یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب حديث الإفك:
باب: واقعہ افک کا بیان۔
حدیث نمبر: 4145
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدَةُ , عَنْ هِشَامٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: ذَهَبْتُ أَسُبُّ حَسَّانَ عِنْدَ عَائِشَةَ , فَقَالَتْ: لَا تَسُبَّهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَتْ عَائِشَةُ: اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ , قَالَ:" كَيْفَ بِنَسَبِي؟" قَالَ: لَأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعَرَةُ مِنَ الْعَجِينِ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ , حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ فَرْقَدٍ , سَمِعْتُ هِشَامًا , عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَبَبْتُ حَسَّانَ وَكَانَ مِمَّنْ كَثَّرَ عَلَيْهَا.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو برا کہنے لگا تو انہوں نے کہا کہ انہیں برا نہ کہو ‘ کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کفار کو جواب دیتے تھے اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین قریش کی ہجو کہنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میرے نسب کا کیا ہو گا؟ حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آپ کو ان سے اس طرح الگ کر لوں گا جیسے بال گندھے ہوئے آٹے سے کھینچ لیا جاتا ہے۔ اور محمد بن عقبہ (امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ) نے بیان کیا ‘ ہم سے عثمان بن فرقد نے بیان کیا ‘ کہا میں نے ہشام سے سنا ‘ انہوں نے اپنے والد سے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا کیونکہ انہوں نے بھی عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے میں بہت حصہ لیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4145]
حضرت عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے لگا تو انہوں نے فرمایا: ”ان کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتے تھے۔““ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی مذمت کرنے کے متعلق اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے نسب کا کیا کرو گے؟“ انہوں نے عرض کی: ”میں آپ کو ان سے ایسے نکال لوں گا جیسا کہ گوندھے ہوئے آٹے سے بال نکال لیا جاتا ہے۔““ دوسری سند کے ساتھ حضرت عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا کیونکہ وہ واقعہ افک میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق بہت کچھ کہا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4145]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4145
| لا تسبه فإنه كان ينافح عن رسول الله استأذن النبي في هجاء المشركين كيف بنسبي قال لأسلنك منهم كما تسل الشعرة من العجين |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4145 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4145
حدیث حاشیہ:
1۔
حضرت حسن بن ثابت ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ثناء خواہ اور مداح تھے اور آپ سے والہانہ محبت بھی کرتے تھے اس کے باوجود انھوں نے حضرت عائشہ ؓ پر بہتان لگانے والوں میں شرکت کی جس کی انھیں عمر بھر ندامت رہی لیکن حد قذف کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسے گناہ کا کفارہ بنا دیا۔
2۔
حضرت عائشہ ؓ کو یہ پسند نہ تھا کہ ان کی موجودگی میں حضرت حسان ؓ کو سخت الفاظ میں یاد کیا جائے۔
آپ فرماتی تھیں۔
حضرت حسان ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مداح تھے اور کفارکی ہجو کا جواب دیتے تھے۔
بہرحال ان حضرات کا دشمنان دین کی باتوں سے اتفاق کرنا کسی بھی صورت میں صحیح نہ تھا۔
1۔
حضرت حسن بن ثابت ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ثناء خواہ اور مداح تھے اور آپ سے والہانہ محبت بھی کرتے تھے اس کے باوجود انھوں نے حضرت عائشہ ؓ پر بہتان لگانے والوں میں شرکت کی جس کی انھیں عمر بھر ندامت رہی لیکن حد قذف کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسے گناہ کا کفارہ بنا دیا۔
2۔
حضرت عائشہ ؓ کو یہ پسند نہ تھا کہ ان کی موجودگی میں حضرت حسان ؓ کو سخت الفاظ میں یاد کیا جائے۔
آپ فرماتی تھیں۔
حضرت حسان ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مداح تھے اور کفارکی ہجو کا جواب دیتے تھے۔
بہرحال ان حضرات کا دشمنان دین کی باتوں سے اتفاق کرنا کسی بھی صورت میں صحیح نہ تھا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4145]
Sahih Bukhari Hadith 4145 in Urdu
هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي