صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. باب التاريخ من أين أرخوا التاريخ:
باب: اسلامی تاریخ کب سے شروع ہوئی؟
حدیث نمبر: 3934
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:" مَا عَدُّوا مِنْ مَبْعَثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا مِنْ وَفَاتِهِ مَا عَدُّوا إِلَّا مِنْ مَقْدَمِهِ الْمَدِينَةَ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابوحازم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد سلمہ بن دینار نے، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ تاریخ کا شمار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے سال سے ہوا اور نہ آپ کی وفات کے سال سے بلکہ اس کا شمار مدینہ کی ہجرت کے سال سے ہوا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3934]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3934
| ما عدوا من مبعث النبي ولا من وفاته ما عدوا إلا من مقدمه المدينة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3934 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3934
حدیث حاشیہ:
ابن جوزی ؒ نے کہا جب دنیا میں آبادی زیادہ ہوگئی تو حضرت آدم کے وقت سے تاریخ کا شمار ہونے لگا اب آدم سے لے کر طوفان نوح تک ایک تاریخ ہے اور طوفان نوح سے حضرت ابراہیم ؑ کے آگ میں ڈالے جانے تک دوسری اور اس وقت سے حضرت یوسف ؑ تک تیسری۔
وہاں سے حضرت موسیٰ ؑ کی مصر سے روانہ ہونے تک چوتھی۔
وہاں سے حضرت داؤد ؑ تک پانچویں۔
وہاں سے حضرت سلیمان ؑ تک چھٹی اور وہاں سے حضرت عیسیٰ ؑ تک ساتویں ہے اور مسلمانوں کی تاریخ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے شروع ہوتی ہے گو ہجرت ربیع الاول میں ہوئی تھی مگر سال کا آغاز محرم سے رکھا۔
یہودی بیت المقدس کی ویرانی سے اور نصاریٰ حضرت مسیح ؑ کے اٹھ جانے سے تاریخ کا حساب کرتے ہیں۔
ابن جوزی ؒ نے کہا جب دنیا میں آبادی زیادہ ہوگئی تو حضرت آدم کے وقت سے تاریخ کا شمار ہونے لگا اب آدم سے لے کر طوفان نوح تک ایک تاریخ ہے اور طوفان نوح سے حضرت ابراہیم ؑ کے آگ میں ڈالے جانے تک دوسری اور اس وقت سے حضرت یوسف ؑ تک تیسری۔
وہاں سے حضرت موسیٰ ؑ کی مصر سے روانہ ہونے تک چوتھی۔
وہاں سے حضرت داؤد ؑ تک پانچویں۔
وہاں سے حضرت سلیمان ؑ تک چھٹی اور وہاں سے حضرت عیسیٰ ؑ تک ساتویں ہے اور مسلمانوں کی تاریخ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے شروع ہوتی ہے گو ہجرت ربیع الاول میں ہوئی تھی مگر سال کا آغاز محرم سے رکھا۔
یہودی بیت المقدس کی ویرانی سے اور نصاریٰ حضرت مسیح ؑ کے اٹھ جانے سے تاریخ کا حساب کرتے ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3934]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3934
حدیث حاشیہ:
1۔
حضرت عمر ؓ نے اپنے دور خلافت کے چار سال بعد تاریخ کا آغاز کیا جب انھیں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے خط لکھا تھا کہ آپ کے خطوط ہمارے پاس آتے ہیں ان پر تاریخ نہیں ہوتی۔
آپ تاریخ لکھا کریں تاکہ واقعات کا حساب لگانے میں سہولت رہے اس لیے حضرت عمر ؓ نے تاریخ کا آغاز کیا۔
جب آپ نے تاریخ شروع کرنے کا ارادہ فرمایا۔
تو صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو جمع کر کے ان سے مشورہ لیا۔
کسی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے تاریخ کا آغاز کریں۔
کسی نے بعثت سے شروع کرنے کا مشورہ دیا اور کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے تاریخ چلانے کے لیے کہا۔
حضرت علی ؓ نے فرمایا:
آپ ہجرت سے تاریخ کی ابتدا کریں کیونکہ ہجرت ہی حق و باطل کے درمیان امتیاز کرتی ہے۔
چنانچہ ان کے مشورے پر اتفاق کر لیا گیا اور سال کا پہلا مہینہ محرم سے شروع ہوا اگرچہ آپ کی مدینہ طیبہ میں تشریف آوری ماہ ربیع الاول میں ہوئی تھی لیکن سال کا آغاز محرم سے کیا کیونکہ آپ کی تیاری محرم میں شروع ہوچکی تھی جبکہ حج کے موقع ر بیعت عقبہ ثانیہ ہو چکی تھی، نیز یہ مہینہ حاجیوں کی واپسی کا ہوتا ہے۔
2۔
واضح رہے کہ یہ فیصلہ ہجرت کے سولہویں یا سترھویں سال طے پایا۔
(فتح الباري: 336/7)
3۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تاریخ مقرر کرنے کی چار صورتیں تھیں یوم پیدائش یوم بعثت یوم وفات اور ہجرت یوم پیدائش اور یوم بعثت میں تو کافی اختلاف ہے یوم وفات حسرت و افسوس کا دن ہے، اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کی یاد تازہ ہوتی تھی۔
