صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب قتل أبى جهل:
باب: (بدر کے دن) ابوجہل کا قتل ہونا۔
حدیث نمبر: 3978
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَفَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ، فَقَالَتْ: وَهَلَ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَيُعَذَّبُ بِخَطِيئَتِهِ وَذَنْبِهِ وَإِنَّ أَهْلَهُ لَيَبْكُونَ عَلَيْهِ الْآنَ".
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام نے ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے کسی نے اس کا ذکر کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ میت کو قبر میں اس کے گھر والوں کے، اس پر رونے سے بھی عذاب ہوتا ہے۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ عذاب میت پر اس کی بدعملیوں اور گناہوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اور اس کے گھر والے ہیں کہ اب بھی اس کی جدائی پر روتے رہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3978]
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اس بات کا ذکر ہوا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بیان کرتے ہیں: ”یقینا مردے کو اس کے عزیزوں کے رونے کی وجہ سے قبر میں عذاب دیا جاتا ہے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”وہ بھول گئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا: ”بے شک اس مردے کو اس کی غلطیوں اور گناہوں کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا ہے جبکہ اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں۔“” [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3978]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3978
| ليعذب بخطيئته وذنبه وإن أهله ليبكون عليه الآن |
صحيح البخاري |
1289
| ليبكون عليها وإنها لتعذب في قبرها |
صحيح مسلم |
2153
| تبكون وإنه ليعذب |
صحيح مسلم |
2154
| الميت يعذب في قبره ببكاء أهله عليه |
صحيح مسلم |
2156
| الميت ليعذب ببكاء الحي فقالت عائشة يغفر الله |
جامع الترمذي |
1006
| ليبكون عليها وإنها لتعذب في قبرها |
سنن النسائى الصغرى |
1858
| الله يزيد الكافر عذابا ببعض بكاء أهله عليه |
سنن النسائى الصغرى |
1857
| ليبكون عليها وإنها لتعذب |
سنن ابن ماجه |
1595
| أهلها يبكون عليها وإنها تعذب في قبرها |
Sahih Bukhari Hadith 3978 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق