🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب: {إذ همت طائفتان منكم أن تفشلا والله وليهما وعلى الله فليتوكل المؤمنون} :
باب: جب تم میں سے دو جماعتیں ایسا ارادہ کر بیٹھتی تھیں کہ ہمت ہار دیں حالانکہ اللہ دونوں کا مددگار تھا اور ایمانداروں کو تو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4063
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ , عَنْ قَيْسٍ , قَالَ:" رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ شَلَّاءَ وَقَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ".
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے بیان کیا کہ میں نے طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ دیکھا جو شل ہو چکا تھا۔ اس ہاتھ سے انہوں نے غزوہ احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4063]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥طلحة بن عبيد الله القرشي، أبو محمدصحابي
👤←👥قيس بن أبي حازم البجلي، أبو عبد الله
Newقيس بن أبي حازم البجلي ← طلحة بن عبيد الله القرشي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي خالد البجلي ← قيس بن أبي حازم البجلي
ثقة ثبت
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي
ثقة حافظ إمام
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3724
يد طلحة التي وقى بها النبي قد شلت
صحيح البخاري
4063
يد طلحة شلاء وقى بها النبي يوم أحد
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4063 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4063
حدیث حاشیہ:

حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ اپنے ہاتھ سے مشرکین کے تیروں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روکتے تھے۔
اس بنا پر اُحد کے دن انھیں تیس(30)
سے زیادہ زخم لگے۔
ان کی شہادت والی اور اس کے ساتھ والی انگلی شل ہو گئیں۔

ایک روایت میں ہے کہ جب حضرت طلحہ ؓ کی انگلی کٹ گئی تو انھوں نے حس یعنی سی کہا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اگر تم اللہ کا نام لیتے اور بسم اللہ کہتے تو فرشتے تمھیں اٹھا لیتے اور لوگ اس حالت میں تمھیں دیکھتے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو واپس کردیا۔
(سنن النسائي، الجهاد، حدیث: 3151)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4063]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3724
3724. حضرت قیس بن ابوحازم سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے حضرت طلحہ ؓ کا وہ ہاتھ دیکھا جو شل ہو چکا تھا، جس کے ذریعے سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرتے رہے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3724]
حدیث حاشیہ:

یہ واقعہ بھی غزوہ اُحد میں پیش آیا کہ اس لڑائی میں مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہچانا چاہا تو حضرت طلحہ ؓ نے اپنے ہاتھوں کو آپ پر ڈھال بنا دیا، یعنی تلواروں اور نیزوں کے وار اپنے ہاتھوں پر روکے۔
اسی وجہ سے ان کا ایک ہاتھ شل، یعنی بے حس وبےحرکت ہو گیا۔
غزوہ اُحد میں حضرت طلحہ ؓ کے جسم پر ستر سے زیادہ زخم آئے۔
(فتح الباري: 105/7)

صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں آپ طلحہ الفیاض، طلحہ الخیر اور طلحہ الجود کے القاب سے مشہورتھے۔
(عمدة القاري: 459/11)
آپ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص زمین پر چلتا پھرتا شہید دیکھناچاہے وہ طلحہ بن عبیداللہ کو دیکھ لے۔
(جامع الترمذي، المناقب، حدیث: 3739)

آپ کی شہادت جمادی الاخری 36 ہجری بمطابق 25 نومبر 656ءجنگ جمل میں ہوئی۔
شہادت کے وقت آپ کی عمر چونسٹھ برس تھی۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3724]