🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب حديث الإفك:
باب: واقعہ افک کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4144
حَدَّثَنِي يَحْيَى , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:" كَانَتْ تَقْرَأُ إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ سورة النور آية 15 وَتَقُولُ الْوَلْقُ الْكَذِبُ. قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: وَكَانَتْ أَعْلَمَ مِنْ غَيْرِهَا بِذَلِكَ لِأَنَّهُ نَزَلَ فِيهَا.
مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ‘ ان سے نافع بن عمر نے ‘ ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا (سورۃ النور کی آیت میں) قرآت «إذ تلقونه بألسنتكم‏» کرتی تھیں اور (اس کی تفسیر میں) فرماتی تھیں کہ «الولق» جھوٹ کے معنی میں ہے۔ ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان آیات کو دوسروں سے زیادہ جانتی تھیں کیونکہ وہ خاص ان ہی کے باب میں اتری تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4144]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الله بن أبي مليكة القرشي، أبو محمد، أبو بكر
Newعبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥نافع بن عمر الجمحي، أبو معشر
Newنافع بن عمر الجمحي ← عبد الله بن أبي مليكة القرشي
ثقة ثبت
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← نافع بن عمر الجمحي
ثقة حافظ إمام
👤←👥يحيى بن جعفر البيكندي، أبو زكريا
Newيحيى بن جعفر البيكندي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4144 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4144
حدیث حاشیہ:

عام قراءت (تَلَقَّوْنَهُ)
ہے جو (تلقي)
سے ماخوذ ہے جس کے معنی لینا اور قبول کرنا ہیں، جبکہ حضرت عائشہ ؓ کے نزدیک (تَلِقُونَه)
ہے جو ولق سے مشتق ہے۔
اس کے معنی جھوٹ بولنے میں جلدی کرنا ہیں لیکن پہلی قراءت متواتر ہے اور سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کے متعلق اس آیت کا نازل ہونا یہ معنی نہیں رکھتا کہ ان کی قرآءت متواتر اور صحیح ہے۔

قراءت متواتر ہ میں ایک تاکو خذف کردیا گیا ہے۔
اصل میں (تتلقونه)
فعل مضارع کا صیغہ ہے۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4144]