🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب علامات النبوة فى الإسلام:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں یعنی نبوت کی نشانیوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3578
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: لِأُمِّ سُلَيْمٍ لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ، قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ، ثُمَّ أَخْرَجَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ يَدِي وَلَاثَتْنِي بِبَعْضِهِ، ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَذَهَبْتُ بِهِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَأَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ، فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: بِطَعَامٍ، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِمَنْ مَعَهُ قُومُوا فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ، فَقَالَتْ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وأَبُو طَلْحَةَ مَعَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَكِ فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفُتَّ وَعَصَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً فَأَدَمَتْهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِيهِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ أَوْ ثَمَانُونَ رَجُلًا".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو مالک نے خبر دی، انہیں اسحٰق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے (میری والدہ) ام سلیم رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی تو آپ کی آواز میں بہت ضعف معلوم ہوا۔ میرا خیال ہے کہ آپ بہت بھوکے ہیں۔ کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں، چنانچہ انہوں نے جَو کی چند روٹیاں نکالیں، پھر اپنی اوڑھنی نکالی او اس میں روٹیوں کو لپیٹ کر میرے ہاتھ میں چھپا دیا اور اس اوڑھنی کا دوسرا حصہ میرے بدن پر باندھ دیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مجھے بھیجا۔ میں جو گیا تو آپ مسجد میں تشریف رکھتے تھے۔ آپ کے ساتھ بہت سے صحابہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ میں آپ کے پاس کھڑا ہو گیا تو آپ نے فرمایا کیا ابوطلحہ نے تمہیں بھیجا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ نے دریافت فرمایا، کچھ کھانا دے کر؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، جو صحابہ آپ کے ساتھ اس وقت موجود تھے، ان سب سے آپ نے فرمایا کہ چلو اٹھو، آپ تشریف لانے لگے اور میں آپ کے آگے آگے لپک رہا تھا اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچ کر میں نے انہیں خبر دی۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بولے، ام سلیم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو بہت سے لوگوں کو ساتھ لائے ہیں ہمارے پاس اتنا کھانا کہاں ہے کہ سب کو کھلایا جا سکے؟ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں (ہم فکر کیوں کریں؟) خیر ابوطلحہ آگے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ بھی چل رہے تھے۔ ام سلیم نے وہی روٹی لا کر آپ کے سامنے رکھ دی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے روٹیوں کا چورا کر دیا گیا، ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کپی نچوڑ کر اس پر کچھ گھی ڈال دیا، اور اس طرح سالن ہو گیا، آپ نے اس کے بعد اس پر دعا کی جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ پھر فرمایا دس آدمیوں کو بلا لو، انہوں نے ایسا ہی کیا، ان سب نے روٹی پیٹ بھر کر کھائی اور جب یہ لوگ باہر گئے تو آپ نے فرمایا کہ پھر دس آدمیوں کو بلا لو۔ چنانچہ دس آدمیوں کو بلایا گیا، انہوں نے بھی پیٹ بھر کر کھایا، جب یہ لوگ باہر گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر دس ہی آدمیوں کو اندر بلا لو۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور انہوں نے بھی پیٹ بھر کر کھایا۔ جب وہ باہر گئے تو آپ نے فرمایا کہ پھر دس آدمیوں کو دعوت دے دو۔ اس طرح سب لوگوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ ان لوگوں کی تعداد ستر یا اسی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3578]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز کو کمزور پایا، میرے خیال کے مطابق آپ کو بھوک لگی ہے، کیا تمہارے پاس کوئی کھانے کی چیز ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، چنانچہ انہوں نے جو کی چند روٹیاں نکالیں، پھر اپنا دوپٹہ لیا، اس کے ایک حصے میں ان کو لپیٹا، پھر انہیں میرے ہاتھ میں چھپا دیا اور دوپٹے کا دوسرا حصہ مجھے اوڑھا دیا۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں انہیں لے کر روانہ ہوا تو آپ مسجد میں تشریف فرما تھے اور آپ کے ساتھ بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ میں آپ کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا تو آپ نے فرمایا: تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ والے لوگوں سے فرمایا: اٹھو اور ابوطلحہ کے ہاں چلو۔ چنانچہ آپ وہاں سے روانہ ہوئے اور میں ان کے آگے آگے چلا، حتیٰ کہ میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے واقعہ بیان کیا۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ام سلیم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو لوگوں سمیت تشریف لا رہے ہیں اور ہمارے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جو ہم انہیں کھلا سکیں؟ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ بہرحال حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر آپ کا استقبال کیا۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ وہ بھی چل رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ام سلیم! جو کچھ تمہارے پاس ہے اسے لے آؤ۔ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا روٹیاں لے کر آئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کے ٹکڑے بنا دیے جائیں۔ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کپی نچوڑ کر ان پر کچھ گھی ڈال دیا، اس طرح وہ سالن بن گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر جو اللہ نے چاہا پڑھا۔ پھر آپ نے فرمایا: دس آدمیوں کو بلاؤ۔ چنانچہ انہیں بلا کر کھانے کی اجازت دی تو انہوں نے پیٹ بھر کر کھایا۔ پھر وہ باہر چلے گئے تو آپ نے فرمایا: اور دس آدمیوں کو بلاؤ۔ انہیں بلایا گیا اور کھانے کی اجازت دی گئی تو انہوں نے سیر ہو کر کھایا۔ پھر وہ باہر چلے گئے تو آپ نے فرمایا: اور دس آدمیوں کو بلاؤ۔ انہیں بلایا گیا اور انہوں نے کھایا حتیٰ کہ وہ سیر ہو گئے۔ پھر وہ چلے گئے تو آپ نے فرمایا: دس آدمیوں کو بلاؤ۔ اس طرح سب آدمیوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا جبکہ وہ ستر (70) یا اسی (80) آدمی تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3578]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥إسحاق بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو يحيى، أبو نجيح
Newإسحاق بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة حجة
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← إسحاق بن عبد الله الأنصاري
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الله بن يوسف الكلاعي، أبو محمد
Newعبد الله بن يوسف الكلاعي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة متقن من أثبت الناس في الموطأ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3578 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3578
حدیث حاشیہ:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کھانے میں دعاءبرکت فرمائی۔
اتنے لوگوں کے کھالےنے کے بعد بھی کھانا بچ رہا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ اور ام سلیم ؓ کے ساتھ ان کے گھر میں کھانا کھایا اور جو بچ رہا وہ ہمسایوں کو بھیج دیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3578]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3578
حدیث حاشیہ:

مذکورہ واقعہ غزوہ احزاب کے موقع پر پیش آیا۔
حضرت ابو طلحہ ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرانورپر کمزوری کے اثرات دیکھے تھے ایک روایت میں ہے کہ حضرت انس ؓنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے اپنے پیٹ پر کپڑا باندھا ہوا تھا۔
انھیں پتہ چلا کہ آپ نے بھوک کی وجہ سے ایسا کیا ہے وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو طلحہ ؓ سے اس کا ذکر کیا تو انھوں نے حتی الوسع کھانے کا بندو بست فرمایا۔
(صحیح مسلم، الأشربة، حدیث: 5323(2040)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی سے گھی کو مس کیا پھر روٹی پر ہاتھ پھیرا تو وہ بڑی ہو گئی۔
آپ نے بسم اللہ پڑھی اسی طرح وہ روٹی بڑی ہوتی گئی حتی کہ بڑا برتن اس روٹی سے بھر گیا۔
(صحیح ابن حبان بلبان: 94/12)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ پڑھ کر دعا فرمائی:
اے اللہ! اس میں برکت ڈال دے۔
(مسند أحمد: 242/3)
بہر حال اس تھوڑے سے کھانے میں اتنی برکت پڑی کہ ستر یا اسی آدمیوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔
آخرمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل خانہ نے اسے تناول کیا۔
پھر بھی کھانا بچ گیا تو ہمسایوں میں تقسیم کر دیا گیا۔
(صحیح مسلم، الأشربة، حدیث: 5321(2040)
ایک روایت میں ہےکہ جوکھانا بچ گیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک جگہ اکٹھا کر کے اس پر برکت کی دعا فرمائی تو وہ اتنا ہی ہو گیا جس قدر پہلے تھا۔
(صحیح مسلم، الأشربة، حدیث: 5318(2040)

قبل ازیں تکثیر پانی کا معجزہ تھا۔
اس حدیث سے تکثیرطعام کا علم ہوا۔
اس سے عجیب تر معجزہ یہ ہے جسے حضرت جابر ؓ نے بیان کیا ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھوک کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا:
اللہ اس کا ضرور بندو بست کرے گا۔
چنانچہ بعد ازاں ہم ساحل سمندر پر آئے تو سمندر نے بہت بڑی مچھلی باہر پھینک دی۔
ہم نے سمندر کے کنارے آگ جلائی اور اسے بھون بھون کر کئی دن تک کھاتے رہے۔
وہ اتنی بڑی تھی کہ ہم پانچ آدمی اس کی آنکھ کے خول میں چھپ کر بیٹھ گئے پھر ہم نے اس کی پسلی کی ہڈی کو زمین پر کھڑا کیا تو ایک لمبا آدمی جس اونٹ بھی طویل القامت تھا اسے نیچے سے گزاراگیا تو وہ آسانی سے گزر گیا۔
اس کا سر چوٹی سے نہیں ٹکرایا۔
(صحیح مسلم، الزھدوالرقائق، حدیث: 7520۔
3014)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3578]

Sahih Bukhari Hadith 3578 in Urdu