🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب مناقب قريش:
باب: قریش کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3502
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: مَشَيْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطَيْتَ بَنِي الْمُطَّلِبِ وَتَرَكْتَنَا وَإِنَّمَا نَحْنُ وَهُمْ مِنْكَ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ"
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابن مسیب نے اور ان سے جبیر بن مطعم نے بیان کیا کہ میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما دونوں مل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بنو مطلب کو تو آپ نے عطا فرمایا اور ہمیں (بنی امیہ کو) نظر انداز کر دیا حالانکہ آپ کے لیے ہم اور وہ ایک ہی درجے کے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (یہ صحیح ہے) مگر بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہی ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3502]
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے بنو مطلب کو مال دیا ہے اور ہمیں نظر انداز کر دیا ہے، حالانکہ ہم اور وہ آپ کے لیے (رشتہ داری میں) برابر ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3502]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جبير بن مطعم القرشي، أبو محمد، أبو سعيد، أبو عديصحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← جبير بن مطعم القرشي
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥عقيل بن خالد الأيلي، أبو خالد
Newعقيل بن خالد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← عقيل بن خالد الأيلي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥يحيى بن بكير القرشي، أبو زكريا
Newيحيى بن بكير القرشي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3502
إنما بنو هاشم وبنو المطلب شيء واحد
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3502 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3502
حدیث حاشیہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مال خمس میں سے اپنی قرابت داری کا حصہ صرف بنوہاشم اور بنو مطلب کو دیتے تھے اور اس سے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو کچھ نہیں عطا کرتے تھے جیساکہ ایک حدیث میں اسکی صراحت ہے۔
(صحیح البخاري، فرض الخمس، حدیث: 3140)
حالانکہ عبد شمس، ہاشم اور مطلب تینوں حقیقی بھائی تھے اور ان کی والدہ عاتکہ بنت مرہ تھی، البتہ نوفل کی ماں اور تھی اور یہ صرف باپ کی طرف سے ان کا بھائی تھا۔
(صحیح البخاري، فرض الخمس، حدیث: 3140)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بنوہاشم اور بنومطلب تو دور جاہلیت اور دوراسلام میں شيئ واحد کی طرح رہے ہیں، البتہ بنونوفل اور بنوعبد شمس ان سے الگ ہوگئے تھے، اس لیے وہ قرابت داری کا حصہ لینے کے حقدار نہیں ہیں۔

اس حدیث پر امام بخاری ؒنے ایک عنوان قائم کیاہے:
خمس کی تقسیم امام کی صوابدید پر موقوف ہے وہ جسے چاہے دے اور جسے چاہے نہ دے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس خبیر سے صرف بنو ہاشم اور بنومطلب کو دیاتھا۔
(صحیح البخاري، فرض الخمس، باب الدلیل أن الخمس للإمام۔
۔
۔
قبل الحدیث: 3140)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3502]

Sahih Bukhari Hadith 3502 in Urdu