یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. باب حك البزاق باليد من المسجد:
باب: مسجد میں تھوک لگا ہو تو ہاتھ سے اس کا کھرچ ڈالنا ضروری ہے۔
حدیث نمبر: 407
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي جِدَارِ الْقِبْلَةِ مُخَاطًا أَوْ بُصَاقًا أَوْ نُخَامَةً فَحَكَّهُ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے ہشام بن عروہ کے واسطہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے عائشہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی دیوار پر رینٹ یا تھوک یا بلغم دیکھا تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھرچ ڈالا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 407]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← هشام بن عروة الأسدي | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥عبد الله بن يوسف الكلاعي، أبو محمد عبد الله بن يوسف الكلاعي ← مالك بن أنس الأصبحي | ثقة متقن من أثبت الناس في الموطأ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
407
| رأى في جدار القبلة مخاطا أو بصاقا أو نخامة فحكه |
صحيح مسلم |
1227
| رأى بصاقا في جدار القبلة أو مخاطا أو نخامة فحكه |
سنن ابن ماجه |
764
| حك بزاقا في قبلة المسجد |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 407 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:407
حدیث حاشیہ:
حضرت انس ؓ کی روایت میں بلغم، حضرت ابن عمر ؓ سے مروی حدیث میں تھوک اور حضرت عائشہ ؓ کی روایت میں شک کے طور پر ناک کی رطوبت، تھوک اور بلغم کاذکر ہے۔
امام بخاری ؒ ان تینوں روایات کولاکر یہ بتاناچاہتے ہیں کہ منہ کا تھوک ہویاناک کی رطوبت یا سینے کا بلغم، تینوں ہی قابل نفرت چیزیں ہیں اور مسجد کے معاملے میں ان کا حکم برابر ہے۔
یہ چیزیں مسجد کے فرش پر نظر آئیں یا دیوار قبلہ پر، ترہوں یا خشک، احترام مسجد کے پیش نظر ضروری ہے کہ انھیں فوراً دور کردیا جائے، یہ ہر دیکھنے والے کے ذمے داری ہے، مسجد کے خادم یا مؤذن کا انتظار نہ کیا جائے۔
اس سے نمازیوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے، لہذا انھیں کسی صورت میں بھی برقرار نہ رکھا جائے۔
حضرت انس ؓ کی روایت میں بلغم، حضرت ابن عمر ؓ سے مروی حدیث میں تھوک اور حضرت عائشہ ؓ کی روایت میں شک کے طور پر ناک کی رطوبت، تھوک اور بلغم کاذکر ہے۔
امام بخاری ؒ ان تینوں روایات کولاکر یہ بتاناچاہتے ہیں کہ منہ کا تھوک ہویاناک کی رطوبت یا سینے کا بلغم، تینوں ہی قابل نفرت چیزیں ہیں اور مسجد کے معاملے میں ان کا حکم برابر ہے۔
یہ چیزیں مسجد کے فرش پر نظر آئیں یا دیوار قبلہ پر، ترہوں یا خشک، احترام مسجد کے پیش نظر ضروری ہے کہ انھیں فوراً دور کردیا جائے، یہ ہر دیکھنے والے کے ذمے داری ہے، مسجد کے خادم یا مؤذن کا انتظار نہ کیا جائے۔
اس سے نمازیوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے، لہذا انھیں کسی صورت میں بھی برقرار نہ رکھا جائے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 407]
Sahih Bukhari Hadith 407 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق