علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. باب هجرة النبى صلى الله عليه وسلم وأصحابه إلى المدينة:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
حدیث نمبر: 3899
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ الْمَكِّيِّ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , كَانَ يَقُولُ:" لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ".
مجھ سے اسحاق بن یزید دمشقی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوعمرو اوزاعی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدہ بن ابی لبابہ نے بیان کیا، ان سے مجاہد بن جبر مکی نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ فتح مکہ کے بعد (مکہ سے مدینہ کی طرف) ہجرت باقی نہیں رہی۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3899]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3899 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3899
حدیث حاشیہ:
یعنی ہجرت کی وہ فضیلت باقی نہیں رہی جو مکہ فتح ہونے سے قبل تھی بعض نے کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت نہیں رہی اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہجرت کا مشروع ہونا جاتا رہا کیونکہ دار الکفر سے دار الاسلام کو ہجرت واجب ہے جب دین میں خلل پڑنے کا ڈر ہو۔
یہ حکم قیامت تک باقی ہے اور اسماعیلی کی روایت میں ابن عمر ؓ سے اس کی صراحت موجود ہے۔
حافظ نے کہا حضرت عائشہ ؓ کے قول سے یہ نکلتا ہے کہ ہجرت اس ملک سے واجب ہے جہاں پر اللہ کی عبادت آزادی کے ساتھ نہ ہوسکے ورنہ واجب نہیں ماوردی نے کہا اگر مسلمان دار الحرب میں اپنا دین ظاہر کر سکتا ہے تو اس کا حکم دار الاسلام کا سا ہو گا اور وہاں ٹھہرنا ہجرت کرنے سے افضل ہو گا کیونکہ وہاں ٹھہرنے سے یہ امید ہے کہ دوسرے لوگ بھی اسلام میں داخل ہوں۔
(وحیدی)
یعنی ہجرت کی وہ فضیلت باقی نہیں رہی جو مکہ فتح ہونے سے قبل تھی بعض نے کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت نہیں رہی اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہجرت کا مشروع ہونا جاتا رہا کیونکہ دار الکفر سے دار الاسلام کو ہجرت واجب ہے جب دین میں خلل پڑنے کا ڈر ہو۔
یہ حکم قیامت تک باقی ہے اور اسماعیلی کی روایت میں ابن عمر ؓ سے اس کی صراحت موجود ہے۔
حافظ نے کہا حضرت عائشہ ؓ کے قول سے یہ نکلتا ہے کہ ہجرت اس ملک سے واجب ہے جہاں پر اللہ کی عبادت آزادی کے ساتھ نہ ہوسکے ورنہ واجب نہیں ماوردی نے کہا اگر مسلمان دار الحرب میں اپنا دین ظاہر کر سکتا ہے تو اس کا حکم دار الاسلام کا سا ہو گا اور وہاں ٹھہرنا ہجرت کرنے سے افضل ہو گا کیونکہ وہاں ٹھہرنے سے یہ امید ہے کہ دوسرے لوگ بھی اسلام میں داخل ہوں۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3899]
Sahih Bukhari Hadith 3899 in Urdu
مجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي