صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. باب وفود الأنصار إلى النبى صلى الله عليه وسلم بمكة وبيعة العقبة:
باب: مکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کے وفود کا آنا اور بیعت عقبہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3891
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ:" أَنَا وَأَبِي وَخَالِي مِنْ أَصْحَابِ الْعَقَبَةِ".
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، ان سے عطاء نے بیان کیا کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا میں میرے والد اور میرے دو ماموں تینوں بیعت عقبہ کرنے والوں میں شریک تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3891]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3891 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3891
حدیث حاشیہ:
قسطلانی نے کہا کہ جابر کی ماں کا نام نصیبہ تھا، ان کے بھائی ثعلبہ اور عمروتھے۔
براء جابر کے ماموں نہ تھے لیکن ان کی ماں کے عزیزوں میں سے تھے اور عرب کے لوگ ماں کے سب عزیزوں کو خال (ماموں)
سے یاد کرتے ہیں۔
قسطلانی نے کہا کہ جابر کی ماں کا نام نصیبہ تھا، ان کے بھائی ثعلبہ اور عمروتھے۔
براء جابر کے ماموں نہ تھے لیکن ان کی ماں کے عزیزوں میں سے تھے اور عرب کے لوگ ماں کے سب عزیزوں کو خال (ماموں)
سے یاد کرتے ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3891]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3891
حدیث حاشیہ:
1۔
حضرت براء بن معرور ؓ حضرت جابر ؓ کے رضاعی ماموں ہیں عقبہ ثانیہ کی رات سب سے پہلے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔
وہ اس وقت انصار کے سرادر تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ طیبہ تشریف آوری سے ایک ماہ پہلے وہ فوت ہوگئے۔
2۔
اس بیعت کے وقت انصار کے تہتر مرد اور دو عورتیں تھیں، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ طیبہ تشریف لانے کی دعوت دی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے بارہ آدمیوں کو نقیب مقرر فرمایا جن کے نام یہ ہیں۔
اسعد بن زرارہ ر ؓ رافع بن مالک ؓ عبادہ بن صامت ؓ سعد بن ربیع ؓ منذر بن عمرو ؓ عبد اللہ بن رواحہ ؓ براء بن معرور ؓ عبد اللہ بن عمرو بن حرام ؓ سعد بن عبادہ ؓ اسید بن حضیر ؓ سعد بن خثیمہ ؓ ابو الہیثم بن تیہان یارفاعہ بن عبدالمنذر ؓ ۔
ان میں سے براء بن معرور ؓ پہلے بزرگ ہیں جنھوں نے اس رات سب سے پہلے بیعت کی تھی، یہ بیعت اسلام کی نشرواشاعت کے لیے خشت اول ثابت ہوئی۔
اس کی تفصیل ہم مناقب انصار کے آغاز میں بیان کر آئے ہیں۔
3۔
واضح رہے کہ حضرت جابر ؓ کی والدہ کا نام نصیبہ تھا۔
حضرت براء بن معرور ؓ آپ کے حقیقی ماموں نہ تھے بلکہ رضاعی ماموؤں میں یا آپ کی والدہ کے تعلق داروں میں سے ہیں۔
عرب ماں کے تمام عزیزوں کو خال یعنی ماموں کہتے ہیں۔
1۔
حضرت براء بن معرور ؓ حضرت جابر ؓ کے رضاعی ماموں ہیں عقبہ ثانیہ کی رات سب سے پہلے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔
وہ اس وقت انصار کے سرادر تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ طیبہ تشریف آوری سے ایک ماہ پہلے وہ فوت ہوگئے۔
2۔
اس بیعت کے وقت انصار کے تہتر مرد اور دو عورتیں تھیں، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ طیبہ تشریف لانے کی دعوت دی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے بارہ آدمیوں کو نقیب مقرر فرمایا جن کے نام یہ ہیں۔
ان میں سے براء بن معرور ؓ پہلے بزرگ ہیں جنھوں نے اس رات سب سے پہلے بیعت کی تھی، یہ بیعت اسلام کی نشرواشاعت کے لیے خشت اول ثابت ہوئی۔
اس کی تفصیل ہم مناقب انصار کے آغاز میں بیان کر آئے ہیں۔
3۔
واضح رہے کہ حضرت جابر ؓ کی والدہ کا نام نصیبہ تھا۔
حضرت براء بن معرور ؓ آپ کے حقیقی ماموں نہ تھے بلکہ رضاعی ماموؤں میں یا آپ کی والدہ کے تعلق داروں میں سے ہیں۔
عرب ماں کے تمام عزیزوں کو خال یعنی ماموں کہتے ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3891]
عطاء بن أبي رباح القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري