صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب علامات النبوة فى الإسلام:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں یعنی نبوت کی نشانیوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3577
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً وَالْحُدَيْبِيَةُ بِئْرٌ فَنَزَحْنَاهَا حَتَّى لَمْ نَتْرُكْ فِيهَا قَطْرَةً، فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَفِيرِ الْبِئْرِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ وَمَجَّ فِي الْبِئْرِ فَمَكَثْنَا غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ اسْتَقَيْنَا حَتَّى رَوِينَا وَرَوَتْ أَوْ صَدَرَتْ رَكَائِبُنَا".
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صلح حدیبیہ کے دن ہم چودہ سو کی تعداد میں تھے۔ حدیبیہ ایک کنویں کا نام ہے ہم نے اس سے اتنا پانی کھینچا کہ اس میں ایک قطرہ بھی باقی نہ رہا (جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ تشریف لائے) اور کنویں کے کنارے بیٹھ کر پانی کی دعا کی اور اس پانی سے کلی کی اور کلی کا پانی کنویں میں ڈال دیا۔ ابھی تھوڑی دیر بھی نہیں ہوئی تھی کہ کنواں پھر پانی سے بھر گیا۔ ہم بھی اس سے خوب سیر ہوئے اور ہمارے اونٹ بھی سیراب ہو گئے یا پانی پی کر لوٹے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3577]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حدیبیہ کے دن ہم ایک ہزار چار سو افراد تھے۔ حدیبیہ ایک کنواں ہے۔ ہم نے اس سے اتنا پانی نکالا کہ اس میں ایک قطرہ بھی باقی نہ چھوڑا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنویں کے کنارے پر بیٹھ گئے۔ آپ نے پانی منگوایا اور کنویں میں پانی کی کلی ڈالی، چنانچہ ہم تھوڑا سا وقت وہاں ٹھہرے ہوں گے (کہ کنواں پانی سے بھر گیا)۔ ہم نے خوب سیر ہو کر وہاں سے پانی پیا اور ہمارے مویشی بھی وہاں سے سیراب ہو کر لوٹے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3577]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥البراء بن عازب الأنصاري، أبو عمارة، أبو الطفيل، أبو عمرو | صحابي | |
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق أبو إسحاق السبيعي ← البراء بن عازب الأنصاري | ثقة مكثر | |
👤←👥إسرائيل بن يونس السبيعي، أبو يوسف إسرائيل بن يونس السبيعي ← أبو إسحاق السبيعي | ثقة | |
👤←👥مالك بن إسماعيل النهدي، أبو غسان مالك بن إسماعيل النهدي ← إسرائيل بن يونس السبيعي | ثقة متقن صحيح الكتاب |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3577
| كنا يوم الحديبية أربع عشرة مائة والحديبية بئر فنزحناها حتى لم نترك فيها قطرة فجلس النبي على شفير البئر فدعا بماء فمضمض ومج في البئر فمكثنا غير بعيد ثم استقينا حتى روينا وروت أو صدرت ركائبنا |
صحيح البخاري |
4150
| تعدون أنتم الفتح فتح مكة وقد كان فتح مكة فتحا ونحن نعد الفتح بيعة الرضوان يوم الحديبية كنا مع النبي أربع عشرة مائة والحديبية بئر فنزحناها فلم نترك فيها قطرة فبلغ ذلك النبي فأتاها فجلس على شفيرها ثم دعا بإناء من ماء فتوضأ ثم مضمض ودعا ثم صبه فيها فتركناها |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3577 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3577
حدیث حاشیہ:
راوی کوشک ہے کہ ”رویت رکائبنا“ کہا یا ”صدرت رکائبنا“ مفہوم ہر دو کا ایک ہی ہے۔
یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا۔
اسی لیے اس باب کے ذیل اسے ذکر کیا گیا۔
راوی کوشک ہے کہ ”رویت رکائبنا“ کہا یا ”صدرت رکائبنا“ مفہوم ہر دو کا ایک ہی ہے۔
یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا۔
اسی لیے اس باب کے ذیل اسے ذکر کیا گیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3577]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3577
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث میں چودہ سوافراد کا ذکر ہے جبکہ حضرت جابر ؓ نے ان کی تعداد پندرہ سوبتائی ہے۔
ان میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ ایک عدددوسرے کی نفی نہیں کرتا۔
2۔
