صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب حديث الإفك:
باب: واقعہ افک کا بیان۔
حدیث نمبر: 4144
حَدَّثَنِي يَحْيَى , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:" كَانَتْ تَقْرَأُ إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ سورة النور آية 15 وَتَقُولُ الْوَلْقُ الْكَذِبُ. قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: وَكَانَتْ أَعْلَمَ مِنْ غَيْرِهَا بِذَلِكَ لِأَنَّهُ نَزَلَ فِيهَا.
مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ‘ ان سے نافع بن عمر نے ‘ ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا (سورۃ النور کی آیت میں) قرآت «إذ تلقونه بألسنتكم» کرتی تھیں اور (اس کی تفسیر میں) فرماتی تھیں کہ «الولق» جھوٹ کے معنی میں ہے۔ ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان آیات کو دوسروں سے زیادہ جانتی تھیں کیونکہ وہ خاص ان ہی کے باب میں اتری تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4144]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے ﴿إِذْ تَلِقُونَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ﴾ [سورة النور: 15] پڑھا، یعنی ”جس وقت تم اپنی زبانوں سے جھوٹ بولتے تھے“، اور فرمایا: ” «وَلَقَ» کے معنی جھوٹ کے ہیں۔“ ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ نے کہا: ”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس قراءت کو دوسروں کی نسبت زیادہ جاننے والی تھیں کیونکہ یہ آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4144]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4144 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4144
حدیث حاشیہ:
1۔
عام قراءت (تَلَقَّوْنَهُ)
ہے جو (تلقي)
سے ماخوذ ہے جس کے معنی لینا اور قبول کرنا ہیں، جبکہ حضرت عائشہ ؓ کے نزدیک (تَلِقُونَه)
ہے جو ولق سے مشتق ہے۔
اس کے معنی جھوٹ بولنے میں جلدی کرنا ہیں لیکن پہلی قراءت متواتر ہے اور سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کے متعلق اس آیت کا نازل ہونا یہ معنی نہیں رکھتا کہ ان کی قرآءت متواتر اور صحیح ہے۔
2۔
قراءت متواتر ہ میں ایک تاکو خذف کردیا گیا ہے۔
اصل میں (تتلقونه)
فعل مضارع کا صیغہ ہے۔
واللہ اعلم۔
1۔
عام قراءت (تَلَقَّوْنَهُ)
ہے جو (تلقي)
سے ماخوذ ہے جس کے معنی لینا اور قبول کرنا ہیں، جبکہ حضرت عائشہ ؓ کے نزدیک (تَلِقُونَه)
ہے جو ولق سے مشتق ہے۔
اس کے معنی جھوٹ بولنے میں جلدی کرنا ہیں لیکن پہلی قراءت متواتر ہے اور سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کے متعلق اس آیت کا نازل ہونا یہ معنی نہیں رکھتا کہ ان کی قرآءت متواتر اور صحیح ہے۔
2۔
قراءت متواتر ہ میں ایک تاکو خذف کردیا گیا ہے۔
اصل میں (تتلقونه)
فعل مضارع کا صیغہ ہے۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4144]
Sahih Bukhari Hadith 4144 in Urdu
عبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق