یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب غزوة الحديبية:
باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4149
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ , أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ , قَالَ:" انْطَلَقْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ وَلَمْ أُحْرِمْ".
ہم سے سعید بن ربیع نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے علی بن مبارک نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے ‘ ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلح حدیبیہ کے سال روانہ ہوئے ‘ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے احرام باندھ لیا تھا لیکن میں نے ابھی احرام نہیں باندھا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4149]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حدیبیہ کے سال روانہ ہوئے۔ آپ کے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے احرام باندھا تھا لیکن میں نے احرام نہیں باندھا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4149]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4149
| انطلقنا مع النبي عام الحديبية فأحرم أصحابه ولم أحرم |
صحيح مسلم |
2854
| انطلق أبي مع رسول الله عام الحديبية فأحرم أصحابه ولم يحرم |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4149 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4149
حدیث حاشیہ:
امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو انتہائی اختصار سے بیان کیا ہے جبکہ قبل ازیں مفصل طور پر بیان ہوچکی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حدیبیہ جاتے ہوئے بتایا گیا کہ مقام غیقہ میں دشمن حملہ کرنے کی تیاری کررہا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند ایک صحابہ کرام ؓ کو اس طرف بھیجا، جن میں حضرت ابوقتادہ ؓ بھی تھے، انھوں نے ابھی احرام نہیں باندھا تھا، راستے میں انھوں نے ایک جنگلی گدھا شکار کیا اور اس کا کچھ حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے اسے قبول فرمایا اور دیگرمحرم صحابہ ؓ کو بھی دکھانے کا حکم دیا۔
(صحیح البخاري، جزاء الصید، حدیث: 1822)
امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو انتہائی اختصار سے بیان کیا ہے جبکہ قبل ازیں مفصل طور پر بیان ہوچکی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حدیبیہ جاتے ہوئے بتایا گیا کہ مقام غیقہ میں دشمن حملہ کرنے کی تیاری کررہا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند ایک صحابہ کرام ؓ کو اس طرف بھیجا، جن میں حضرت ابوقتادہ ؓ بھی تھے، انھوں نے ابھی احرام نہیں باندھا تھا، راستے میں انھوں نے ایک جنگلی گدھا شکار کیا اور اس کا کچھ حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے اسے قبول فرمایا اور دیگرمحرم صحابہ ؓ کو بھی دکھانے کا حکم دیا۔
(صحیح البخاري، جزاء الصید، حدیث: 1822)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4149]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2854
حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حدیبیہ والے سال میرے باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے، ان کے ساتھیوں نے احرام باندھا اور انہوں نے احرام نہ باندھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ دشمن غیقہ نامی جگہ میں گھات میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہو گئے، ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں اس دوران میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ تھا، وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنس رہے تھے، ناگہاں میں نے دیکھا تو میری نظر ایک... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2854]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ مکرمہ کی طرف روانگی کے بعد،
اہل مدینہ کو پتہ چلا کہ دشمن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھات میں ہے۔
اس لیے حضرت اس لیے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بھیجا گیا کہ وہ جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دیں کہ دشمن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنا چاہتا ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مقام روحاء سے پہلے جا ملا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک جماعت کے ساتھ دشمن کی خبر گیری کے لیے ساحل سمندر کی طرف بھیج دیا چونکہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ عمرہ کی نیت سے نہیں نکلے تھے اس لیے وہ غیر محرم تھے اور باقی ساتھی محرم تھے وہ دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام قاحہ میں جا ملے۔
وہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقہ کی وصولی کے لیے بھیجا پھر وہ واپس آ کرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ساتھیوں سے جو پیچھے رہ گئے آ ملے اور یہ شکار کا معاملہ پیش آ گیا شکار کے سلسلہ میں ساتھیوں نے ان کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہیں کیا تھا اس لیے انہوں نے اپنے لیے شکار کیا بعد میں ساتھیوں کو کھانے کی دعوت دی بعض نے قبول کرلی اوربعض نے رد کردی،
کیونکہ وہ سمجھتے تھے محرم کے لیے شکار کرنا جائز نہیں ہے تو شاید کھانا بھی جائز نہ ہو،
بعد میں یہ معاملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے کی اجازت مرحمت فرمائی اور ان کے اطمینان وتشفی کے لیے فرمایا اگرکچھ بقایا ہے تو ہمیں بھی پیش کروجیسا کہ آگے آ رہا ہے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تناول فرمایا۔
فوائد ومسائل:
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ مکرمہ کی طرف روانگی کے بعد،
اہل مدینہ کو پتہ چلا کہ دشمن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھات میں ہے۔
اس لیے حضرت اس لیے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بھیجا گیا کہ وہ جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دیں کہ دشمن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنا چاہتا ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مقام روحاء سے پہلے جا ملا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک جماعت کے ساتھ دشمن کی خبر گیری کے لیے ساحل سمندر کی طرف بھیج دیا چونکہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ عمرہ کی نیت سے نہیں نکلے تھے اس لیے وہ غیر محرم تھے اور باقی ساتھی محرم تھے وہ دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام قاحہ میں جا ملے۔
وہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقہ کی وصولی کے لیے بھیجا پھر وہ واپس آ کرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ساتھیوں سے جو پیچھے رہ گئے آ ملے اور یہ شکار کا معاملہ پیش آ گیا شکار کے سلسلہ میں ساتھیوں نے ان کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہیں کیا تھا اس لیے انہوں نے اپنے لیے شکار کیا بعد میں ساتھیوں کو کھانے کی دعوت دی بعض نے قبول کرلی اوربعض نے رد کردی،
کیونکہ وہ سمجھتے تھے محرم کے لیے شکار کرنا جائز نہیں ہے تو شاید کھانا بھی جائز نہ ہو،
بعد میں یہ معاملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے کی اجازت مرحمت فرمائی اور ان کے اطمینان وتشفی کے لیے فرمایا اگرکچھ بقایا ہے تو ہمیں بھی پیش کروجیسا کہ آگے آ رہا ہے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تناول فرمایا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2854]
Sahih Bukhari Hadith 4149 in Urdu
عبد الله بن أبي قتادة الأنصاري ← الحارث بن ربعي السلمي