۃ کی بنا پررسول ہیں مگر صحیح بات یہی ہےکہ یہ صاحب خضر موسیٰ بن عمران تھے۔
مجمع البحرین جس کا ذکر ہے وہ جگہ ہے جہاں بحر فارس اور بحر روم ملتےہیں۔
مچھلی جوناشتہ کےلیے ساتھ بھون کر رکھی گئی تھی جب حضرت موسیٰ اسے ہمراہ لےکر صخرہ کےپاس پہنچے تووہاں آب حیات کاچشمہ تھا جس سے وہ مچھلی زندہ ہوکر دریامیں کود گئی۔
حضرت حضر کےکاموں پر حضرت موسیٰ کےاعتراضات ظاہری حالات کی بنا پرتھے۔
حضرت حضر نے جب حقائق کا اظہار کیا توحضرت موسیٰ کےلیے ک بجز تسلیم کے کوئی چارہ نہ تھا۔
مزید تفصیلات کتب تفاسیر میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3402]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3402
حدیث حاشیہ:

حضرت خضر کے بیٹھنے سے اس زمین کا سرسبز ہونا، ان کی کرامت تھی۔
اولیاء کی کرامت برحق ہے بشرط یہ کہ وہ صحیح طور پر ثابت ہو، من گھڑت اور خود ساختہ نہ ہو۔
واضح رہے کہ اولیاء کی کرامات محض اللہ کا عطیہ ہوتی ہیں اور اولیاء ہروقت اللہ کے محتاج ہوتے ہیں۔
اولیاء اللہ کی تعریف اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں فرمائی ہے:
﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ﴾ جو ایمان لاتے اور اللہ سے ڈرتے رہے۔
(یونس: 63/10)
چونکہ ایمان اورتقویٰ کے کئی درجات ہیں، اس اعتبار سے اولیاء اللہ کے بھی کئی درجے ہیں۔
عرف عام میں اولیاء اللہ ان لوگوں کو کہتے ہیں جو ایمان وتقویٰ کے بلند درجات پر فائز ہوں۔
ہمارے اسلاف میں کچھ کی طبیعتیں زہد وتقویٰ اور عبادت کی طرف مائل تھی انھیں زہاد اور صالحین کا نام دیاجاتا تھا۔

تیسری صدی میں جب مسلمانوں پر یونانی اور ہندی فلسفے کے اثرات پڑنے لگے تو یہ طبقہ ترک دنیا اور رہبانیت کی طرف مائل ہوگیا۔
اس کے بعد ولایت کا مفہوم بھی یکسر بدل گیا بلکہ یہ لفظ صرف ان لوگوں کے لیے خاص ہوگیا جو ریاضت اور چلہ کشی کرتے اور باقاعدہ کسی شیخ کی بیعت میں منسلک ہوتے۔
ان سے کرامات کا ظہور لازمی قراردیا گیا۔
پھرجب غیر اسلامی عقائد، وحدت الوجود، ودحدت الشہود اورحلول ہماری تہذیب میں گھس آئے تو ولایت کا معیار قرارپایا کہ جس کسی سے کرامات کا ظہور جتنا زیادہ ہو وہ اسی درجے کا ولی ہوگا۔
بعض نے یہ دعویٰ بھی کردیا کہ ہمارا براہ راست اللہ سے رابطہ ہے اور ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے والی شریعت کی ضرورت نہیں۔
اس طرح ایک باطنی نظام کی داغ بیل رکھ دی گئی۔
پیری مریدی کا دھندا شروع ہوا۔
اس کے بعد اپن دین کی طریقت کومغز اور شریعت کو ہڈیان قرار دے کر ایک طرف پھینک دیا گیا۔
شرعی اعتبار سے یہ تفریق بے بنیاد اور خودساختہ ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3402]

Sahih Bukhari Hadith 3402 in Urdu