اس لیے ہجرت سے اسلامی سال کی ابتدا کی گئی اور درج ذیل آیت کریمہ سے اس کا استنباط کیا گیا ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”وہ مسجد جس کی پہلے دن سے تقوی پر بنیاد رکھی گئی تھی۔
“ (التوبة: 108/9)
مسجد کی بنیاد اس دن رکھی گئی جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین مدینے میں داخل ہوئے۔
4۔
واضح رہے کہ عرب کے ہاں تاریخ قمری سال کے حساب سے ہے شمسی سال کا اعتبار نہیں کیا گیا۔
اس حساب میں رات پہلے آتی ہےاور دن بعد میں ہوتا ہے کیونکہ چاند پہلے رات کو ظاہر کرتا ہے اس کے بعد دن کا آغاز ہوتا ہےبہرحال اہل اسلام نے اپنی تاریخ کا آغاز یکم محرم سے کیا اور اسے قرآنی آیت (مِن اَوَّلِ يَوم)
سے استنباط کیا کیونکہ اس وقت اسلامی ترقی کا آغاز ہوا اور امن سلامتی سے انھیں تبلیغ اسلام کا موقع ملا نیز مسجد قباء کی بنیاد رکھی گئی۔
5۔
یہودیوں نے بیت المقدس کی ویرانی اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے اٹھ جانے سے اپنی اپنی تاریخ کا آغاز کیا نیز یکم محرم سن ہجری کا آغاز ہے تکمیل نہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ آج یکم محرم 1429۔
کا آغاز ہے 1229 کی تکمیل نہیں جیسا کہ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے۔
واللہ اعلم۔
1۔
حضرت عمر ؓ نے اپنے دور خلافت کے چار سال بعد تاریخ کا آغاز کیا جب انھیں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے خط لکھا تھا کہ آپ کے خطوط ہمارے پاس آتے ہیں ان پر تاریخ نہیں ہوتی۔
آپ تاریخ لکھا کریں تاکہ واقعات کا حساب لگانے میں سہولت رہے اس لیے حضرت عمر ؓ نے تاریخ کا آغاز کیا۔
جب آپ نے تاریخ شروع کرنے کا ارادہ فرمایا۔
تو صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو جمع کر کے ان سے مشورہ لیا۔
کسی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے تاریخ کا آغاز کریں۔
کسی نے بعثت سے شروع کرنے کا مشورہ دیا اور کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے تاریخ چلانے کے لیے کہا۔
حضرت علی ؓ نے فرمایا:
آپ ہجرت سے تاریخ کی ابتدا کریں کیونکہ ہجرت ہی حق و باطل کے درمیان امتیاز کرتی ہے۔
چنانچہ ان کے مشورے پر اتفاق کر لیا گیا اور سال کا پہلا مہینہ محرم سے شروع ہوا اگرچہ آپ کی مدینہ طیبہ میں تشریف آوری ماہ ربیع الاول میں ہوئی تھی لیکن سال کا آغاز محرم سے کیا کیونکہ آپ کی تیاری محرم میں شروع ہوچکی تھی جبکہ حج کے موقع ر بیعت عقبہ ثانیہ ہو چکی تھی، نیز یہ مہینہ حاجیوں کی واپسی کا ہوتا ہے۔
2۔
واضح رہے کہ یہ فیصلہ ہجرت کے سولہویں یا سترھویں سال طے پایا۔
(فتح الباري: 336/7)
3۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تاریخ مقرر کرنے کی چار صورتیں تھیں یوم پیدائش یوم بعثت یوم وفات اور ہجرت یوم پیدائش اور یوم بعثت میں تو کافی اختلاف ہے یوم وفات حسرت و افسوس کا دن ہے، اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کی یاد تازہ ہوتی تھی۔
اس لیے ہجرت سے اسلامی سال کی ابتدا کی گئی اور درج ذیل آیت کریمہ سے اس کا استنباط کیا گیا ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”وہ مسجد جس کی پہلے دن سے تقوی پر بنیاد رکھی گئی تھی۔
“ (التوبة: 108/9)
مسجد کی بنیاد اس دن رکھی گئی جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین مدینے میں داخل ہوئے۔
4۔
واضح رہے کہ عرب کے ہاں تاریخ قمری سال کے حساب سے ہے شمسی سال کا اعتبار نہیں کیا گیا۔
اس حساب میں رات پہلے آتی ہےاور دن بعد میں ہوتا ہے کیونکہ چاند پہلے رات کو ظاہر کرتا ہے اس کے بعد دن کا آغاز ہوتا ہےبہرحال اہل اسلام نے اپنی تاریخ کا آغاز یکم محرم سے کیا اور اسے قرآنی آیت (مِن اَوَّلِ يَوم)
سے استنباط کیا کیونکہ اس وقت اسلامی ترقی کا آغاز ہوا اور امن سلامتی سے انھیں تبلیغ اسلام کا موقع ملا نیز مسجد قباء کی بنیاد رکھی گئی۔
5۔
یہودیوں نے بیت المقدس کی ویرانی اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے اٹھ جانے سے اپنی اپنی تاریخ کا آغاز کیا نیز یکم محرم سن ہجری کا آغاز ہے تکمیل نہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ آج یکم محرم 1429۔
کا آغاز ہے 1229 کی تکمیل نہیں جیسا کہ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3934]
سلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي