صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب قول الله تعالى: {يا أيها الناس إنا خلقناكم من ذكر وأنثى وجعلناكم شعوبا وقبائل لتعارفوا إن أكرمكم عند الله أتقاكم} :
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الحجرات میں) ارشاد ”اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد آدم اور ایک ہی عورت حواء سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف قومیں اور خاندان بنا دیا ہے تاکہ تم بطور رشتہ داری ایک دوسرے کو پہچان سکو، بیشک تم سب میں سے اللہ کے نزدیک معزز تر وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہو“۔
حدیث نمبر: Q3489
وَقَوْلُهُ: {وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا}. وَمَا يُنْهَى عَنْ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ الشُّعُوبُ النَّسَبُ الْبَعِيدُ وَالْقَبَائِلُ دُونَ ذَلِكَ.
اور اللہ تعالیٰ کا سورۃ نساء میں ارشاد «واتقوا الله الذي تساءلون به والأرحام إن الله كان عليكم رقيبا» ”اور اللہ سے ڈرو جس کا نام لے کر تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور ناتا توڑنے سے ڈرو۔ بیشک اللہ تمہارے اوپر نگران ہے، اور جاہلیت کی طرح باپ دادوں پر فخر کرنا منع ہے، اس کا بیان «شعوب»، «شعب» کی جمع ہے جس سے اوپر کا خاندان مراد ہے اور «قبائل» اس سے اتر کر نیچے کا یعنی اس کی شاخ مراد ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: Q3489]
حدیث نمبر: 3489
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْكَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا" وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا سورة الحجرات آية 13، قَالَ: الشُّعُوبُ: الْقَبَائِلُ الْعِظَامُ، وَالْقَبَائِلُ: الْبُطُونُ".
ہم سے خالد بن یزید الکاہلی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، ان سے ابوحصین (عثمان بن عاصم) نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت «وجعلناكم شعوبا وقبائل» کے متعلق فرمایا کہ «شعوب» بڑے قبیلوں کے معنی میں ہے اور «قبائل» سے کسی بڑے قبیلے کی شاخیں مراد ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3489]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے درج ذیل آیت کریمہ ﴿وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا﴾ [سورة الحجرات: 13] کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ”ہم نے تمہارے خاندان اور قبیلے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔“ «الشُّعُوبُ» سے مراد بڑے قبیلے اور «القَبَائِلُ» سے مراد بڑے قبیلوں کی شاخیں ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3489]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس | صحابي | |
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي | ثقة ثبت | |
👤←👥عثمان بن عاصم الأسدي، أبو الحصين عثمان بن عاصم الأسدي ← سعيد بن جبير الأسدي | ثقة ثبت سنى | |
👤←👥أبو بكر بن عياش الأسدي، أبو بكر أبو بكر بن عياش الأسدي ← عثمان بن عاصم الأسدي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥خالد بن يزيد الأسدي، أبو الهيثم خالد بن يزيد الأسدي ← أبو بكر بن عياش الأسدي | صدوق حسن الحديث |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3489 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3489
حدیث حاشیہ:
1۔
عربوں کے ہاں خاندانی تقسیم اس طرح ہے کہ پہلے جذم، پھر شعب اس کے بعد قبیلہ اس کے بعد عمارہ وغیرہ ہے۔
جذم کی مثال عدنان، شعب کی مضر، قبیلے کی کنانہ اور عمارہ کی قریش ہے۔
ہمارے برصغیر میں جٹ ایک قوم یا ذات ہے جسے عربی میں شعب کہتے ہیں جس کی جمع شعوب ہے اور پھر اس کی آگے برادریاں اور خاندان ہیں جیسے کھوکر، چیمہ، چٹھہ یا سندھو وغیرہ۔
اسے یوں تعبیر کیا جاتا ہے کہ کھوکر جٹ، چیمہ جٹ، چھٹہ جٹ، اور سندھو جٹ وغیرہ۔
یہ محض پہچان اور تعارف کے لیے ہیں، مثلاً:
دوشخصوں کے نام زید اور ان کی ولدیت بکر ہے تو الگ الگ قوم، قبیلہ یا برادری اور خاندان کی بنا پر ان میں امتیاز ہوسکتا ہے لیکن ہم نے یہ ظلم ڈھایا ہے کہ اس قوم اورقبیلے کے بت کو باہمی فخر اور آپس میں نفرت کا ذریعہ بنا لیا ہے۔
کسی کی قومیت پر ناز ہے۔
کوئی رنگ اورنسل پر فخر کرتا ہے اور کوئی سید، فاروقی اورصدیقی ہونے کو وجہ عزت قراردیتاہے۔
2۔
دورحاضر میں قوم، وطن، نسل، رنگ اور زبان یہ پانچ بت ہیں جن کی پوجا کی جاتی ہے اور ان کو بنیاد بنا کر پوری انسانیت کو کئی گروہوں میں تقسیم کردیا گیا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے ان سب چیزوں کے بجائے عزت وشرف کا میعار صرف تقویٰ کو قراردیا ہے۔
اس بنا پر متقی آدمی اگر خاندانی اعتبار سے پست ہے لیکن اس غیر متقی خاندانی انسان سے اللہ کے ہاں زیادہ محترم ومکرم ہے۔
3۔
علمائے تفسیر نے اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے:
نسب کی حفاظت کا اہتمام امر مطلوب ہے کیونکہ اس کے ذریعے سے باہمی تعارف ہوتا ہے، صلہ رحمی کا جذبہ جنم لیتا ہے، آپس میں وراثت تقسیم ہوتی ہے اور رشتے داریاں قائم ہوتی ہیں لیکن حسب ونسب اور خاندان و قبیلے کا غرور اور فخردور جاہلیت کی یاد گار ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر پاش پاش کیا تھا۔
آپ نے فرمایا:
”کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر،کسی عربی کوعجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں۔
فضیلت کی بنیاد صرف تقویٰ ہے کیونکہ تم سب آدم کی اولاد ہو اور حضرت آدم علیہ السلام کومٹی سے پیدا کیا گیا۔
(جس کی حیثیت تم سب کے لیے برابر ہے)
۔
“ (مسندأحمد: 411/5)
1۔
عربوں کے ہاں خاندانی تقسیم اس طرح ہے کہ پہلے جذم، پھر شعب اس کے بعد قبیلہ اس کے بعد عمارہ وغیرہ ہے۔
جذم کی مثال عدنان، شعب کی مضر، قبیلے کی کنانہ اور عمارہ کی قریش ہے۔
ہمارے برصغیر میں جٹ ایک قوم یا ذات ہے جسے عربی میں شعب کہتے ہیں جس کی جمع شعوب ہے اور پھر اس کی آگے برادریاں اور خاندان ہیں جیسے کھوکر، چیمہ، چٹھہ یا سندھو وغیرہ۔
اسے یوں تعبیر کیا جاتا ہے کہ کھوکر جٹ، چیمہ جٹ، چھٹہ جٹ، اور سندھو جٹ وغیرہ۔
یہ محض پہچان اور تعارف کے لیے ہیں، مثلاً:
دوشخصوں کے نام زید اور ان کی ولدیت بکر ہے تو الگ الگ قوم، قبیلہ یا برادری اور خاندان کی بنا پر ان میں امتیاز ہوسکتا ہے لیکن ہم نے یہ ظلم ڈھایا ہے کہ اس قوم اورقبیلے کے بت کو باہمی فخر اور آپس میں نفرت کا ذریعہ بنا لیا ہے۔
کسی کی قومیت پر ناز ہے۔
کوئی رنگ اورنسل پر فخر کرتا ہے اور کوئی سید، فاروقی اورصدیقی ہونے کو وجہ عزت قراردیتاہے۔
2۔
دورحاضر میں قوم، وطن، نسل، رنگ اور زبان یہ پانچ بت ہیں جن کی پوجا کی جاتی ہے اور ان کو بنیاد بنا کر پوری انسانیت کو کئی گروہوں میں تقسیم کردیا گیا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے ان سب چیزوں کے بجائے عزت وشرف کا میعار صرف تقویٰ کو قراردیا ہے۔
اس بنا پر متقی آدمی اگر خاندانی اعتبار سے پست ہے لیکن اس غیر متقی خاندانی انسان سے اللہ کے ہاں زیادہ محترم ومکرم ہے۔
3۔
علمائے تفسیر نے اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے:
نسب کی حفاظت کا اہتمام امر مطلوب ہے کیونکہ اس کے ذریعے سے باہمی تعارف ہوتا ہے، صلہ رحمی کا جذبہ جنم لیتا ہے، آپس میں وراثت تقسیم ہوتی ہے اور رشتے داریاں قائم ہوتی ہیں لیکن حسب ونسب اور خاندان و قبیلے کا غرور اور فخردور جاہلیت کی یاد گار ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر پاش پاش کیا تھا۔
آپ نے فرمایا:
”کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر،کسی عربی کوعجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں۔
فضیلت کی بنیاد صرف تقویٰ ہے کیونکہ تم سب آدم کی اولاد ہو اور حضرت آدم علیہ السلام کومٹی سے پیدا کیا گیا۔
(جس کی حیثیت تم سب کے لیے برابر ہے)
۔
“ (مسندأحمد: 411/5)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3489]
Sahih Bukhari Hadith 3489 in Urdu
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي