🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب قتل أبى جهل:
باب: (بدر کے دن) ابوجہل کا قتل ہونا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3975
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا لِلزُّبَيْرِ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ: أَلَا تَشُدُّ فَنَشُدَّ مَعَكَ؟ فَقَالَ: إِنِّي إِنْ شَدَدْتُ كَذَبْتُمْ، فَقَالُوا: لَا نَفْعَلُ , فَحَمَلَ عَلَيْهِمْ حَتَّى شَقَّ صُفُوفَهُمْ فَجَاوَزَهُمْ وَمَا مَعَهُ أَحَدٌ , ثُمَّ رَجَعَ مُقْبِلًا فَأَخَذُوا بِلِجَامِهِ , فَضَرَبُوهُ ضَرْبَتَيْنِ عَلَى عَاتِقِهِ بَيْنَهُمَا ضَرْبَةٌ ضُرِبَهَا يَوْمَ بَدْرٍ، قَالَ عُرْوَةُ: كُنْتُ أُدْخِلُ أَصَابِعِي فِي تِلْكَ الضَّرَبَاتِ أَلْعَبُ وَأَنَا صَغِيرٌ، قَالَ عُرْوَةُ: وَكَانَ مَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ يَوْمَئِذٍ وَهُوَ ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ , فَحَمَلَهُ عَلَى فَرَسٍ وَوَكَّلَ بِهِ رَجُلًا.
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا ‘ ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا ‘ انہیں ہشام بن عروہ نے خبر دی ‘ انہیں ان کے والد نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے زبیر رضی اللہ عنہ سے یرموک کی جنگ میں کہا آپ حملہ کرتے تو ہم بھی آپ کے ساتھ حملہ کرتے انہوں نے کہا کہ اگر میں نے ان پر زور کا حملہ کر دیا تو پھر تم لوگ پیچھے رہ جاؤ گے سب بولے کہ ہم ایسا نہیں کریں گے۔ چنانچہ زبیر رضی اللہ عنہ نے دشمن (رومی فوج) پر حملہ کیا اور ان کی صفوں کو چیرتے ہوئے آگے نکل گئے۔ اس وقت ان کے ساتھ کوئی ایک بھی (مسلمان) نہیں رہا پھر (مسلمان فوج کی طرف) آنے لگے تو رومیوں نے ان کے گھوڑے کی لگام پکڑ لی اور مونڈھے پر دو کاری زخم لگائے، جو زخم بدر کی لڑائی کے موقع پر ان کو لگا تھا وہ ان دونوں زخموں کے درمیان میں پڑ گیا تھا۔ عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ جب میں چھوٹا تھا تو ان زخموں میں اپنی انگلیاں ڈال کر کھیلا کرتا تھا۔ عروہ نے بیان کیا کہ یرموک کی لڑائی کے موقع پر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ گئے تھے، اس وقت ان کی عمر کل دس سال کی تھی اس لیے ان کو ایک گھوڑے پر سوار کر کے ایک صاحب کی حفاظت میں دے دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3975]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الزبير بن العوام الأسدي، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← الزبير بن العوام الأسدي
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥أحمد بن محمد المروزي، أبو العباس
Newأحمد بن محمد المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3975 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3975
حدیث حاشیہ:

ان روایات میں جب راوی حضرت زبیر ؓ کے غزوہ بدر سے متعلق کار نامے بیان کرتا ہے تو زخم کے دو نشانات میدان بدر میں اور ایک نشان یرموک کا ذکر کرتا ہے اور اگر یرموک کی جنگ سے متعلق بہادری کے جوہر بیان کرتا ہے تو دو زخم یرموک کے اور ایک زخم غزوہ بدر کا بیان کرتا ہے دراصل کل زخم چار تھے دو غزوہ بدر میں اور دو ہی یرموک میں آئے تھے۔
لیکن جوزخم یرموک کی لڑائی میں لگے ان میں سے ایک بدر کی لڑائی کے دو زخموں کے درمیان تھا اور دوسرا زخم یوم بدر کے زخموں سے ایک جانب الگ تھا اس لیے ان روایات میں کوئی تضاد نہیں۔
جو راوی یرموک کا ایک زخم بیان کرتا ہے اس کی مراد یوم بدر کے زخموں کے درمیان والا زخم ہے۔
اس کی صورت مندرجہ ذیل ہے بدر، یرموک بدر، یرموک۔

اس حدیث میں حضرت زبیر ؓ کے بدر کے موقع پر کارناموں کا ذکر ہے کہ دشمنوں کو مارتے مارتے ان کی تلوارمیں دندانے پڑچکے تھے اس لیے امام بخاری ؒ نے اسے بیان کیا ہے۔

یرموک شام کے علاقے میں ایک مقام کا نام ہے جو دمشق کے قریب ہے۔
اس مقام پر رومیوں نے چاروں طرف سے اپنی قوت جمع کر کے مقابلہ کیا تھا۔
اس میں ستر ہزار رومیوں نے اپنے آپ کو زنجیروں سے باندھ رکھا تھا تاکہ ان میں سے کوئی بھاگ نہ سکے ان کی فوج بیس لاکھ کے قریب تھی۔
ان میں سے ایک لاکھ پانچ ہزار رومی قتل ہوئے۔
چالیس ہزار قیدی بنائے گئے اور باقی بھاگ گئے جبکہ مسلمانوں کی تعداد چار لاکھ تھی۔
اس لڑائی میں اہل بدر میں سے ایک سو صحابہ کرام ؓ نے شرکت کی، معرکہ یرموک 13 ہجری میں حضرت عمر ؓ کے دور خلافت میں پیش آیا۔
مسلمانوں کی فوت کے کمانڈر حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ تھے اللہ تعالیٰ نے اس جنگ میں مسلمانوں کو فتح دی۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3975]