🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب صفة النبى صلى الله عليه وسلم:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ اور اخلاق فاضلہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3566
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَوْنَ بْنَ أَبِي جُحَيْفَةَ ذَكَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" دُفِعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْأَبْطَحِ فِي قُبَّةٍ كَانَ بِالْهَاجِرَةِ خَرَجَ بِلَالٌ فَنَادَى بِالصَّلَاةِ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَخْرَجَ فَضْلَ وَضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ يَأْخُذُونَ مِنْهُ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَخْرَجَ الْعَنَزَةَ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ سَاقَيْهِ فَرَكَزَ الْعَنَزَةَ، ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ".
ہم سے حسن بن صباح بزار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن مغول نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عون بن ابی جحیفہ سے سنا، وہ اپنے والد (ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ) سے نقل کرتے تھے کہ میں سفر کے ارادہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابطح میں (محصب میں) خیمہ کے اندر تشریف رکھتے تھے۔ کڑی دوپہر کا وقت تھا۔ اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ نے باہر نکل کر نماز کے لیے اذان دی اور اندر آ گئے اور بلال رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی نکالا تو لوگ اسے لینے کے لیے ٹوٹ پڑے۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ نے ایک نیزہ نکالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، گویا آپ کی پنڈلیوں کی چمک اب بھی میری نظروں کے سامنے ہے۔ بلال رضی اللہ عنہ نے (سترہ کے لیے) نیزہ گاڑ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کی دو دو رکعت قصر نماز پڑھائی، گدھے اور عورتیں آپ کے سامنے سے گزر رہی تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3566]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥وهب بن وهب السوائي، أبو جحيفةصحابي
👤←👥عون بن أبي جحيفة السوائي
Newعون بن أبي جحيفة السوائي ← وهب بن وهب السوائي
ثقة
👤←👥مالك بن مغول البجلي، أبو عبد الله
Newمالك بن مغول البجلي ← عون بن أبي جحيفة السوائي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن سابق التميمي، أبو سعيد، أبو جعفر
Newمحمد بن سابق التميمي ← مالك بن مغول البجلي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الحسن بن الصباح الواسطي، أبو علي
Newالحسن بن الصباح الواسطي ← محمد بن سابق التميمي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3566
أخرج فضل وضوء رسول الله فوقع الناس عليه يأخذون منه أخرج العنزة وخرج رسول الله كأني أنظر إلى وبيص ساقيه فركز العنزة صلى الظهر ركعتين والعصر ركعتين يمر بين يديه الحمار والمرأة
صحيح مسلم
1122
صلى الظهر ركعتين والعصر ركعتين وبين يديه عنزة
صحيح مسلم
1119
عليه حلة حمراء كأني أنظر إلى بياض ساقيه فتوضأ وأذن بلال قال فجعلت أتتبع فاه ها هنا وها هنا يقول يمينا وشمالا يقول حي على الصلاة حي على الفلاح ركزت له عنزة فتقدم فصلى الظهر ركعتين يمر بين يديه الحمار والكلب لا يمنع ثم صلى العصر ركعتين ثم لم يزل يصلي رك
سنن النسائى الصغرى
471
توضأ وصلى الظهر ركعتين والعصر ركعتين وبين يديه عنزة
المعجم الصغير للطبراني
452
حججنا مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم حجة الوداع فما زلنا نصلي ركعتين حتى رجعنا
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3566 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3566
حدیث حاشیہ:
برچھی سترہ کے طورپر آپ کے آگے گاڑدی گئی تھی۔
ترجمہ باب اس سے نکلا کہ آپ کی پنڈلیاں نہایت خوبصورت اور چمکدار تھیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3566]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3566
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسرتی پنڈلیوں کاذکر ہے کہ وہ سفید اور چمک دار تھیں۔
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیاں زیادہ بھاری بھرکم اور پُرگوشت نہ تھیں بلکہ ہلکی ہلکی سونتی ہوئی تھیں۔
(المصنف لابن أبي شیبة: 513/11)
حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی پر سوارتھے،میں نے قریب ہوکر آپ کی پنڈلی کا مشاہدہ کیا جو سفید رنگت اور لطافت میں خوشئہ کھجور کے اندرونی گودے کی طرح تھی۔
(دلائل النبوة: 207/1)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3566]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 471
سفر میں ظہر کی نماز کا بیان۔
حکم بن عتیبہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر میں نکلے (ابن مثنی کی روایت میں ہے: بطحاء کی طرف نکلے) تو آپ نے وضو کیا، اور ظہر کی نماز دو رکعت پڑھی، اور عصر کی دو رکعت پڑھی، اور آپ کے سامنے نیزہ (بطور سترہ) تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 471]
471 ۔ اردو حاشیہ: آپ کے آگے عنزہ (چھوٹا نیزہ) سترے کے طور پر گاڑا گیا تھا، لہٰذا کھلی یا بند جگہ میں سترہ ضروری ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 471]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1119
حضرت عون بن ابی جحیفہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ میں مکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابطح مقام پر سرخ چمڑے کے ایک خیمہ میں تھے تو بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی لے کر نکلے، کسی کو پانی مل گیا اور کسی پر دوسرے نے چھڑک دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ جوڑا پہنے ہوئے نکلے، گویا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیوں کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اذان کہی، اور میں ان کے منہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1119]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
نَائِل:
اخذ کرنا،
لینا،
نَالَ،
يَنَالُ سے،
نَاضِح:
چھڑکنا یعنی بعض تو براہ راست پانی لے رہے تھے اور بعض پر پانی لینے والے چھڑک رہے تھے۔
(2)
حُلَّة حَمرَاء:
حلہ جوڑا،
ایک باندھنے کے لیے تہبند اور دوسری اوڑھنے کی چادر۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ وضو میں استعمال ہونے والا پانی پلید نہیں ہے اس لیے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضوء پر جھپٹتے تھے اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسالہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کا تبرک حاصل کرنا اس بات کی دلیل نہیں بن سکتا کہ بزرگوں کے آثار سے تبرک حاصل کرنا جائز ہے کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور بڑی شخصیت کے لیے نہیں کیا خلفائے راشدین سے افضل اور برتر کونسا بزرگ ہو سکتا ہے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے ان کے آثار سے تبرک حاصل نہیں کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات کا کیا حکم ہے؟ اب اس پر بحث کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ پاک تھے یا پلید تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے دور کا مسئلہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لعاب دہن اور وضو کے پانی پر تو صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین جھپٹتے تھے بول وبراز خون کے سلسلہ میں تو یہ واقعہ پیش نہیں آیا تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1119]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1122
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ دوپہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء کی طرف نکلے اور وضو کر کے ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں پڑھیں اور آپ کے سامنے نیزہ تھا، شعبہ نے کہا، عون نے اپنے باپ ابو جحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ اضافہ کیا کہ نیزہ کے پار سے عورتیں اور گدھے گزر رہے تھے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1122]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ سفر میں دونوں نمازیں اکٹھی پڑھی جا سکتی ہیں۔
(جمع بھی تقدیم ہے)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1122]

Sahih Bukhari Hadith 3566 in Urdu