🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب:
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3509
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْفِرَى أَنْ يَدَّعِيَ الرَّجُلُ إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ يُرِيَ عَيْنَهُ مَا لَمْ تَرَ أَوْ، يَقُولُ: عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ".
ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالواحد بن عبداللہ نصری نے بیان کیا، کہا کہ میں نے واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بڑا بہتان اور سخت جھوٹ یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے سوا کسی اور کو اپنا باپ کہے یا جو چیز اس نے خواب میں نہیں دیکھی۔ اس کے دیکھنے کا دعویٰ کرے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی حدیث منسوب کرے جو آپ نے نہ فرمائی ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3509]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥واثلة بن الأسقع الليثي، أبو قرصافة، أبو محمد، أبو الأسقع، أبو الخطابصحابي
👤←👥عبد الواحد بن عبد الله النصري، أبو بسر، أبو بشر
Newعبد الواحد بن عبد الله النصري ← واثلة بن الأسقع الليثي
ثقة
👤←👥حريز بن عثمان الرحبي، أبو عون، أبو عثمان
Newحريز بن عثمان الرحبي ← عبد الواحد بن عبد الله النصري
ثقة رمي بالنصب
👤←👥علي بن عياش الألهاني، أبو الحسن
Newعلي بن عياش الألهاني ← حريز بن عثمان الرحبي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3509
من أعظم الفرى أن يدعي الرجل إلى غير أبيه يري عينه ما لم تر يقول على رسول الله ما لم يقل
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3509 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3509
حدیث حاشیہ:
جھوٹاخواب بیان کرنا بیداری میں جھوٹ بولنے سے بڑھ کر گناہ ہے کیوں کہ خواب نبوت کے حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔
جھوٹا خواب بیان کرنے والا گویا اللہ پر بہتان لگاتا ہے، یہی حال جھوٹی حدیث بیان کرنے والے کا ہے۔
جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام لگاتا ہے، ایسا شخص اگر توبہ نہ کرے تو وہ زندہ دوزخی ہے۔
آج کل بہت سے لوگ شیخ، سید، پٹھان فرضی طور پر بن جاتے ہیں ان کو اس ارشاد بنوی پر غور کرنا چاہیے کہ یہ کتنا بڑا گناہ ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3509]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3509
حدیث حاشیہ:
جھوٹ بولنا تو حالتِ بیداری میں بھی گناہ ہے لیکن چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچے خواب کو نبوت کا چھیالیسواں جز قراردیا ہے تو جھوٹا خواب بیان کرنے والا گویا اس جزو نبوت کو بھی مشکوک کرنا چاہتا ہے تو یہ بہت بڑا افترا ہوگا۔
یہی حال جھوٹی حدیث بیان کرنے والے کا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ایسی بات کا الزام لگاتا ہے جو آپ نے نہیں کہی۔
اگرایسا شخص توبہ نہ کرے تو وہ دنیا میں چلتا پھرتا دوزخی ہے۔
اس کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں کہ آج کل اکثر لوگ شیخ سید، پٹھان وغیرہ فرضی طور پر بن جاتے ہیں، انھیں بھی مذکورہ ارشاد نبوی پر غور کرنا چاہیے کہ ایسا کرنا کس قدر سنگین جرم ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3509]