🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. بَابُ: {إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلاَ وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ} :
باب: جب تم میں سے دو جماعتیں ایسا ارادہ کر بیٹھتی تھیں کہ ہمت ہار دیں حالانکہ اللہ دونوں کا مددگار تھا اور ایمانداروں کو تو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4062
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ , حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ , قَالَ: سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ , قَالَ:" صَحِبْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ , وَطَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ , وَالْمِقْدَادَ , وَسَعْدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ , فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ عَنْ يَوْمِ أُحُدٍ".
ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے سائب بن یزید نے کہ میں، عبدالرحمٰن بن عوف، طلحہ بن عبیداللہ، مقداد بن اسود اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم کی صحبت میں رہا ہوں لیکن میں نے ان حضرات میں سے کسی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کرتے نہیں سنا۔ صرف طلحہ رضی اللہ عنہ سے غزوہ احد کے متعلق حدیث سنی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4062]
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں عبدالرحمٰن بن عوف، طلحہ بن عبیداللہ، مقداد (بن اسود) اور حضرت سعد (بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہم کا ساتھی رہا ہوں۔ میں نے ان میں سے کسی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا، البتہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ غزوۂ احد کے متعلق بیان کرتے تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4062]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
8861 9938

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥طلحة بن عبيد الله القرشي، أبو محمدصحابي
👤←👥السائب بن يزيد الكندي، أبو يزيد
Newالسائب بن يزيد الكندي ← طلحة بن عبيد الله القرشي
صحابي صغير
👤←👥محمد بن يوسف الأعرج، أبو عبد الله
Newمحمد بن يوسف الأعرج ← السائب بن يزيد الكندي
ثقة ثبت
👤←👥حاتم بن إسماعيل الحارثي، أبو إسماعيل
Newحاتم بن إسماعيل الحارثي ← محمد بن يوسف الأعرج
ثقة
👤←👥عبد الله بن أبي الأسود البصري، أبو بكر
Newعبد الله بن أبي الأسود البصري ← حاتم بن إسماعيل الحارثي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4062
صحبت عبد الرحمن بن عوف وطلحة بن عبيد الله والمقداد وسعدا م فما سمعت أحدا منهم يحدث عن النبي إلا أني سمعت طلحة يحدث عن يوم أحد
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4062 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4062
حدیث حاشیہ:
سائب بن یزید کا بیان ان کی اپنی مصاحبت تک ہے ورنہ کتب احادیث میں ان حضرات سے بھی بہت سی احادیث مروی ہیں۔
یہ ضرور ہے کہ جملہ صحابی کرام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث بیان کرنے میں کمال احتیا ط برتتے تھے۔
اس خوف سے کہ کہیں غلط بیانی کے مرتکب ہو کر زندہ دوزخی نہ بن جائیں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جو شخص میرا نام لے کر ایسی حدیث بیان کرے جو میں نے نہ کہی ہو وہ زندہ دوزخی ہے۔
پس اس سے منکرین حدیث کا استدلال باطل ہے۔
روایت میں غزوئہ احد کا ذکر ہے۔
باب سے یہی وجہ مطابقت ہے۔
قرآن مجید کے بعد صحیح مرفوع مستند حدیث کا تسلیم کرنا ہر مسلمان کے لیے فرض ہے جو شخص صحیح حدیث کا انکار کرے وہ قرآن ہی کا انکار ی ہے اور یہ کسی مسلمان کا شیوہ نہیں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4062]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4062
حدیث حاشیہ:
1۔
پہلی حدیث میں "بعض ایام"سے مراد احد کی جنگ ہےمہاجرین میں سے اکابر حضرات غزوات میں ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےہمرا ہ ہوا کرتے تھےلیکن غزوہ احد میں اس قدر گھمسان کا رن پڑا کہ حضرت طلحہ ؓ اور حضرت سعد ؓ کے علاوہ کوئی دوسرا مہاجر آپ کے ساتھ نہ رہا۔
گزشتہ حدیث کے مطابق حضرت مقداد ؓ ایسے کٹھن حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ موجود تھے لیکن وہ سخت حالات کے بعد حاضر ہوئے تھے۔
حدیث میں ان دونوں حضرات کی تخصیص مہاجرین کے اعتبار سے ہے کیونکہ صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد میں ایک مرتبہ ایسے حالات سے دوچار ہوئے کہ آپ کے ہمراہ سات انصار اور دو قریشی تھے۔
(صحیح مسلم، الفضائل، حدیث: 4641۔
(1789)
دو قریشی حضرات سے مراد حضرت طلحہ ؓ اور حضرت سعد ؓ ہیں مہاجرین میں سے صرف حضرت طلحہ اور حضرت سعد آپ کے ہمراہ تھے۔
2دوسری حدیث کے مطابق ان حضرات کے حدیث بیان نہ کرنے کا سبب یہ تھا کہ انھیں سہو و نسیان کا اندیشہ لاحق تھا کہ شاید ان سے غلطی ہو جائے۔
اس بنا پر وہ احادیث بیان کرنے میں احتیاط کرتے تھے نیز مذکورہ بیان حضرت سائب بن یزید ؓ کی اپنی مصاحبت تک ہے ورنہ کتب حدیث میں ان حضرات سے بھی بہت سی احادیث مروی ہیں البتہ یہ حضرات احتیاط ضرور کرتے تھے۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4062]

Sahih Bukhari Hadith 4062 in Urdu