🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب قتل أبى جهل:
باب: (بدر کے دن) ابوجہل کا قتل ہونا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3979
قَالَتْ: وَذَاكَ مِثْلُ قَوْلِهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْقَلِيبِ وَفِيهِ قَتْلَى بَدْرٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: لَهُمْ مَا قَالَ:" إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ" , إِنَّمَا قَالَ:" إِنَّهُمُ الْآنَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّ مَا كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ حَقٌّ" ثُمَّ قَرَأَتْ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتَى سورة النمل آية 80 , وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ سورة فاطر آية 22 يَقُولُ: حِينَ تَبَوَّءُوا مَقَاعِدَهُمْ مِنَ النَّارِ".
‏‏‏‏ انہوں نے کہا کہ اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے اس کنویں پر کھڑے ہو کر جس میں مشرکین کی لاشیں ڈال دی گئیں تھیں ‘ ان کے بارے میں فرمایا تھا کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں ‘ یہ اسے سن رہے ہیں۔ تو آپ کے فرمانے کا مقصد یہ تھا کہ اب انہیں معلوم ہو گیا ہو گا کہ ان سے میں جو کچھ کہہ رہا تھا وہ حق تھا۔ پھر انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی «إنك لا تسمع الموتى‏» آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔ «وما أنت بمسمع من في القبور‏» اور جو لوگ قبروں میں دفن ہو چکے ہیں انہیں آپ اپنی بات نہیں سنا سکتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ (آپ ان مردوں کو نہیں سنا سکتے) جو اپنا ٹھکانا اب جہنم میں بنا چکے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3979]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مزید فرمایا: یہ تو ایسا ہی ہے جیسا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے کنویں پر کھڑے ہوئے، جبکہ اس میں مشرکین کی لاشوں کو بدر کے دن ڈالا گیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو میں کہتا ہوں وہ اسے سن رہے ہیں، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا: اب انہیں معلوم ہو گیا ہے کہ جو میں انہیں کہتا تھا وہ حق تھا۔ پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ آیت پڑھی: ﴿إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى﴾ [سورة النمل: 80] آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔ اور ﴿وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ﴾ [سورة فاطر: 22] اور نہ آپ ان ہی کو سنا سکتے ہیں جو قبروں میں پڑے ہیں۔ عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقصد یہ ہے کہ جب وہ آگ میں اپنے ٹھکانوں پر پہنچ چکے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3979]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

Sahih Bukhari Hadith 3979 in Urdu