صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب:
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 3998
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ الزُّبَيْرُ:" لَقِيتُ يَوْمَ بَدْرٍ عُبَيْدَةَ بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ وَهُوَ مُدَجَّجٌ لَا يُرَى مِنْهُ إِلَّا عَيْنَاهُ , وَهُوَ يُكْنَى أَبُو ذَاتِ الْكَرِشِ"، فَقَالَ:" أَنَا أَبُو ذَاتِ الْكَرِشِ فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ بِالْعَنَزَةِ فَطَعَنْتُهُ فِي عَيْنِهِ فَمَاتَ"، قَالَ هِشَامٌ: فَأُخْبِرْتُ أَنَّ الزُّبَيْرَ، قَالَ:" لَقَدْ وَضَعْتُ رِجْلِي عَلَيْهِ , ثُمَّ تَمَطَّأْتُ فَكَانَ الْجَهْدَ أَنْ نَزَعْتُهَا وَقَدِ انْثَنَى طَرَفَاهَا"، قَالَ عُرْوَةُ:" فَسَأَلَهُ إِيَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُ , فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا، ثُمَّ طَلَبَهَا أَبُو بَكْرٍ فَأَعْطَاهُ , فَلَمَّا قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ سَأَلَهَا إِيَّاهُ عُمَرُ , فَأَعْطَاهُ إِيَّاهَا , فَلَمَّا قُبِضَ عُمَرُ أَخَذَهَا , ثُمَّ طَلَبَهَا عُثْمَانُ مِنْهُ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهَا , فَلَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ وَقَعَتْ عِنْدَ آلِ عَلِيٍّ فَطَلَبَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ فَكَانَتْ عِنْدَهُ حَتَّى قُتِلَ".
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور ان سے زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بدر کی لڑائی میں میری مڈبھیڑ عبیدہ بن سعید بن عاص سے ہو گئی۔ اس کا سارا جسم لوہے میں غرق تھا اور صرف آنکھ دکھائی دے رہی تھی۔ اس کی کنیت ابوذات الکرش تھی۔ کہنے لگا کہ میں ابوذات الکرش ہوں۔ میں نے چھوٹے برچھے سے اس پر حملہ کیا اور اس کی آنکھ ہی کو نشانہ بنایا۔ چنانچہ اس زخم سے وہ مر گیا۔ ہشام نے بیان کیا کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں نے اپنا پاؤں اس کے اوپر رکھ کر پورا زور لگایا اور بڑی دشواری سے وہ برچھا اس کی آنکھ سے نکال سکا۔ اس کے دونوں کنارے مڑ گئے تھے۔ عروہ نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کا وہ برچھا طلب فرمایا تو انہوں نے وہ پیش کر دیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو انہوں نے اسے واپس لے لیا۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے طلب کیا تو انہوں نے انہیں بھی دے دیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے طلب کیا۔ انہوں نے انہیں بھی دے دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد انہوں نے اسے لے لیا۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے طلب کیا تو انہوں نے انہیں بھی دے دیا۔ عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد وہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا اور ان کے بعد ان کی اولاد کے پاس اور اس کے بعد عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے لے لیا اور ان کے پاس ہی رہا، یہاں تک کہ وہ شہید کر دیئے گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3998]
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”بدر کی لڑائی میں میرا مقابلہ عبیدہ بن سعید بن عاص سے ہوا جو ہتھیاروں سے لیس تھا۔ اس کی صرف دو آنکھیں ہی نظر آ رہی تھیں۔ اس کی کنیت ابو ذات کرش تھی۔ اس نے کہا: ”میں ابو ذات کرش ہوں۔“ میں نے برچھے سے اس پر حملہ کیا اور اس کی آنکھوں پر ایسا تاک کر مارا کہ وہ تاب نہ لا کر مر گیا۔“ ہشام کہتے ہیں: ”مجھے خبر دی گئی کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے اپنا پاؤں اس پر رکھا اور زور لگا کر پوری طاقت سے برچھا نکالا جبکہ اس کے دونوں کنارے ٹیڑھے ہو چکے تھے۔““ عروہ نے کہا: ”وہ برچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طلب کرنے پر انہوں نے آپ کو دے دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو انہوں نے وہ برچھا واپس لے لیا۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مانگنے پر انہیں دے دیا۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے مانگ لیا تو انہیں دے دیا۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تو انہوں نے واپس لے لیا۔ اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے مانگا تو انہوں نے دے دیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو وہ برچھا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خاندان کے ہاتھ لگا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے واپس لے کر اپنے پاس رکھا جو ان کی شہادت تک ان کے پاس رہا۔“ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3998]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3998
| لقيت يوم بدر عبيدة بن سعيد بن العاص وهو مدجج لا يرى منه إلا عيناه وهو يكنى أبو ذات الكرش فقال أنا أبو ذات الكرش فحملت عليه بالعنزة فطعنته في عينه فمات |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3998 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3998
حدیث حاشیہ:
باب کا مطلب اس سے نکلا کہ حضرت زبیر ؓ نے بدر کے دن کا یہ واقعہ بیان کیا۔
معلوم ہوا وہ بدری تھے۔
باب کا مطلب اس سے نکلا کہ حضرت زبیر ؓ نے بدر کے دن کا یہ واقعہ بیان کیا۔
معلوم ہوا وہ بدری تھے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3998]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3998
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث میں حضرت زبیر ؓ کے ایک کارنامے کا ذکرہے اس لیے امام بخاری ؒ نے اسے بیان کیا ہے۔
2۔
زبیر ؓ نے وہ نیزہ اتنے زور سے مارا تھا کہ اس کی آنکھ کی سخت ہڈی سے آگے گزر گیا۔
جسے پوری طاقت سے کھینچا گیا تو وہ ٹیڑھا ہو گیا۔
اسے تبرک کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاء نے اپنے پاس رکھا پھر حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ نے اپنے پاس رکھا۔
ان کی شہادت کے بعد ان کا تمام سازو سامان عبد الملک بن مروان کے پاس پہنچا دیا گیا۔
ممکن ہے کہ یہ تاریخی نیزہ اسی سامان کے ساتھ وہاں پہنچا دیا گیاہو۔
واللہ اعلم۔
1۔
اس حدیث میں حضرت زبیر ؓ کے ایک کارنامے کا ذکرہے اس لیے امام بخاری ؒ نے اسے بیان کیا ہے۔
2۔
زبیر ؓ نے وہ نیزہ اتنے زور سے مارا تھا کہ اس کی آنکھ کی سخت ہڈی سے آگے گزر گیا۔
جسے پوری طاقت سے کھینچا گیا تو وہ ٹیڑھا ہو گیا۔
اسے تبرک کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاء نے اپنے پاس رکھا پھر حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ نے اپنے پاس رکھا۔
ان کی شہادت کے بعد ان کا تمام سازو سامان عبد الملک بن مروان کے پاس پہنچا دیا گیا۔
ممکن ہے کہ یہ تاریخی نیزہ اسی سامان کے ساتھ وہاں پہنچا دیا گیاہو۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3998]
Sahih Bukhari Hadith 3998 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← الزبير بن العوام الأسدي