🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب مناقب سعد بن أبى وقاص الزهري
باب: سعد بن ابی وقاص الزہری رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3728
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" إِنِّي لَأَوَّلُ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَكُنَّا نَغْزُو مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقُ الشَّجَرِ حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا يَضَعُ الْبَعِيرُ أَوِ الشَّاةُ مَا لَهُ خِلْطٌ، ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَى الْإِسْلَامِ لَقَدْ خِبْتُ إِذًا وَضَلَّ عَمَلِي" , وَكَانُوا وَشَوْا بِهِ إِلَى عُمَر , قَالُوا: لَا يُحْسِنُ يُصَلِّي.
ہم سے ہاشم نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے بیان کیا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ عرب میں سب سے پہلے اللہ کے راستے میں، میں نے تیر اندازی کی تھی (ابتداء اسلام میں) ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، کے ساتھ اس طرح غزوات میں شرکت کرتے تھے کہ ہمارے پاس درخت کے پتوں کے سوا کھانے کے لیے کچھ بھی نہ ہوتا تھا، اس سے ہمیں اونٹ اور بکریوں کی طرح اجابت ہوتی تھی۔ یعنی ملی ہوئی نہیں ہوتی تھی۔ لیکن اب بنی اسد کا یہ حال ہے کہ اسلامی احکام پر عمل میں میرے اندر عیب نکالتے ہیں (اگر) ایسا ہو تو میں بالکل محروم اور بے نصیب ہی رہا اور میرے سب کام برباد ہو گئے۔ ہوا یہ تھا کہ بنی اسد نے عمر رضی اللہ عنہ سے سعد رضی اللہ عنہ کی چغلی کھائی تھی۔ یہ کہا تھا کہ وہ اچھی طرح نماز بھی نہیں پڑھتے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3728]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں عرب کا پہلا آدمی ہوں جس نے سب سے پہلے اللہ کی راہ میں تیراندازی کی، ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد میں جاتے اور ہمارے پاس درختوں کے پتوں کے سوا کھانے کے لیے اور کوئی چیز نہ ہوتی تھی۔ اس خوراک سے ہمیں اونٹوں اور بکریوں کی طرح اجابت ہوتی تھی۔ اس میں کوئی اور چیز مخلوط نہ ہوتی۔ لیکن اب بنو اسد کا یہ حال ہے کہ وہ اسلام کے احکام پر عمل کرنے میں میرے اندر عیب نکالتے ہیں۔ اس صورت میں تو میں نامراد اور ناکام رہا، نیز میرے سب کام برباد ہو گئے۔ بنو اسد نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان کے متعلق چغلی کی تھی کہ وہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھتے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3728]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعد بن أبي وقاص الزهري، أبو إسحاقصحابي
👤←👥قيس بن أبي حازم البجلي، أبو عبد الله
Newقيس بن أبي حازم البجلي ← سعد بن أبي وقاص الزهري
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي خالد البجلي ← قيس بن أبي حازم البجلي
ثقة ثبت
👤←👥خالد بن عبد الله الطحان، أبو محمد، أبو الهيثم
Newخالد بن عبد الله الطحان ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي
ثقة ثبت
👤←👥عمرو بن عون السلمي، أبو عثمان
Newعمرو بن عون السلمي ← خالد بن عبد الله الطحان
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3728
أول العرب رمى بسهم في سبيل الله ما لنا طعام إلا ورق الشجر حتى إن أحدنا ليضع كما يضع البعير أو الشاة ما له خلط ثم أصبحت بنو أسد تعزرني على الإسلام لقد خبت إذا وضل عملي
صحيح البخاري
4057
جمع لي رسول الله يوم أحد أبويه كليهما يريد حين قال فداك أبي وأمي وهو يقاتل
صحيح البخاري
4056
جمع لي النبي أبويه يوم أحد
صحيح البخاري
3725
جمع لي النبي أبويه يوم أحد
صحيح البخاري
4055
ارم فداك أبي وأمي
صحيح مسلم
6237
ارم فداك أبي وأمي نزعت له بسهم ليس فيه نصل فأصبت جنبه فسقط فانكشفت عورته فضحك رسول الله حتى نظرت إلى نواجذه
صحيح مسلم
6235
لقد جمع لي رسول الله أبويه يوم أحد
صحيح مسلم
7433
أول رجل من العرب رمى بسهم في سبيل الله ا لنا طعام نأكله إلا ورق الحبلة وهذا السمر حتى إن أحدنا ليضع كما تضع الشاة ثم أصبحت بنو أسد تعزرني على الدين لقد خبت إذا وضل عملي ولم يقل ابن نمير إذا
جامع الترمذي
2830
جمع لي رسول الله أبويه يوم أحد قال ارم فداك أبي وأمي
سنن ابن ماجه
130
ارم سعد فداك أبي وأمي
مسندالحميدي
78
أنا أول من رمى بسهم في سبيل الله، ولقد رأيتني مع رسول الله صلى الله عليه وسلم سابع سبعة وما لنا طعام إلا الحبلة وورق السمر حتى لقد قرحت أشداقنا حتى إن كان أحدنا ليضع مثل ما تضع الشاة ما له خلط، ثم أصبحت بنو أسد تعزرني على الدين لقد ضللت إذا وخاب عملي
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3728 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3728
حدیث حاشیہ:

بنو اسد کے لوگ میرے متعلق حضرت عمر ؓ سے شکایت کرتے ہیں کہ اسے تو نماز بھی اچھی طرح نہیں پڑھنا آتی۔
حالانکہ میں تو قدیم الاسلام ہوں۔
اگر مجھے اب ان سے نماز سیکھنے کی ضرورت ہے تو میری سابقہ زندگی کے تمام اعمال برباد ہوگئے۔
حضرت سعد بن وقاص ؓ اپنی پہلی زندگی کے حالات بیان کرتے ہیں کہ میں اس وقت مسلمان ہوا جب مسلمانوں کو کھانے پینے کے لیے درخت کے پتوں کے سوا اور کچھ نہیں ملتا تھا۔
ایسے حالات میں قضائے حاجت کے وقت خشک پاخانہ آتا۔
کیونکہ درختوں کے پتے کھانے سے اونٹوں اور بکریوں کی طرح خشک پاخانہ ہی آتا ہے۔
بہر حال حضرت سعد بن وقاص ؓ اپنا قدیم الاسلام ہونا بیان کرتے ہیں اور بتانا چاہتے ہیں کہ میرے متعلق قبیلہ بنو اسد کی شکایات مبنی برحقیقت نہیں ہیں 3۔
حضرت سعد بن وقاص مدینہ طیبہ سے دس میل دورمقام تحقیق میں فوت ہوئے۔
وہاں سے آپ کو مدینہ طیبہ لایا گیا۔
اور جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔
مروان بن حکم نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔
آپ کی تاریخ وفات محرم 55ھ بمطابق دسمبر674ءہے۔
آپ نے تراسی سال کی عمر پائی۔
رضي اللہ تعالیٰ عنه۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3728]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:78
78- سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں وہ پہلا شخص ہوں، جس نے اللہ کی راہ میں تیر پھینکا تھا، اور مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے والا ساتواں فرد تھا۔ اس وقت ہمارے پاس کھانے کے لیے صرف پتے وغیرہ ہوتے تھے، جس سے ہماری باچھیں چھل جایا کرتی تھیں۔ یہاں تک کہ ہم میں سے کوئی شخص یوں پاخانہ کرتا تھا جس طرح بکری مینگنیاں کرتی ہے۔ اس میں کوئی چیز ملی ہوئی نہیں ہوتی تھی۔ (یعنی وہ بالکل خشک ہوتا تھا)۔ اب بنواسد دینی معاملات میں مجھ پر تنقید کرتے ہیں اگر ایسا ہو، تو میں، تو گمراہ ہوگیا اور میرا عمل ضائع ہوگیا۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:78]
فائدہ:
اس میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے ابتدائی حالات بیان کیے ہیں کہ ہم نے پہلے دور میں کس قدر تکالیف کا سامنا کیا ہے۔ بوقت ضرورت (خصوصاً جب کوئی انسان ذلیل کرنے کی کوشش کر رہا ہو) اپنے خیر کے کام بتانا درست ہے، اس میں ریا کاری یا فخر مقصود نہیں ہونا چاہیے۔اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ ساتویں نمبر پر مسلمان ہوئے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 78]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6237
عامر بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں،کہ جنگ اُحد کےدن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایک ساتھ اپنے ماں باپ کا نام لیا۔مشرکوں میں سے ایک شخص نے مسلمانوں کو جلا ڈالا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد سے کہا: "تیر چلا ؤ تم پرمیرے ماں باپ فداہوں!"حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں نے اس کے لیے (ترکش سے) ایک تیر کھینچا،اس کے پرَہی نہیں تھے۔میں نے وہ اس کے پہلو میں مارا تو وہ گر گیا اور اس کی... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6237]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
احرق المسلمين:
اس نے مسلمانوں کو بھون ڈالا،
ان کا قتل عام کیا اس لیے جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اس کا نشانہ لے کر،
اس کو تیر مارا اور وہ چاروں شانے چت گر گیا تو آپ اس کے قتل و ذلت سے خوش ہو کر ہنس دئیے،
اس کی شرم گاہ کے کھل جانے پر نہیں،
سب کے سامنے رسوا ہونے پر خوش ہوئے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6237]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4055
4055. حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُحد کی جنگ میں میرے لیے اپنے ترکش سے تمام تیر نکال کر رکھ دیے اور فرمایا: ان پر تیروں کی بارش کرو، میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4055]
حدیث حاشیہ:
سعد ؓ بڑے تیر انداز تھے۔
جنگ احد میں کافر چڑھے چلے آرہے تھے۔
انہوں نے ایسے تیر مارے کہ ایک کافر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ آسکا۔
کہتے ہیں کہ تیر بھی ختم ہو گئے اورایک کافر بالکل قریب آن پہنچاتو ایک تیر جس میں نری لکڑی تھی رہ گیا تھا۔
آپ نے سعد ؓ سے فرمایا یہی تیر مارو۔
سعد ؓ نے مارا اور وہ اس کافر کے جسم میں گھس گیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے یہ دعا فرمائی جو روایت میں مذکور ہے جس میں انتہائی ہمت افزائی ہے۔
(صلی اللہ علیه وسلم)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4055]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4056
4056. حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ غزوہ اُحد کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اپنے والد اور والدہ دونوں کو جمع فرمایا۔ (کہ میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:4056]
حدیث حاشیہ:
اس شخص کی قسمت کا کیا ٹھکانا ہے جس کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے شاندار الفاظ فرمائیں۔
فی الواقع حضرت سعد ؓ اس مبارک دعا کے مستحق تھے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4056]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3725
3725. حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اپنے ماں باپ دونوں جمع کردیے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3725]
حدیث حاشیہ:
ایک حدیث میں کے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ترکش سے تمام تیر نکال کر ان کے سامنے بکھیر دیے۔
اور فرمایا:
تم تیراندازی کرو۔
تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4055)
حضرت علی ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے علاوہ کسی اور صحابی کے لیے اپنے ماں باپ کو جمع نہیں کیا۔
(فتح الباري: 107/7)
حالانکہ اس سے پہلے ایک حدیث میں بیان کیا ہوا ہے کہ یہ اعزاز حضرت زبیر بن عوام ؓ کو بھی حاصل ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں۔
شاید حضرت علی ؓ کو اس بات کا علم نہ ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر کے لیے بھی ایسا ہی فرمایا تھا یا احد کے دن حضرت سعد کے علاوہ یہ اعزاز کسی اور کو نہ ملا ہو۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4055)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3725]

Sahih Bukhari Hadith 3728 in Urdu