صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب ذكر الجن:
باب: جنوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3860
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَدِّي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" أَنَّهُ كَانَ يَحْمِلُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِدَاوَةً لِوَضُوئِهِ وَحَاجَتِهِ , فَبَيْنَمَا هُوَ يَتْبَعُهُ بِهَا، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: أَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، فَقَالَ:" ابْغِنِي أَحْجَارًا أَسْتَنْفِضْ بِهَا , وَلَا تَأْتِنِي بِعَظْمٍ وَلَا بِرَوْثَةٍ" , فَأَتَيْتُهُ بِأَحْجَارٍ أَحْمِلُهَا فِي طَرَفِ ثَوْبِي حَتَّى وَضَعْتُ إِلَى جَنْبِهِ، ثُمَّ انْصَرَفْتُ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مَشَيْتُ، فَقُلْتُ: مَا بَالُ الْعَظْمِ وَالرَّوْثَةِ؟ قَالَ:" هُمَا مِنْ طَعَامِ الْجِنِّ وَإِنَّهُ أَتَانِي وَفْدُ جِنِّ نَصِيبِينَ وَنِعْمَ الْجِنُّ , فَسَأَلُونِي الزَّادَ , فَدَعَوْتُ اللَّهَ لَهُمْ أَنْ لَا يَمُرُّوا بِعَظْمٍ وَلَا بِرَوْثَةٍ إِلَّا وَجَدُوا عَلَيْهَا طَعَامًا".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عمرو بن یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے دادا نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو اور قضائے حاجت کے لیے (پانی کا) ایک برتن لیے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کون صاحب ہیں؟ بتایا کہ میں ابوہریرہ ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ استنجے کے لیے چند پتھر تلاش کر لاؤ اور ہاں ہڈی اور لید نہ لانا۔ تو میں پتھر لے کر حاضر ہوا۔ میں انہیں اپنے کپڑے میں رکھے ہوئے تھا اور لا کر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب اسے رکھ دیا اور وہاں سے واپس چلا آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت سے فارغ ہو گئے تو میں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا کہ ہڈی اور گوبر میں کیا بات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس لیے کہ وہ جنوں کی خوراک ہیں۔ میرے پاس نصیبین کے جنوں کا ایک وفد آیا تھا اور کیا ہی اچھے وہ جن تھے۔ تو انہوں نے مجھ سے توشہ مانگا میں نے ان کے لیے اللہ سے یہ دعا کی کہ جب بھی ہڈی یا گوبر پر ان کی نظر پڑے تو ان کے لیے اس چیز سے کھانا ملے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3860]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ وہ ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو اور قضائے حاجت کے لیے پانی کا برتن اٹھائے آپ کے پیچھے چل رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کون ہو؟“ میں نے عرض کیا: ابوہریرہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”استنجا کرنے کے لیے چند ڈھیلے تلاش کر کے مجھے دو، لیکن ہڈی اور لید نہ لانا۔“ چنانچہ میں اپنے کپڑے کے ایک کونے میں انہیں اٹھائے حاضر ہوا اور انہیں لا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب رکھ دیا۔ پھر میں وہاں سے ہٹ گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں حاضر ہوا اور عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہڈی اور گوبر کا کیا معاملہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جنات کی خوراک ہیں۔ میرے پاس نصیبین کے جنات کا ایک وفد آیا۔ وہ بہت اچھے جن تھے۔ انہوں نے مجھ سے کھانے کے متعلق سوال کیا۔ میں نے ان کے لیے اللہ سے دعا کی کہ جب بھی ان کی نظر ہڈی یا گوبر پر پڑے تو وہ ان پر کھانا پائیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3860]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3860
| هما من طعام الجن أتاني وفد جن نصيبين ونعم الجن فسألوني الزاد فدعوت الله لهم أن لا يمروا بعظم ولا بروثة إلا وجدوا عليها طعاما |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3860 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3860
حدیث حاشیہ:
یعنی بہ قدرت الٰہی ہڈی اور گوبر پر ان کی اور ان کے جانوروں کی خوراک پیدا ہوجائے۔
کہتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جنات کئی بار حا ضر ہوئے۔
ایک بار بطن نخلہ میں جہاں آپ قرآن پڑھ رہے تھے۔
یہ سات جن تھے، دوسری بار حجون میں، تیسری بار بقیع میں۔
ان راتوں میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ آپ کے ساتھ تھے۔
آپ نے زمین پر ان کے بیٹھنے کے لئے لکیر کھینچ دی تھی۔
چوتھی بار مدینہ کے باہر اس میں زبیر بن عوام ؓ موجود تھے، پانچویں بار ایک سفر میں جس میں بلال بن حارث آپ کے ساتھ تھے، جنوں کا وجود قرآن و حدیث سے ثابت ہے جو لوگ جنات کا انکا ر کرتے ہیں وہ مسلمان کہلانے کے باوجود قرآن وحدیث کا انکار کرتے ہیں۔
ایسے لوگوں کو اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیے۔
یعنی بہ قدرت الٰہی ہڈی اور گوبر پر ان کی اور ان کے جانوروں کی خوراک پیدا ہوجائے۔
کہتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جنات کئی بار حا ضر ہوئے۔
ایک بار بطن نخلہ میں جہاں آپ قرآن پڑھ رہے تھے۔
یہ سات جن تھے، دوسری بار حجون میں، تیسری بار بقیع میں۔
ان راتوں میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ آپ کے ساتھ تھے۔
آپ نے زمین پر ان کے بیٹھنے کے لئے لکیر کھینچ دی تھی۔
چوتھی بار مدینہ کے باہر اس میں زبیر بن عوام ؓ موجود تھے، پانچویں بار ایک سفر میں جس میں بلال بن حارث آپ کے ساتھ تھے، جنوں کا وجود قرآن و حدیث سے ثابت ہے جو لوگ جنات کا انکا ر کرتے ہیں وہ مسلمان کہلانے کے باوجود قرآن وحدیث کا انکار کرتے ہیں۔
ایسے لوگوں کو اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3860]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3860
حدیث حاشیہ:
1۔
یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ اس نے ہڈی کو جنات کی اورگوبر کو ان کے حیوانات کی خوراک بنادیا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ جنات کھاتے پیتے ہیں۔
2۔
نصیبین آج کل یہ الجزیرہ کے نام سے مشہور ہے۔
یہ تاریخی شہر جنوبی ترکی میں شامی سرحد پر واقع ہے۔
اس کے بالمقابل سرحد پارشام کا شہر القامثلی ہے۔
شمالی عراق کے شہر موصل او رنصیبین کا درمیانی فاصلہ تقریباً اڑھائی سوکلومیٹر ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے:
اٹلس فتوحات اسلامیہ (طبع دارالسلام)
ص: 135۔
3۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جن کئی مرتبہ حاضر ہوئے۔
ایک بار بطن نخلہ میں جہاں آپ قرآن مجید پڑھ رہے تھے ان کی تعداد سات تھی۔
ان میں سے ایک کا نام زوبعہ تھا۔
دوسری مرتبہ جحون میں۔
تیسری مرتبہ بقیع میں۔
ان راتوں میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ آپ کے ہمراہ تھے۔
چوتھی مرتبہ مدینہ طیبہ کے باہر۔
اس وقت آپ کے ساتھ حضرت زبیر بن عوام ؓ تھے۔
پانچویں مرتبہ ایک سفر کے دوران میں جبکہ آپ کے ساتھ حضرت بلال ؓ تھے۔
(فتح الباري: 216/7)
جنات کا وجود قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔
جو لوگ ان کاانکار کرتے ہیں یا انھیں پہاڑی مخلوق خیال کرتے ہیں وہ مسلمان کہلوانے کےباوجود قرآن وحدیث کا انکار کرتے ہیں۔
1۔
یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ اس نے ہڈی کو جنات کی اورگوبر کو ان کے حیوانات کی خوراک بنادیا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ جنات کھاتے پیتے ہیں۔
2۔
نصیبین آج کل یہ الجزیرہ کے نام سے مشہور ہے۔
یہ تاریخی شہر جنوبی ترکی میں شامی سرحد پر واقع ہے۔
اس کے بالمقابل سرحد پارشام کا شہر القامثلی ہے۔
شمالی عراق کے شہر موصل او رنصیبین کا درمیانی فاصلہ تقریباً اڑھائی سوکلومیٹر ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے:
اٹلس فتوحات اسلامیہ (طبع دارالسلام)
ص: 135۔
3۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جن کئی مرتبہ حاضر ہوئے۔
ایک بار بطن نخلہ میں جہاں آپ قرآن مجید پڑھ رہے تھے ان کی تعداد سات تھی۔
ان میں سے ایک کا نام زوبعہ تھا۔
دوسری مرتبہ جحون میں۔
تیسری مرتبہ بقیع میں۔
ان راتوں میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ آپ کے ہمراہ تھے۔
چوتھی مرتبہ مدینہ طیبہ کے باہر۔
اس وقت آپ کے ساتھ حضرت زبیر بن عوام ؓ تھے۔
پانچویں مرتبہ ایک سفر کے دوران میں جبکہ آپ کے ساتھ حضرت بلال ؓ تھے۔
(فتح الباري: 216/7)
جنات کا وجود قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔
جو لوگ ان کاانکار کرتے ہیں یا انھیں پہاڑی مخلوق خیال کرتے ہیں وہ مسلمان کہلوانے کےباوجود قرآن وحدیث کا انکار کرتے ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3860]
Sahih Bukhari Hadith 3860 in Urdu
سعيد بن عمرو الأموي ← أبو هريرة الدوسي