🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب عدة أصحاب بدر:
باب: جنگ بدر میں شریک ہونے والوں کا شمار۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3957
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا أَنَّهُمْ كَانُوا عِدَّةَ أَصْحَابِ طَالُوتَ الَّذِينَ جَازُوا مَعَهُ النَّهَرَ بِضْعَةَ عَشَرَ وَثَلَاثَ مِائَةٍ، قَالَ الْبَرَاءُ:" لَا وَاللَّهِ مَا جَاوَزَ مَعَهُ النَّهَرَ إِلَّا مُؤْمِنٌ".
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا کہا، ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا کہا، ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا، کہا کہ میں نے براء رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے جو بدر میں شریک تھے مجھ سے بیان کیا کہ بدر کی لڑائی میں ان کی تعداد اتنی ہی تھی جتنی طالوت علیہ السلام کے ان اصحاب کی تھی جنہوں نے ان کے ساتھ نہر فلسطین کو پار کیا تھا۔ تقریباً تین سو دس۔ براء رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں، اللہ کی قسم! طالوت کے ساتھ نہر فلسطین کو صرف وہی لوگ پار کر سکے تھے جو مومن تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3957]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥البراء بن عازب الأنصاري، أبو عمارة، أبو الطفيل، أبو عمروصحابي
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← البراء بن عازب الأنصاري
ثقة مكثر
👤←👥زهير بن معاوية الجعفي، أبو خيثمة
Newزهير بن معاوية الجعفي ← أبو إسحاق السبيعي
ثقة ثبت
👤←👥عمرو بن خالد الحراني، أبو الحسن
Newعمرو بن خالد الحراني ← زهير بن معاوية الجعفي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3959
كنا نتحدث أن أصحاب بدر ثلاث مائة وبضعة عشر بعدة أصحاب طالوت الذين جاوزوا معه النهر وما جاوز معه إلا مؤمن
صحيح البخاري
3957
عدة أصحاب طالوت الذين جازوا معه النهر بضعة عشر وثلاث مائة قال البراء لا والله ما جاوز معه النهر إلا مؤمن
صحيح البخاري
3958
عدة أصحاب بدر على عدة أصحاب طالوت الذين جاوزوا معه النهر ولم يجاوز معه إلا مؤمن بضعة عشر وثلاث مائة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3957 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3957
حدیث حاشیہ:
بے ایمان سب نہر کا پانی بے صبری سے پی پی کر پیٹ پھلاپھلا کر ہمت ہار چکے تھے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3957]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3959
3959. حضرت براء ؓ سے مزید ایک روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم آپس میں باتیں کیا کرتے تھے کہ اصحاب بدر تین سو دس سے کچھ زیادہ تھے۔ وہ اصحاب طالوت کی تعداداکے برابر تھے جنہوں نے ان کے ساتھ نہر پار کی تھی۔ اور اسے عبور کرنے والے صرف ایمان دار ہی تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3959]
حدیث حاشیہ:

جب دمشق کے نواح میں طالوت اور جالوت کے درمیان جنگ شروع ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے طالوت کی فوج کا نہراردن کے ذریعے سے امتحان لیناچاہا۔
حضرت طالوت نےاپنی فوج سے فرمایا:
جس نے اس نہر سے پانی پیا وہ میرا ساتھی نہیں۔
میراساتھی وہ ہے جو اسے نہ چکھے گا الا یہ کہ چلو بھر پانی پی لے۔
پھر ان میں سے چند آدمیوں کے سوا سب نےسیر ہوکرپانی پیا۔
(البقرہ: 249/2)

طالوت کی اس فوج میں حضرت داؤد ؑ بھی شامل تھے جنھوں نے جالوت کوقتل کیا جوکفر کی کمان کررہا تھا۔

اس حدیث کامطلب یہ ہےکہ جیسے اصحاب طالوت مومن تھے ایسے ہی اصحاب بدر بھی سب کے سب مومن تھے۔
اس کایہ مطلب نہیں کہ جو بدر میں شریک نہیں ہوئے وہ مومن نہیں کیونکہ یہ تو ایک ہنگامی جنگ تھی۔
الغرض اصحاب بدر، طالوت کے ساتھیوں کے ساتھ تعداد اور صفت ایمان میں برابر تھے۔
اصحاب بدر کی تعداد تین سو تیرہ کے لگ بھگ تھی۔
واللہ اعلم۔

حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ آٹھ آدمی ایسے ہیں جنھیں غزوہ بدر میں عدم شمولیت کے باوجود مال غنیمت سے حصہ دیاگیا کیونکہ وہ کسی خاص مجبوری کی وجہ سے شریک نہ ہوسکے تھے۔
ان کی تفصیل حسب ذیل ہے:
۔
حضرت عثمان بن عفان ؓ وہ حضرت رقیہؓ کی تیمارداری کی وجہ سے شریک نہ ہوسکے۔
۔
حضرت طلحہ بن عبیداللہ اور سعید بن زید ؓ کو قافلہ کفار کے حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجاگیا۔
حضرت ابولبابہ ؓ کو مقام روحاء سے مدینے کی نگرانی کے لیے واپس کردیا گیا۔
۔
حضرت عاصم بن عدی ؓ کو اہل عالیہ کے لیے اور حارث بن حاطب ؓ کوقبیلہ عمرو بن عوف پر نگران مقرر کیا گیا۔
۔
حضرت حارث بن صمہ ؓ مقام روحاء میں گر پڑے اور ان کی ہڈی ٹوٹ گئی، انھیں واپس مدینے بھیج دیا گیا۔
۔
حضرت خوات بن جبیر ؓ کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو۔
(فتح الباري: 365/7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3959]