🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب ما لقي النبى صلى الله عليه وسلم وأصحابه من المشركين بمكة:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مکہ میں مشرکین کے ہاتھوں جن مشکلات کا سامنا کیا ان کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3856
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، قَالَ:حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَخْبِرْنِي بِأَشَدِّ شَيْءٍ صَنَعَهُ الْمُشْرِكُونَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي حِجْرِ الْكَعْبَةِ إِذْ أَقْبَلَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ , فَوَضَعَ ثَوْبَهُ فِي عُنُقِهِ , فَخَنَقَهُ خَنْقًا شَدِيدًا , فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى أَخَذَ بِمَنْكِبِهِ وَدَفَعَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَتَقْتُلُونَ رَجُلا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ سورة غافر آية 28 الْآيَةَ. تَابَعَهُ ابْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. وَقَالَ عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قِيلَ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو: عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ.
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا مجھ سے اوزاعی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم تیمی نے بیان کیا کہ مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ مجھے مشرکیں کے سب سے سخت ظلم کے متعلق بتاؤ جو مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حطیم میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور ظالم اپنا کپڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک میں پھنسا کر زور سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گلا گھونٹنے لگا اتنے میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آ گئے اور انہوں نے اس بدبخت کا کندھا پکڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اسے ہٹا دیا اور کہا کہ تم لوگ ایک شخص کو صرف اس لیے مار ڈالنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے الآیۃ۔ عیاش بن ولید کے ساتھ اس روایت کی متابعت ابن اسحاق نے کی (اور بیان کیا کہ) مجھ سے یحییٰ بن عروہ نے بیان کیا اور ان سے عروہ نے کہ میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے پوچھا اور عبدہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے کہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کہا گیا اور محمد بن عمرو نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے، اس میں یوں ہے کہ مجھ سے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3856]
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے پوچھا: مجھے مشرکین کے سب سے سنگین ظلم کے متعلق بتائیں جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روا رکھا؟ تو انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ حطیمِ کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے، اس دوران عقبہ بن ابی معیط آیا اور اس نے اپنا کپڑا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردنِ مبارک میں ڈال کر بہت زور سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گلا گھونٹا، اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سامنے سے آ کر اس کے دونوں شانے پکڑ لیے اور اسے پیچھے دھکیل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہٹا دیا اور فرمایا: ﴿أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ﴾ [سورة غافر: 28] کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے؟ ابن اسحاق رحمہ اللہ نے اوزاعی رحمہ اللہ سے بیان کرنے میں عیاش بن ولید کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3856]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمرو بن العاص القرشي، أبو محمد، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عمرو بن العاص القرشي
ثقة إمام مكثر
👤←👥محمد بن عمرو الليثي، أبو الحسن، أبو عبد الله
Newمحمد بن عمرو الليثي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
صدوق له أوهام
👤←👥عمرو بن العاص القرشي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newعمرو بن العاص القرشي ← محمد بن عمرو الليثي
صحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عمرو بن العاص القرشي
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥عبدة بن سليمان الكوفي، أبو محمد
Newعبدة بن سليمان الكوفي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمرو السهمي ← عبدة بن سليمان الكوفي
صحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عبد الله بن عمرو السهمي
ثقة فقيه مشهور
👤←👥يحيى بن عروة القرشي، أبو عروة
Newيحيى بن عروة القرشي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← يحيى بن عروة القرشي
صدوق مدلس
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمرو السهمي ← ابن إسحاق القرشي
صحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عبد الله بن عمرو السهمي
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن إبراهيم القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن إبراهيم القرشي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← محمد بن إبراهيم القرشي
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة مأمون
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
ثقة
👤←👥عياش بن الوليد الرقام، أبو الوليد
Newعياش بن الوليد الرقام ← الوليد بن مسلم القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3856
أقبل عقبة بن أبي معيط فوضع ثوبه في عنقه فخنقه خنقا شديدا فأقبل أبو بكر حتى أخذ بمنكبه ودفعه عن النبي قال أتقتلون رجلا أن يقول ربي الله
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3856 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3856
حدیث حاشیہ:
قول محمد بن عمر و کو حضرت امام بخار ی ؒ نے خلق افعال العباد میں وصل کیا ہے۔
حافظ نے کہا ایک روایت میں یوں ہے کہ مشرکین نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا مارا کہ آپ بے ہوش ہوگئے تب حضرت ابو بکر کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کیا تم ایسے شخص کو مارے ڈالتے ہوجو کہتا ہے کہ میرا رب صرف اللہ ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3856]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3856
حدیث حاشیہ:
ایک روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ مشرکین مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر ذدوکوب کیا کہ آپ بے ہوش ہوگئے تب حضرت ابوبکر ؓ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ تم ایسے شخص کو مارتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔
(مسند أبي یعلیٰ: 362/6۔
)
حضرت علی ؓ نے ایک مرتبہ فرمایا:
حضرت ابوبکر ؓ تمام لوگوں سے زیادہ بہادرتھے۔
انھوں نے بڑے کٹھن حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا۔
اورآپ "مومنُ آلِ فرعونَ" سے افضل ہیں بلکہ آپ کی ایک گھڑی اس کی تمام زندگی سے افضل تھی کیونکہ اس نے اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھا جبکہ حضرت ابوبکر ؓ نے ڈنکے کی چوٹ اپنے ایمان کو ظاہر کیا۔
(فتح الباري: 213/7۔
214)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3856]

Sahih Bukhari Hadith 3856 in Urdu