🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب صفة النبى صلى الله عليه وسلم:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ اور اخلاق فاضلہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3567
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ الْبَّزَّارُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُحَدِّثُ حَدِيثًا لَوْ عَدَّهُ الْعَادُّ لَأَحْصَاهُ"،
مجھ سے حسن بن صباح بزار نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر ٹھہر ٹھہر کر باتیں کرتے کہ اگر کوئی شخص (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ) گن لینا چاہتا تو گن سکتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3567]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح ٹھہر ٹھہر کر بات کرتے کہ اگر کوئی گننے والا آپ کی باتیں شمار کرنا چاہتا تو کر سکتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3567]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ حجة
👤←👥الحسن بن الصباح الواسطي، أبو علي
Newالحسن بن الصباح الواسطي ← سفيان بن عيينة الهلالي
صدوق حسن الحديث
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3567 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3567
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندازِ گفتگو کو بیان کیا گیا ہے کہ آپ نہایت سنجیدگی کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر بات کرتے تھے۔
عام لوگوں کی طرح چرب زبان نہیں تھے۔
مقصد یہ ہے کہ انسان کو گفتگو کرتے وقت ایسا انداز اختیار کرنا چاہیے کہ مخاطب کو اچھی طرح سمجھ آجائے۔
اس کی مزید وضاحت آئندہ حدیث سے ہوتی ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3567]

Sahih Bukhari Hadith 3567 in Urdu