اس حدیث میں بھی ایک زبردست معجزے کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلی کرنے سے کنواں چشمے کی طرح پھوٹ پڑا اور پانی سے بھر گیا۔
پانی کو زیادہ کرنے کے متعدد معجزے کتب احادیث میں بیان ہوئے ہیں۔
سب سے بڑا معجزہ حسب ذیل ہے:
حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ دوران سفرمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وضو کے لیے پانی لانے کا حکم دیا۔
میں نے پانی تلاش کیا تو نہ ملا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فلاں انصاری سے پتہ کرو۔
۔
۔
وہ آپ کے لیے ٹھنڈے پانی کا اہتمام کرتا تھا۔
میں اس کے پاس گیا تو اس کی مشک کے منہ کے ساتھ پانی کا ایک قطرہ لگا ہواتھا۔
اگرمیں اسے لینے کی کوشش کرتا تو وہ بھی خشک ہوجاتا۔
بہرحال میں نے وہ قطرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش کردیا۔
آپ نے اسے لیا اور کچھ پڑھ کر اپنی ہتھیلی پر ملا،پھر مجھے ایک بڑا برتن لانے کو کہا۔
میں ایک برتن لے آیا تو آپ نے اپنے ہاتھوں کو برتن میں رکھ دیا۔
ان سے پانی نکلا توآپ نے مجھے فرمایا:
”جابر ؓ! بسم اللہ پڑھ کر اسے میرے ہاتھوں پر ڈالو۔
“ میں نے ایسا کیا تو آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی بہنے لگا،حتی کہ وہ برتن بھر گیا اور اس میں پانی گردش کرنے لگا۔
آپ نے مجھے حکم دیا:
”جابر ؓ!لوگوں میں اعلان کردو جس کو پانی کی ضرورت ہو وہ پوری کرلے۔
“ چنانچہ تمام لوگوں نے خوب سیر ہوکرپیا۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ہاتھ نکالا تو وہ برتن پانی سے بھرا ہوا تھا۔
(صحیح مسلم، الذھد والرقائق، حدیث: 7519(3013)
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں:
یہ واقعہ تکثیر ماء کے دیگر واقعات سے زیادہ عجیب تر ہے کیونکہ اس میں پانی کی انتہائی کمی اور اس سے استفادہ کرنے والوں کی کثرت کا بیان ہے۔
واللہ أعلم۔
(فتح الباري: 716/6)
1۔
اس حدیث میں چودہ سوافراد کا ذکر ہے جبکہ حضرت جابر ؓ نے ان کی تعداد پندرہ سوبتائی ہے۔
ان میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ ایک عدددوسرے کی نفی نہیں کرتا۔
2۔
اس حدیث میں بھی ایک زبردست معجزے کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلی کرنے سے کنواں چشمے کی طرح پھوٹ پڑا اور پانی سے بھر گیا۔
پانی کو زیادہ کرنے کے متعدد معجزے کتب احادیث میں بیان ہوئے ہیں۔
سب سے بڑا معجزہ حسب ذیل ہے:
حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ دوران سفرمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وضو کے لیے پانی لانے کا حکم دیا۔
میں نے پانی تلاش کیا تو نہ ملا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فلاں انصاری سے پتہ کرو۔
۔
۔
وہ آپ کے لیے ٹھنڈے پانی کا اہتمام کرتا تھا۔
میں اس کے پاس گیا تو اس کی مشک کے منہ کے ساتھ پانی کا ایک قطرہ لگا ہواتھا۔
اگرمیں اسے لینے کی کوشش کرتا تو وہ بھی خشک ہوجاتا۔
بہرحال میں نے وہ قطرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش کردیا۔
آپ نے اسے لیا اور کچھ پڑھ کر اپنی ہتھیلی پر ملا،پھر مجھے ایک بڑا برتن لانے کو کہا۔
میں ایک برتن لے آیا تو آپ نے اپنے ہاتھوں کو برتن میں رکھ دیا۔
ان سے پانی نکلا توآپ نے مجھے فرمایا:
”جابر ؓ! بسم اللہ پڑھ کر اسے میرے ہاتھوں پر ڈالو۔
“ میں نے ایسا کیا تو آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی بہنے لگا،حتی کہ وہ برتن بھر گیا اور اس میں پانی گردش کرنے لگا۔
آپ نے مجھے حکم دیا:
”جابر ؓ!لوگوں میں اعلان کردو جس کو پانی کی ضرورت ہو وہ پوری کرلے۔
“ چنانچہ تمام لوگوں نے خوب سیر ہوکرپیا۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ہاتھ نکالا تو وہ برتن پانی سے بھرا ہوا تھا۔
(صحیح مسلم، الذھد والرقائق، حدیث: 7519(3013)
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں:
یہ واقعہ تکثیر ماء کے دیگر واقعات سے زیادہ عجیب تر ہے کیونکہ اس میں پانی کی انتہائی کمی اور اس سے استفادہ کرنے والوں کی کثرت کا بیان ہے۔
واللہ أعلم۔
(فتح الباري: 716/6)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3577]
Sahih Bukhari Hadith 3577 in Urdu
أبو إسحاق السبيعي ← البراء بن عازب الأنصاري